م سے محبت

مائدہ ایک حساس، محبت کرنے والی اور جذباتی طور پر گہری سوچ رکھنے والی لڑکی تھی۔ وہ ہر چیز کو دل کی گہرائی سے محسوس کرتی تھی، چاہے وہ بارش کی بوندیں ہوں، مہندی کی خوشبو ہو، یا چوڑیوں کی کھنک۔ اسے بارش میں بھیگنا پسند تھا، کیونکہ اسے لگتا تھا کہ بارش میں ہر دکھ دھل جاتا ہے۔ اسے رنگ برنگی پتنگوں سے انسیت تھی اور اکثر سوچتی تھی کہ “میں بھی ایک پتنگ ہوں، جو ہوا کے دوش پر اُڑتی جا رہی ہوں۔”

مائدہ کی شخصیت کی سب سے منفرد بات اس کا خلوص تھا۔ وہ اپنے ہر رشتے کو پوری نیک نیتی اور محبت سے نبھاتی، مگر بدلے میں کبھی کچھ نہیں مانگتی تھی۔ شاید اسی لیے وہ اکثر اپنی احساسات کی شدت میں خود کو تکلیف دے بیٹھتی تھی۔

مائدہ ایک اوور تھنکر تھی—یعنی جو کچھ بھی ہوتا، وہ اس کے بارے میں گھنٹوں سوچتی رہتی۔ اگر کوئی اس سے محبت سے بات کرتا، تو وہ دن رات اس پر غور کرتی کہ “کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟” اگر کوئی اسے نظر انداز کرتا، تو وہ ہر لمحہ یہی سوچتی کہ “میں نے ایسا کیا کیا جس کی وجہ سے یہ شخص بدل گیا؟”

مائدہ کو کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ خوبصورت ہے۔ وہ آئینے میں خود کو دیکھتی لیکن اسے سب معمولی ہی لگتا کبھی احساس نہیں ہوا کہ اس کی آنکھوں میں وہ چمک ہے جو کچھ دلوں کو قید کر سکتی ہے۔ وہ دوسروں کی خوبصورتی پر حیران ہوتی، مگر کبھی اپنی تعریف سننے کی عادی نہیں تھی
آرٹس کونسل میں آج ایک بڑی ادبی نشست ہو رہی تھی۔ مشہور شاعر، ادیب، اور فنکار وہاں موجود تھے۔ مائدہ اپنی دوست کے اصرار پر اس نشست میں آئی تھی، کیونکہ یہ محفل ان لوگوں کے لیے تھی جو الفاظ کی خوبصورتی کو سمجھتے تھے، جو جذبات کو کاغذ پر اتارنا جانتے تھے۔

ہال میں مدھم روشنی تھی، اور سامعین گہری توجہ سے مقررین کی گفتگو سن رہے تھے۔ مائدہ اپنی نشست پر بیٹھی، ہاتھ میں قلم اور نوٹ پیڈ تھامے، ہر خوبصورت جملے کو لکھ رہی تھی۔ وہ خود بھی لکھنا چاہتی تھی، مگر ابھی وہ بس سیکھنے کے مرحلے میں تھی۔

اسی دوران، اسٹیج پر ایک مشہور شاعر نے سامعین سے ایک سوال کیا:

“لکھنے والے کے لیے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟”

ہال میں کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر کسی نے جواب دیا:

“احساس!”

مائدہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ یہ وہی لفظ تھا جو اس کے دل میں بھی گونج رہا تھا۔

ہال کے دوسرے کونے میں کھڑا حمزہ بھی اس نشست میں شریک تھا، مگر اس کی توجہ مقررین پر نہیں تھی۔ اس کی نظریں سامعین میں موجود خواتین کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں

یہ پہلی بار نہیں تھا کہ حمزہ نے کسی لڑکی کو دیکھا ہو، مگر آج جو اس نے دیکھا، وہ کچھ مختلف تھا۔

مائدہ بہت خوبصورت تھی، مگر اس کا حسن روایتی نہیں تھا، بلکہ وہ اس کی سادگی، اس کی معصومیت اور گہری سوچ میں چھپا تھا۔ وہ صرف سامع نہیں تھی، وہ ہر لفظ کو اپنی روح میں اتار رہی تھی، اور یہی بات حمزہ کو سب سے زیادہ متاثر کر گئی۔

“یہ لڑکی آسانی سے قابو میں نہیں آئے گی، مگر اگر قابو آ گئی تو مکمل طور پر!”

حمزہ کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئ۔

جب پہلا سیشن ختم ہوا اور لوگ چائے کے وقفے کے لیے باہر جانے لگے، مائدہ بھی اپنی نشست سے اٹھی۔ وہ اپنی نوٹس سمیٹ رہی تھی کہ اچانک ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔

“آپ بھی لکھتی ہیں؟”

مائدہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ اس کے سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا، آنکھوں میں تجسس لیے۔

“جی… کبھی کبھار۔” مائدہ نے دھیرے سے جواب دیا۔

“کبھی کبھار نہیں، مجھے لگتا ہے کہ آپ روز لکھتی ہیں، مگر صرف اپنے دل کے اندر۔ آپ کی آنکھیں بتاتی ہیں کہ آپ جذبات کو گہرائی سے محسوس کرتی ہیں۔”

یہ الفاظ سیدھے مائدہ کے دل میں اتر گئے۔

“میں حمزہ ہوں، ایک لکھاری۔”

“مائدہ…”

“خوبصورت نام ہے۔ لگتا ہے کہ خوبصورت تحریریں بھی لکھتی ہوں گی؟”

مائدہ نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ “ابھی نہیں، میں سیکھ رہی ہوں۔”

“یہی تو خاص بات ہے۔ جو سیکھنے کی خواہش رکھے، وہ سب سے قیمتی ہوتا ہے۔”

یہ جملہ سیدھا مائدہ کے دل میں جا بیٹھا۔

“کیا واقعی میں خاص ہوں؟” یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اپنے بارے میں ایسا سوچا۔
مختلف مواقع پر ان کی ملاقات ہوتی رہی اور آہستہ آہستہ یہ ملاقاتیں بڑھیں پھر ایک دوسرے سے نمبرز کا تبادلہ ہوا ۔

حمزہ ہر بار مائدہ کی تعریف کرتا، خاص طور پر اس کی سوچ، اس کی حساسیت، اور اس کی الگ شخصیت کی۔
وہ اسے بار بار یقین دلاتا کہ “تم ان عام لڑکیوں جیسی نہیں ہو، تم میں کچھ خاص ہے۔”
وہ اس سے محبت، خوابوں، اور رشتوں کے بارے میں لمبی لمبی باتیں کرتا، جو مائدہ کے دل کو مزید کھینچ لیتی۔
اور مائدہ؟
ہر رات اپنے بستر پر لیٹ کر ان باتوں کے بارے میں سوچتی رہتی۔
“حمزہ واقعی میرے بارے میں اتنا سوچتا ہے؟”
“کیا وہ واقعی سچا ہے؟ یا میں زیادہ سوچ رہی ہوں؟”
“یہ جو میں محسوس کر رہی ہوں، کیا یہ محبت ہے؟”
حمزہ ایک ایسا شخص تھا جو ظاہر میں خوش اخلاق، مہذب اور نہایت پرکشش شخصیت کا مالک تھا، لیکن اس کی اصل شخصیت اس کے ظاہر سے بالکل مختلف تھی۔ لوگ اسے ایک بااخلاق، باادب اور گہری سوچ رکھنے والا انسان سمجھتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ ایک ماہرانہ فلرٹ اور دھوکہ باز تھا، جو اپنی باتوں کے جادو سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا جانتا تھا۔

حمزہ شادی شدہ تھا، مگر اس نے کبھی مائدہ یا کسی اور کو اس حقیقت سے آگاہ نہیں کیا۔

اس کا ماننا تھا کہ “ہر رشتہ وقتی ہوتا ہے، جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے”—یہی سوچ اس کے کردار میں جھلکتی تھی۔

اپنی ازدواجی زندگی سے بیزار ہونے کا ڈھونگ رچاتا تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کر سکے۔

حمزہ کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی شیریں زبانی تھی۔

وہ ہر لڑکی میں کوئی نہ کوئی خاص بات تلاش کرتا اور اسی پر جھوٹی سچی تعریفوں کے پل باندھ دیتا۔

اس کا انداز ایسا ہوتا کہ سامنے والا شخص خود کو خاص اور دوسروں سے مختلف محسوس کرے۔

مائدہ کے ساتھ بھی اس نے یہی کیا، اس کے حساس دل، اس کے خوابوں اور اس کی معصومیت کو نشانہ بنایا۔

حمزہ کی یہ خاصیت تھی کہ وہ سب کے سامنے مہذب، سلجھا ہوا اور شرافت کا چہرہ لیے گھومتا۔

ادبی محفلوں میں لوگ اس کی رائے کو اہمیت دیتے، اس کے الفاظ کو سچ سمجھتے تھے۔

لیکن پیٹھ پیچھے، وہ انہی لوگوں کی برائیاں کرتا، کمزوریاں اچھالتا اور ہر ایک کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا۔

وہ دو چہروں والا انسان تھا، جو جہاں موقع دیکھتا، وہاں اپنی چالاکی سے حالات کو اپنے حق میں موڑ لیتا۔

اس نے مائدہ کی کمزوریاں پہچانیں: اس کی حساسیت، اس کا تنہائی کا خوف اور خود اعتمادی کی کمی۔

اس کے خوابوں اور جذبات کو سراہا، اسے وہ سب کچھ کہا جو وہ سننا چاہتی تھی:

“تم جیسی لڑکیاں بہت کم ہوتی ہیں جو دل سے جیتی ہیں۔”

“تمہاری معصومیت آج کل کے زمانے میں نایاب ہے۔”

وہ ہر اس لمحے مائدہ کے قریب ہوا جب وہ جذباتی طور پر کمزور ہوئی، اور پھر اس کے دل میں اپنی جگہ بنالی۔

جب مائدہ کو پہلی بار اس پر شک ہوا، حمزہ نے ماہرانہ جھوٹ بولا اور اسے جذباتی جال میں پھنسائے رکھا۔

لیکن جیسے ہی مائدہ کے دل میں اس کے لیے حقیقی جذبات مضبوط ہوئے، حمزہ نے اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کیا:

کبھی نظر انداز کرنا

کبھی سخت لہجہ اختیار کرنا

اور کبھی جذبات سے کھیلنا

“میں نے کبھی تم سے وعدہ نہیں کیا تھا، یہ تو تمہارا وہم تھا!”

حمزہ کا یہ جملہ وہ زخم تھا جو مائدہ کو اندر سے توڑ گیا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ حمزہ خود بھی کبھی کبھی اپنے جھوٹ میں الجھ جاتا۔

وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا عادی تھا، لیکن بعض اوقات مائدہ کی سادگی اور خلوص اسے لمحہ بھر کے لیے نرم کر دیتے۔

مگر پھر وہ خود کو یاد دلاتا:
“جذبات کمزور لوگوں کا کھیل ہے، اور میں کمزور نہیں ہوں!”

مائدہ شام کے وقت اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ میز پر ادھ کھلی ڈائری، بکھرے ہوئے کاغذ اور کافی کا خالی مگ پڑا تھا۔ فون سائیڈ پر پڑا خاموش تھا، مگر اچانک اسکرین جگمگا اٹھی۔ اس کی قریبی دوست عروہ کا میسج آیا تھا:

عروہ: “مائدہ، مجھے تم سے فوراً بات کرنی ہے، یہ بہت ضروری ہے۔”

مائدہ نے فوراً ویڈیو کال کی، عروہ کی پیشانی پر پسینہ تھا اور چہرے پر پریشانی کے آثار۔

مائدہ (پریشان ہو کر):
“عروہ، کیا ہوا؟ تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟”

عروہ (ہچکچاتے ہوئے):
“مائدہ، مجھے نہیں پتہ کہ میں تم سے کیسے کہوں… مگر میں مزید چھپا نہیں سکتی۔ حمزہ… وہ… شادی شدہ ہے!”

مائدہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں زہر انڈیل دیا ہو۔

مائدہ (کانپتی آواز میں):
“کیا؟ یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟ کوئی مذاق ہے کیا؟”

عروہ:
“کاش کہ یہ مذاق ہوتا، مائدہ! لیکن میں نے خود اسے اپنی کزن کی سالگرہ پر اس کی بیوی کے ساتھ دیکھا۔ مجھے پہلے شک ہوا، پھر جب اس کی بیوی نے خود تعارف کروایا تو سب واضح ہوگیا۔ دیکھو، یہ تصویر!”

عروہ نے ایک تصویر بھیجی جس میں حمزہ اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا تھا، دونوں خوش و خرم۔ مائدہ کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا، اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔

مائدہ (روتے ہوئے):
“عروہ، میں کیسے اتنی اندھی رہی؟ میں نے اس پر دل و جان سے بھروسہ کیا!”

عروہ:
“مائدہ، میں جانتی ہوں یہ سننا کتنا مشکل ہے، لیکن میں نہیں چاہتی تھی کہ تم مزید دھوکہ کھاؤ۔ اس کا اصل چہرہ تم تک لانا ضروری تھا کیونکہ تم مجھے بہت عزیز ہو ”
مائدہ تنہا اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ کمرے میں نیم تاریکی چھائی ہوئی تھی، کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلکا سا جنبش دے رہی تھی، لیکن مائدہ کے اندر ایک طوفان برپا تھا۔ اس کا دماغ حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور کر رہا تھا، مگر دل ابھی بھی حمزہ کے لیے نرمی رکھتا تھا۔

آنسو اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اور ذہن میں حمزہ کی تمام باتیں گونج رہی تھیں۔ کبھی اس کی محبت بھری باتیں، کبھی اس کے طنزیہ جملے — سب کچھ جیسے ایک فلم کی طرح اس کے سامنے چل رہا تھا

مائدہ نے کانپتے ہاتھوں سے آئینے کے سامنے بیٹھ کر خود کو دیکھا، مگر اسے اپنی آنکھوں میں اجنبیت نظر آئی۔

مائدہ (آہستہ سے خود سے):
“کیا واقعی میں اتنی بے وقوف تھی؟ کیا وہ ہر بار جھوٹ بولتا رہا اور میں نے کچھ محسوس نہیں کیا؟”

دماغ کا کڑوا لہجہ گونجا:
“ہاں! تمہیں پتہ تھا، تمہیں شک تھا، مگر تم نے اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ تمہیں اس کی باتوں میں وہ سچ نظر آیا جو کبھی تھا ہی نہیں!”
دل نے نرمی سے کہا:
“لیکن وہ ہر بار ایسا پیار جتاتا تھا کہ میں کیسے انکار کرتی؟ اس کی باتوں میں خلوص تھا… یا شاید میں نے خلوص دیکھنا چاہا!”
مائدہ نے سر تھام لیا، اس کی سانسیں تیز چلنے لگیں، جیسے ہوا بھاری ہو گئی ہو۔

حمزہ کی وہ باتیں مائدہ کے کانوں میں گونجنے لگیں:
“مائدہ، تم جیسی لڑکیاں کم ہی ہوتی ہیں… تمہارے دل کی نرمی نے مجھے بدل دیا ہے!”

مائدہ نے آنکھیں موند لیں اور آہستہ سے کہا:
“تو کیا سب جھوٹ تھا؟”

دل نے جواب دیا
“ہر لمحہ جھوٹ نہیں ہو سکتا… کبھی تو اس نے سچ محسوس کیا ہوگا۔ اس کی آنکھوں میں وہ سچائی تھی… یا میں نے تصور کی؟”
دماغ نے سختی سے ٹوکا:
“یہ تمہاری کمزوری تھی، مائدہ! تم نے اس کی باتوں میں اپنی کہانی دیکھی، حقیقت نہیں

مائدہ نے زور سے میز پر ہاتھ مارا اور چیخ اٹھی:
“تو پھر کیوں؟ کیوں میں نے سب محسوس کیا؟ یہ سب میرا قصور تھا؟”

دل نے آہستہ سے کہا:
“محبت میں غلطی تلاش کرنا آسان نہیں، مائدہ۔ تم نے صرف سچائی کو دیکھنے کی چاہت رکھی، اور بس…”

دماغ ہنسا:
“یہی تو مسئلہ تھا! تم نے چاہت میں آنکھیں بند کیں۔ اب اس کا خمیازہ بھگتو!”
مائدہ نے آئینے میں اپنے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:
“میں کیوں اس دھوکے کا حصہ بنی؟ میں کیوں بچا نہیں پائی خود کو؟”
دل نے خالی لہجے میں کہا:
“کیونکہ تم نے محبت کو خلوص سمجھا، اور وہ محبت کھیل سمجھتا رہا!”
رات کے اندھیرے میں مائدہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، بار بار فون کی اسکرین کو گھور رہی تھی۔ دل اور دماغ میں جنگ چل رہی تھی۔ کئی بار دل چاہا کہ حمزہ کو کال نہ کرے، لیکن دل کا بوجھ اسے مجبور کر رہا تھا۔ آخر کار اس نے ہمت جمع کی اور فون ملایا۔
(فون پر، کپکپاتی آواز میں):
“حمزہ… مجھے تم سے بات کرنی ہے، بہت ضروری بات!”

دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ پھر حمزہ کی آواز آئی، تھوڑی الجھن اور لاپرواہی کے ساتھ:
“ابھی؟ مائدہ، میں مصروف ہوں۔ کوئی خاص بات ہے تو فون پر کر لو۔”

مائدہ نے گہرا سانس لیا، آنکھوں میں آنسو بھر آئے:
“نہیں، یہ وہ بات نہیں جو فون پر ہو سکے۔ پلیز، میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔”

حمزہ نے طنزیہ ہنسی چھپاتے ہوئے کہا:
“مائدہ، ڈرامائی مت بنو۔ میں واقعی مصروف ہوں۔ ملنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”
مائدہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، وہ اب منت کرنے کے مقام پر آ گئی تھی:

مائدہ (گڑگڑاتے ہوئے):
“حمزہ، پلیز! میں بہت کچھ جان چکی ہوں… لیکن میں چاہتی ہوں تم سے سب خود سنوں۔ میں خود کو مزید دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی۔ صرف ایک بار، بس ایک بار مجھ سے ملو!”
حمزہ کچھ لمحے خاموش رہا، جیسے سوچ رہا ہو کہ ملنا چاہیے یا نہیں۔ پھر سرد لہجے میں بولا:
“ٹھیک ہے، کل شام ایک گھنٹہ مل سکتا ہوں تمہیں، لیکن ڈرامے کی توقع مت کرنا۔”
مائدہ (دل گرفتہ مگر مطمئن):
“شکریہ… بس ایک بار، پھر میں کبھی سامنے نہیں آؤں گی۔”
حمزہ (لاپرواہی سے):
“دیکھ لیں گے۔ کل شام، ریسٹورنٹ آ جانا۔”
حمزہ نے فون بند کر دیا۔ مائدہ کے ہاتھ سے موبائل گر گیا، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، لیکن دل میں عزم تھا — “آخری بار… اسے اپنے سوالوں کے جواب دینا ہوں گے!
شام کے وقت ایک خاموش ریسٹورنٹ کا گوشہ، نیم روشن لائٹس، مگر مائدہ کے دل میں ایک اندھیرا سا چھایا ہوا ہے۔

سفید شفون کا سوٹ پہنے ، ہلکے سنہری دوپٹے کے ساتھ، بال سلیقے سے بندھے، مگر آنکھوں میں کئی راتوں کی بے خوابی کے سائے۔ اس کی آنکھوں میں حوصلہ بھی ہے اور کہیں اندر ایک گہرا زخم بھی۔ وہ اس ملاقات میں مضبوط نظر آنا چاہتی ہے، مگر اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

حمزہ ہمیشہ کی طرح صاف ستھرا لباس، مغرورانہ انداز، مگر چہرے پر ہلکی سی بے چینی کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود تھا اس نے ہمیشہ مائدہ کو کمزور سمجھا، مگر آج اس کا سامنا ایک بدلے ہوئے روپ سے ہو رہا ہے۔

مائدہ میز کے قریب پہنچی، قدم بھاری مگر پُراعتماد۔ حمزہ نے سر اٹھایا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:

حمزہ (سرد لہجے میں):
“تو آخرکار آ گئیں۔
مائدہ نے کرسی کھینچی اور سکون سے بیٹھ گئی، نگاہیں سیدھی حمزہ کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے:

مائدہ (پرسکون مگر زخم خوردہ لہجے میں):
“کبھی کبھی انسان سچ سننے کے لیے خود آتا ہے، چاہے وہ کتنا بھی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔
حمزہ ہنسا، جیسے اسے مائدہ کی بے بسی پر مزہ آ رہا ہو:
“سچ؟ تم تو سچ سننا ہی نہیں چاہتی تھیں، مائدہ! تمہارے دل کو جو پسند آیا، وہی سچ بنا لیا۔”
مائدہ نے آنکھیں بند کیں، جیسے اندر ایک درد کی لہر اٹھی ہو، مگر پھر گہری سانس لی:
(دھیمی آواز میں بولی
“ہاں، شاید میں نے اپنی آنکھوں پر خود پردے ڈالے تھے۔ مگر اب وہ پردے ہٹ چکے ہیں۔”
حمزہ نے کرسی پر پہلو بدلا اور طنز سے بولا:
اور اب کیا چاہتی ہو؟ رحم؟ معافی؟”
یہ سنتے ہی مائدہ کا ضبط ٹوٹنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر وہ ابھی بھی خود پر قابو رکھنے کی کوشش کر رہی تھی نم آنکھوں سے بولی
نہیں… میں صرف چاہتی ہوں کہ تم ایک بار سچائی قبول کرو۔ کیا سب کچھ جھوٹ تھا؟ کیا کبھی بھی کچھ سچا نہ تھا؟”
حمزہ نے کندھے اچکائے:
سرد لہجے میں جتایا
“یہ سب تمہاری اپنی سوچ تھی، مائدہ۔ میں نے تمہیں خواب دکھائے، تم نے حقیقت سمجھ لیا۔”

مائدہ کا ضبط بالآخر جواب دے گیا۔ وہ کرسی سے تھوڑا جھک کر میز پر ہاتھ رکھتی ہے، آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے ہیں:

گڑگڑاتے ہوئےبولی
“حمزہ! میں نے سب کچھ سچ سمجھا… میں نے تمہیں اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ بنا لیا… کیوں؟ آخر کیوں؟”
حمزہ نے نظریں چرائیں، جیسے لمحہ بھر کو شرمندگی ہوئی ہو، مگر پھر اس نے سخت لہجہ اپنایا:
“مائدہ، زندگی میں کمزور لوگ ہی جذبات میں بہتے ہیں۔ میں نے وہی کیا جو میرے لیے آسان تھا۔”
مائدہ کا وجود لرزنے لگا، وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہے، لیکن اس کی آواز میں اب بھی طاقت ہے:
“شاید میں کمزور تھی، مگر آج میں جان گئی ہوں کہ میں ٹوٹ کر بھی خود کو جوڑ سکتی ہوں۔ تم جیتے نہیں، حمزہ… تمہارے اندر کا کھوکھلا پن ہی تمہاری ہار ہے۔”
حمزہ غصے میں اٹھ کر جانے لگا، مگر مائدہ نے آخری بار پکارا:
مائدہ (دھیمی مگر مضبوط آواز میں):
“کچھ رشتے ٹوٹ کر بھی دل میں زندہ رہتے ہیں، حمزہ… مگر تم اب اس جگہ کے بھی لائق نہیں۔”
حمزہ بغیر کچھ کہے وہاں سے نکل گیا۔ مائدہ نے روتے ہوئے آنکھیں بند کیں، پھر آہستہ سے آنسو صاف کیے اور خود کو سنبھالتے ہوئے بولی
“محبت کھونے سے انسان نہیں ٹوٹتا… ہار تب ہوتی ہے، جب انسان خود کو کھو دے… اور میں خود کو کبھی نہیں کھوؤں گی۔”
حمزہ سے ملاقات کے بعد مائدہ جیسے ایک خلا میں گر گئی تھی۔ ریسٹورنٹ سے نکلتے ہوئے اس کے قدم بار بار ڈگمگا رہے تھے، لیکن پھر بھی وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ لوگ آ جا رہے تھے، شور برپا تھا، مگر اس کے کانوں میں جیسے صرف حمزہ کے الفاظ گونج رہے تھے:

حمزہ:
“تم جیسی لڑکیاں صرف وقتی دلچسپی ہوتی ہیں… اور تم بھی بس وہی ہو۔”

یہ الفاظ اس کے دل کے اندر خنجر کی طرح پیوست ہو گئے تھے۔

رات کے اندھیرے میں مائدہ کا کمرہ بھی اس کی کیفیت کی طرح بکھرا ہوا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی، مگر آئینے میں خود کو نہیں دیکھ پا رہی تھی — بس ایک شکستہ وجود نظر آ رہا تھا۔
“کیا واقعی میں اتنی بے وقوف تھی؟ میں نے اپنے آپ کو کیوں مٹا دیا کسی کے لیے جو میرا تھا ہی نہیں؟”
وہ آئینے میں اپنے چہرے کو غور سے دیکھتی، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، آنکھوں میں نمی اور چہرے پر شکستہ تاثرات — یہ سب کچھ اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کی گواہی دے رہا تھا۔

اس لمحے، مائدہ کا دماغ اور دل ایک بار پھر آپس میں الجھ پڑے:

دماغ: “تمہاری غلطی تھی، کیوں یقین کیا؟”
دل: “لیکن محبت اندھی ہوتی ہے… میں نے تو خلوص سے چاہا تھا!”

یہ کشمکش اس کے اندر زلزلہ برپا کر رہی تھی۔

مائدہ نے خود کو صوفے پر گرا دیا، اور اس کی آنکھوں میں وہ تمام لمحات گھومنے لگے — حمزہ کی پہلی مسکراہٹ، جھوٹی تعریفیں، وہ ادبی نشست جہاں اس نے پہلی بار مائدہ کے حساس دل کو بھانپ لیا تھا، اور وہ لمحات جب اس نے مائدہ کو خاص محسوس کروایا تھا۔

ہر یاد ایک چھری کی طرح اس کے دل میں اتر رہی تھی۔ وہ زور زور سے روتی، خود سے سوال کرتی:

مائدہ:
“آخر کیوں؟ میں نے کیا برا کیا تھا؟ کیا محبت اتنی سستی ہوتی ہے کہ کسی کا دل توڑ کر یوں چھوڑ دیا جائے؟

مائدہ کئی دن تک اس کیفیت میں رہی — بے سکونی، غصہ، شرمندگی، اور دکھ کا طوفان۔ لیکن پھر، ایک دن، وہ خاموشی سے سجدے میں گری، اور وہ لمحہ اس کی زندگی کا موڑ بن گیا۔
“یا اللہ! میں نے غلطی کی، مگر اب مجھے ان زخموں سے طاقت دے، مجھے اتنا مضبوط بنا کہ کوئی دھوکہ مجھے توڑ نہ سکے۔”

سجدے سے اٹھتے ہی اس کے اندر ایک عجیب سی نرمی اور سکون اترا — جیسے زخم اب گھاؤ نہیں رہے تھے، بلکہ ان میں طاقت بھر گئی تھی.

حمزہ کے لیے سب کچھ معمول کے مطابق تھا — وہ مائدہ کو چھوڑ کر آگے بڑھ چکا تھا، مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ قسمت اس کے انتظار ہے۔

حمزہ اپنی پرانی روش سے باز نہ آیا۔ اس نے ایک اور لڑکی کو اپنے جال میں پھانسنے کی کوشش کی، مگر اس بار قسمت نے اسے دھوکہ دے دیا۔ وہ لڑکی، جو بظاہر معصوم نظر آتی تھی، حمزہ سے کہیں زیادہ چالاک نکلی۔ اس نے حمزہ کی چالاکیوں کو سمجھا اور موقع پا کر اس کی حقیقت اس کی بیوی اور سماجی حلقوں کے سامنے لا دی۔

حمزہ کی بیوی، جو پہلے صبر سے حالات دیکھ رہی تھی، اب مکمل طور پر دور ہو گئی، مگر طلاق کے بجائے جذباتی فاصلے کو ترجیح دی تاکہ حمزہ تنہائی کا درد جھیلے۔

حمزہ اب تنہائی میں ڈوبا تھا، بے یقینی سے آئینے میں خود کو دیکھ رہا تھا:

حمزہ (دھیمی آواز میں):
“شاید یہ وہی سزا ہے جو میں نے مائدہ اور دوسروں کو دی… اب کوئی مجھ پر یقین نہیں کرے گا۔”
شام کے سائے دھیرے دھیرے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج افق میں ڈوب رہا تھا، مگر آسمان پر بکھرے سنہری رنگ اب بھی امید کا پیغام دے رہے تھے۔ مائدہ اپنے گھر کے لان کے ایک کونے میں خاموش بیٹھی تھی، جہاں ہلکی ٹھنڈی ہوا پھولوں کے پتوں کو چھو کر گزرتی، لیکن اس کا دل آج ایک عجیب سی سکون بخش خاموشی سے بھرا ہوا تھا۔ اردگرد کھلے گلاب اپنے رنگ بکھیر رہے تھے، مگر آج مائدہ کی آنکھوں میں صرف روشنی تھی — اندر کی روشنی۔

ہاتھ میں ڈائری، آنکھوں میں ٹھہراؤ، اور دل میں ایک نئی روشنی تھی۔ وہ خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہی تھی، جیسے زندگی کے تمام الجھے دھاگے اب سلجھ چکے ہوں۔

مائدہ (خود کلامی میں):
“کتنی عجیب بات ہے… کبھی جو محبت میری کمزوری تھی، آج وہی میرے اندر طاقت بن کر ابھری ہے۔ جس رشتے نے مجھے توڑا، اس نے مجھے خود سے جوڑ دیا۔ میں نے دوسروں کے لفظوں میں اپنی پہچان ڈھونڈی، مگر اصل پہچان تو میرے اپنے اندر تھی… جو محبت میں نے دوسروں کو دی، وہ پہلے خود کو دینی چاہیے تھی۔”

ایک ہلکی سی ہوا چلی، ڈائری کے صفحات پلٹے، اور وہ ہلکا سا مسکرا دی۔

“زندگی میں ہر شکست، ہر دھوکہ ہمیں دو راستے دیتا ہے: یا تو ہم ٹوٹ کر رہ جائیں یا پھر ان زخموں کو اپنی طاقت بنا لیں۔ میں ٹوٹی ضرور، مگر اسی ٹوٹ پھوٹ میں میں نے خود کو پایا۔”

عین اسی لمحے، مغرب کی اذان کی آواز فضاء میں گونجی۔ وہ آواز مائدہ کے دل کے کسی گہرے گوشے کو چھو گئی، جیسے اس کے تمام زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو۔

مائدہ نے ڈائری بند کی، گہری سانس لی، اور پاس بچھاے تخت پر نماز ادا کرنے کے تیاری کی ۔
سجدے میں وہ سکون تھا، جو برسوں کی الجھنوں اور دکھوں کے بعد ملتا ہے۔ اس کے آنسو خاموشی سے زمین پر گر رہے تھے، مگر وہ آنسو کمزوری کے نہیں، شکرگزاری کے تھے۔ دل میں عجیب سا اطمینان تھا، جیسے اندر کی ساری جنگیں ختم ہو گئی ہوں۔
نماز کے بعد ہاتھ اٹھائے دعا مانگی”یا اللہ! شکر ہے تیرا، تُو نے مجھے اندھیروں سے نکالا، مجھے وہ دکھ دیے جو میری آنکھوں کو حقیقت دیکھنے کے قابل بنا گئے۔ آج میں ٹوٹی نہیں ہوں، میں بنی ہوں… تیرے سہارے سے۔
نماز کے بعد سر اٹھا کر اس نے آسمان کی طرف دیکھا — وہی آسمان جو پہلے اجنبی لگتا تھا، اب جیسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔

مائدہ نے مسکرا کر اپنے چہرے سے آنسو صاف کیے اور گھر کے اندر قدم بڑھایا۔ اب وہ مائدہ نہیں تھی جو ٹوٹ کر بکھری تھی، بلکہ وہ مائدہ تھی جو اپنی شکستوں سے سیکھ کر، مضبوطی سے جینا جان گئی تھی۔

“دھوکہ دینے والے گر جاتے ہیں، مگر جو لوگ سچائی اور خود شناسی کا راستہ چنیں، وہ گر کر بھی دوبارہ اٹھتے ہیں، پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر۔ اصل سکون انسان کو تب ملتا ہے، جب وہ خود کو اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے۔”

لکھاریہ

مدیحہ کنول

1,056 total views, 3 views today

2 Responses to م سے محبت

  1. لاریب اقراء says:

    بہت زبردست آپی
    اور ایسے لوگ ہمارے معاشرے میں ہی پائے جاتے ہیں ۔
    پہلے میں بھی سمجھا کرتی تھی جیسے کہانیوں میں لوگوں کو جلدی اختتام ہو جاتا ہے پر اصل زندگی میں ایسا ہونے میں سالوں لگتے ہیں ۔
    پھر مکافات عمل ہوتا ضرور ہے ۔
    بہت ہی زبردست 💝

  2. سجاد علی بھنڈر says:

    بہت خوب افسانہ ہے آپی
    اللّٰہ تعالیٰ مزید زور قلم عطاء فرمائے ۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *