ماں کا ایک روپ یہ بھی ہے؟
ماں کو دنیا میں محبت، قربانی، شفقت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی ماں کا نام آتا ہے تو ذہن میں ایسی ہستی کا تصور ابھرتا ہے جو اپنی اولاد کے لیے ہر دکھ سہہ لیتی ہے، خود بھوکی رہ کر بچوں کو کھلاتی ہے، خود جاگ کر ان کی نیند پوری کرتی ہے اور ہر خطرے کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مگر کبھی کبھی معاشرے میں ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو انسان کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔
حال ہی میں ایک ایسا افسوسناک سانحہ اچھرہ لاہور میں سامنے آیا جس نے ہر حساس دل کو غمزدہ کر دیا۔ چند لمحوں کی ایک ویڈیو میں ایک عورت کا جملہ سننے کو ملا: “کیا آپ کے بچے نہیں ہیں؟” یہ جملہ سننے والوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ لیکن جب پولیس تفتیش نے حقیقت سے پردہ اٹھایا تو معاملہ اور بھی دردناک نکلا۔ اطلاعات کے مطابق اسی عورت نے اپنے تین کمسن بچوں کو قتل کر دیا۔ بتایا گیا کہ پہلے ایک بچی کو سوتے میں مارا گیا، پھر ایک بیٹے کی جان لی گئی اور آخر میں تیسرے بچے کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
یہ خبر سن کر پورا معاشرہ جیسے ساکت ہو گیا۔ تین معصوم جانوں کا چلے جانا ہی کم دکھ نہ تھا، مگر جب معلوم ہوا کہ قاتل کوئی اور نہیں بلکہ ان کی اپنی ماں ہے تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ماں جسے بچوں کے لیے سایہ سمجھا جاتا ہے، اگر وہی سایہ اندھیرا بن جائے تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے حالات، دباؤ، ذہنی کیفیت یا سماجی خرابیاں ہیں جو ایک عورت کو اس حد تک لے جاتی ہیں؟ کیا گھریلو جھگڑے، ظلم، غربت، ذہنی بیماری، غلط صحبت یا کسی کے بہکاوے نے اسے اس مقام تک پہنچایا؟ اگر ایسا ہے تو پھر ذمہ داری صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ ان تمام لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو اس ماحول کا حصہ تھے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر عورتوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ گھریلو تشدد، ذہنی دباؤ، معاشی پریشانی، شوہر کا ظلم، خاندان کی بے رخی اور جعلی عاملوں، پیروں کے چکر میں پھنس جانا،یا سوشل میڈیا پر کسی سے دوستی ہو جانا ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی کمزور ذہن کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اگر کسی عورت کی ذہنی حالت خراب تھی تو اس کی بروقت مدد کیوں نہ کی گئی؟ اگر اس پر ظلم ہو رہا تھا تو اسے تحفظ کیوں نہ ملا؟ اگر کوئی اسے گمراہ کر رہا تھا تو اسے روکا کیوں نہ گیا؟
اس سانحے میں صرف ایک عورت کو سزا دینا کافی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسے سانحات اچانک نہیں ہوتے، ان کے پیچھے کئی خاموش وجوہات ہوتی ہیں۔
قانون کا کام صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ معاشرے کو سبق دینا بھی ہے۔ اس واقعے کے تمام کرداروں کو نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی معصوم بچہ ایسی درندگی کا شکار نہ ہو۔ بچوں کا تحفظ ریاست، خاندان اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ماں کا اصل روپ محبت ہے، نفرت نہیں۔ ماں کا اصل چہرہ دعا ہے، بددعا نہیں۔ ماں کی گود امن ہے، خوف نہیں۔ لیکن جب حالات، جہالت، ظلم ، ذہنی بیماری یا پھر کوئی بھی اور وجہ اس رشتے پر سیاہ سایہ ڈال دے تو پھر ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف افسوس نہ کریں بلکہ اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں ایسے مسائل کو بروقت پہچانیں۔ عورتوں کی ذہنی صحت، گھریلو سکون، بچوں کے تحفظ اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنائیں۔ ورنہ آج اگر ہم خاموش رہے تو کل کسی اور گھر سے بھی ایسی ہی دردناک خبر آ سکتی ہے۔
ماں واقعی رحمت ہے، لیکن جب معاشرے میں ایسے واقعات نظروں سے گزرتے ہیں تو پھر یہ سوال اٹھتا ہےکہ۔کیا ماں کا ایک روپ یہ بھی ہے؟
تحریر.ایم ایم علی
4,160 total views, 63 views today
























Leave a Reply