جنرل عاصم منیرکی مدبر قیادت اور مثبت کردار

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو کسی مشکل وقت کا سامنا ہوا، ہماری مسلح افواج نے ہر محاذ پر اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ملکی دفاع ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، قدرتی آفات میں عوام کی مدد ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کا معاملہ ہو، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی ادارے کی قیادت اس وقت فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے، جو سنجیدگی، وقار اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔جنرل عاصم منیر ایک منجھے ہوئے فوجی افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ ان کی شخصیت میں سادگی، نظم و ضبط، دیانتداری اور قومی خدمت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی خوبیاں ایک بڑے رہنما کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
حالیہ دنوں مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور جنگی حالات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا رکھا۔ اس خطے کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ یہاں ہونے والے واقعات کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت، امن اور سیاسی صورتحال پر بھی پڑتے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے ہمیشہ کی طرح ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا مؤقف نہایت متوازن، دانشمندانہ اور امن پسند رہا۔
پاکستان نے ہمیشہ یہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگ سے صرف تباہی، انسانی جانوں کا نقصان، معاشی بحران اور نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ اصل حل مذاکرات، تحمل اور سفارتی کوششوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے بھی اسی سوچ کو آگے بڑھایا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان امن، استحکام اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے دوران جنرل عاصم منیر کا کردار اس لحاظ سے بھی مثبت رہا کہ انہوں نے قومی سلامتی کے معاملات پر بھرپور توجہ دی۔ جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے تو ہر ذمہ دار ملک اپنی سرحدوں، دفاعی تیاریوں اور داخلی استحکام پر نظر رکھتا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے ایک ذمہ دار سپہ سالار کے طور پر تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا اور قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔
ایک بڑی قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے عملی فیصلے کرتی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا کہ مضبوط قیادت شور سے نہیں بلکہ خاموش محنت، درست فیصلوں اور بروقت اقدامات سے پہچانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی قیادت کو ملک کے اندر اور باہر سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔
جنرل عاصم منیر کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی سادگی اور کم گوئی بھی ہے۔ وہ غیر ضروری تشہیر سے دور رہتے ہیں اور زیادہ تر توجہ اپنے کام پر رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں اکثر لوگ نمود و نمائش کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں ایسی شخصیت کا سامنے آنا خوش آئند بات ہے جو الفاظ سے زیادہ عمل پر یقین رکھتی ہو۔پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف معاشی مسائل ہیں، دوسری طرف خطے کی بدلتی صورتحال ہے۔ ایسے وقت میں ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، استحکام اور مضبوط قیادت کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنے منصب سنبھالنے کے بعد یہی کوشش کی کہ ملک میں استحکام پیدا ہو اور قومی ادارے اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کریں۔
قومیں صرف ہتھیاروں سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ اتحاد، نظم و ضبط اور درست قیادت سے ترقی کرتی ہیں۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہ پیغام واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، باوقار اور امن پسند ملک ہے جو اپنے دفاع سے غافل نہیں مگر جنگ کا خواہش مند بھی نہیں۔ یہی توازن ایک بالغ نظر قیادت کی نشانی ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگی صورتحال کے دوران پاکستان کے مثبت مؤقف نے دنیا میں بہت اچھا تاثر دیا اور پوری دنیا نے پاکستان کے کردار کو مانا ہے۔ ایسا تاثر اور ایسا کردار اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ریاستی قیادت سنجیدہ، سمجھدار اور قومی مفاد سے وابستہ ہو جنرل عاصم منیر نے انہی اصولوں کے مطابق اپنے فرائض انجام دیے اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا جانتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جنرل عاصم منیر ایک باصلاحیت، محنتی اور ذمہ دار سپہ سالار ہیں۔ انہوں نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران مثبت، متوازن اور قومی مفاد پر مبنی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے امن، ذمہ داری اور استحکام کا پیغام دیا، جو نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے امید افزا بھی ہے۔
تحریر ۔ایم ایم علی

4,078 total views, 69 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *