افسانہ

کیا یہی زندگی تھی

امرحہ کھڑکی سے جھانک رہی تھی کہ کیا خوبصورت منظر تھا سب لوگ مل بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔ پاس ہی ان کے گھوڑے چر رہے تھے آس پاس کے گھروں کی چمنیوں سے دھویں کے مرغولے اٹھ رہے تھے ۔۔ شاید کھانے کی تیاری ہو رہی تھی ۔۔ خوب رونق کا ۔۔۔

درد بھی کھینچ میری تصویر کے ساتھ

فٹ پاتھ پر بیٹھی وہ لڑکی، جو گاڑی کا انتظار کر رہی تھی ۔ایک عجیب سی خوبصورتی کی مالک تھی، مگر اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی اور گہرائی تھی جیسے اس نے صدیوں کا سفر طے کیا ہو۔ وہ سادہ سے گھسے سوٹ میں دوپٹہ سنبھالے، بنا میک اپ کے بیٹھی تھی۔اس کی سادگی ۔۔۔

زندگی کی بہار ہو تم

وہ اپنے کمرے کے ساتھ بنی بالکنی میں کھڑی تھی۔ بہت سی سوچیں اس کے دماغ کا احاطہ کیے ہوۓ تھیں۔ اپنا بچپن، اپنی ذات سے جڑے رشتے، اپنی محرومیاں، تنہایاں، اذیتیں، غم کیا کچھ اسے یاد آرہا تھا سبھی کچھ وہ شاید آج یاد کر لینا چاہتی تھی شاید اس لیے کہ دوبارہ کبھی ۔۔۔

اولاد کا دکھ

اس کا باپ محنت مزدوری کرتا تھا ، اتنے برے حالات بھی نہیں تھے گزارا اچھا ہو رہا تھا ، اس کی ماں زمین دار کے گھر کام کرنے جاتی دو وقت کا کھانا ادھر سے ہی آ جاتا ، ان دونوں بہن بھائیوں کا بھی چوہدرائن بہت خیال رکھتی ، اس نے ان کی ۔۔۔

خون میں رنگا فلسطین

فلسطین… آہ! یہ نام زبان پر آتے ہی دل کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں، اور سینے سے ایک دبی دبی کراہ نکلتی ہے، جو زمین و آسمان سے انصاف کی فریاد کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا درد ہے جو الفاظ میں نہیں سمویا جا سکتا، صرف آنکھوں کی نمی اور دل کی تڑپ بیان ۔۔۔

م سے محبت

مائدہ ایک حساس، محبت کرنے والی اور جذباتی طور پر گہری سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔ وہ ہر چیز کو دل کی گہرائی سے محسوس کرتی تھی، چاہے وہ بارش کی بوندیں ہوں، مہندی کی خوشبو ہو، یا چوڑیوں کی کھنک۔ اسے بارش میں بھیگنا پسند تھا، کیونکہ اسے لگتا تھا کہ بارش میں ہر ۔۔۔

سکونِ قلب

اپنی نظروں کے سامنے موجود منظر دیکھ کر فاطمہ کو اُس دن پہلی بار محسوس ہوا کہ قدموں تلے زمین کیسے نکلتی ہے اور ہم کس طرح کسی بھی حیران کن منظر کو دیکھ کر خوف محسوس کرتے ہیں۔ اپنے کانپتے ہاتھوں سے چادر سنبھالتی ہوئی، فاطمہ نے دور پڑی اندھیرے میں موجود کرسی کا ۔۔۔

یاد ماضی

افسانہ یاد ماضی لکھاریہ اقصیٰ باجوہ مہرین اپنے کمرے میں تنہا بیٹھی یاد ماضی میں گم خود سے ہمکلامی کے انداز میں مخاطب ہو کر میں پھر سے وہی لمحات تمہارے سنگ جینا چاہتی ہوں ۔مجھے آج بھی یاد بابل کے گھر سے رخصتی کے بعددوران سفر جب میں نے اپنے ساتھ بیٹھی عورت کو ۔۔۔

افسانہ۔ وظیفہ

وظیفہ رشنا اختر مجھے کوئی ایسا عامل بتاؤ جو میرا کام منٹوں میں کر دے ۔ سکھاں نے اپنی پیاری سہیلی مراداں سے کہا ۔ اس کا لہجہ غمگین تھا ۔ ٹھیک ہے میں تمہیں آج شام ہی عامل بابا کے پاس لے جاؤں گی وہ تجھے تیرے مسئلے کا حل ضرور بتائیں گے ۔مراداں ۔۔۔

پیاری زویا کی سچی کہانی

پیاری زویا کی سچی کہانی لکھاریہ شریٰ نواز 1975 آج زویا بہت بے قرار تھی، بے قراری سے پورے گھر میں گھوم پھر رہی تھی اور دل میں کچھ دعائیں مانگ رہی تھی، کبھی امی کے پاس آتی۔ “امی جان! دعا کریں نا! کبھی بھابی کے پاس جا پہنچتی: “بھابی! دعا کریں”۔ اس کی بے ۔۔۔

رت بدلنے والی ہے (افسانہ)

“رُت بدلنے والی ہے” (افسانہ) رُشنا اختر (محمود کوٹ) وہ کونے کھدروں کی صفائی سے فارغ ہو کے کمر سیدھی کرنے کے لیے چارپائی پر لیٹی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ “افوہ اس وقت کس کی ٹانگوں میں درد ہے کہ گھر بیٹھنا گوارا نہیں کیا اور ادھر آ دھمکا”۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے ۔۔۔
@