رت بدلنے والی ہے (افسانہ)
“رُت بدلنے والی ہے” (افسانہ)
رُشنا اختر (محمود کوٹ)
وہ کونے کھدروں کی صفائی سے فارغ ہو کے کمر سیدھی کرنے کے لیے چارپائی پر لیٹی ہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ “افوہ اس وقت کس کی ٹانگوں میں درد ہے کہ گھر بیٹھنا گوارا نہیں کیا اور ادھر آ دھمکا”۔
اس نے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے بلال عرف بلو ہاتھ میں بریانی سے بھری ڈش اٹھاۓ کھڑا تھا۔ “اررےے بلال تم ۔ لاؤ کیا لاۓ ہو”؟
اس نے جھٹ سے اس کے ہاتھ سے ڈش لی اور کھٹاک سے دروازہ بند کر دیا اور چارپائی پر بیٹھ کر مزے سے بریانی کھانے لگی۔ ادھر بلال اس کی نازیبا حرکت پر تلملا اٹھا اور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ “علیزے بیٹا دیکھو دروازے پر کون ہے .اماں کی آواز آئی۔اسے مزید تنگ کرنے کا دوبارہ موقع مل گیا تھا علیزے دوبارہ دروازے پر پہنچی اور نہایت بناوٹی لہجے میں بولی ” جی کون ؟ اس سے پہلے کہ بلو کا جواب آتا وہ فوراً بولی” دیکھئیے آج ہمارے گھر گوشت نہیں بنا آپ ایسا کیجئے بروز جمعۃالمبارک آئیے گا اس دن ہم قریبی مسجد میں مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں” وہ بمشکل ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولی اور یہ الفاظ تو گویا جلتی پر تیل کا کام کر گئے۔ علیزے کی بچی تم ذرا بچ کے رہنا مجھ سے ایک بار دروازہ کھولو اگر ہمت ہے تو بلال دانت پیستے ہوئے بولا “آہاہا دروازہ کھولنے کی ہمت تو ہے نہیں “۔ آیا بڑا مجھے دھمکیاں دینے والا بات سنو بلونگڑے بریانی پارسل ہوگئی نا چلو اب گھر کا رستہ ناپو اس نے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا۔یہ بریانی میں اپنی پیارے ماموں اور ممانی کے لیے لایا تھا نہ کہ ان کی نکمی اولا کےلیےاور تم نے یہ بلونگڑا کسے کہا؟ادھر بلال غصیلے لہجے میں بولا۔ یہ تم نے نکمی کسے کہا؟وہ برابر بولی۔تمہارے اردگرد کوئی اور ہے کیا؟ نہیں نا بلال نے فوراً جوابی حملہ کیا ، بائیک کو کک لگائی اور چلا گیا ۔ علیزے نے جھٹ سے دروازہ کھولا تاکہ اسے مزید سنا سکے مگر وہ بائیک پر سوار ، ہاتھ ہلاتے ہوۓ جا چکا تھا۔
ارے اتنی دیر لگا دی کون ہے ؟ اماں جو اتنی دیر سے رضائیوں کے کور چھانٹ رہی تھیں کمر پر ہاتھ رکھے باہر چلی آئیں
کوئی نہیں تھا اماں ایسے ہی مانگنے والے آج کل زیادہ ہیں ناں ۔ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی ۔ اچھا تو یہ مانگنے والے بریانی کب سے دینے لگے؟ اماں نے بریانی منہ میں ڈالتے ہوۓ پوچھا۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی بریانی کے برتن اور ذائقے نے پہچان کروا دی اور اماں کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
کبیر احمد کے تین بیٹے تھے۔ نوید احمد ، شبیر احمد اور لطیف احمد ۔
اپنا کاروبار تھا اللہ تعالیٰ نے خوب برکت دی تھی لیکن بیٹی جیسی رحمت سے محروم تھے۔ بیگم کبیر احمد ہر مشہور درگاہ پر باقاعدہ حاضری دیتیں اور منت مان کے آتیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بیٹی سے نوازے اور وہ بھی بیٹی کے ناز اٹھائیں۔
کبیر احمد اپنی زوجہ کو سمجھاتے کہ ان درباروں پر اپنا وقت ضائع نہ کریں اللہ تعالیٰ نے دینی ہوگی تو ایک نہ ایک دن مل جائے گی۔ مگر وہ نہ مانیں اور کہتیں آپ کو کیا پتہ ان عظیم صوفیاء کی عظمت کا آپ کو تو بس اپنے کاروبار سے لگاؤ ہے ۔ اس طرح کئی دلائل کے آگے کبیر احمد ہار مان جاتے اور آئندہ بحث سے گریز کرتے۔
بلآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائیں قبول کر لیں اور انھیں ننھی سی کلی عطاء کی جسکی مہک سے ان کے گھر کا آنگن مہک اٹھا۔ کبیر صاحب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا ۔ دل کھول کے مٹھائیاں تقسیم کیں درباروں پر دیگیں بھجوائیں۔ نام رکھنے کی باری آئی تو سب نے اپنے پسندیدہ نام تجویز کیے۔ بھائیوں نے تو لاڈ پیار سے کئی نام رکھ لیے تھے لیکن کبیر صاحب نے باقاعدہ طور پر صبا کبیر نام رکھا جو سب کو پسند آیا۔
آج حسب معمول وہ بھائی کے کپڑے استری کر ریی تھی کہ نوید بھائی نے باقاعدہ پھپھو کی آمد کی خبر دی ۔ علیزے کو یہ خبر کم اور اعلان جنگ زیادہ لگ رہا تھا ۔ کل جو سلوک اس نے ان کے لاڈلے کے ساتھ کیا تھا یقیناً وہ اسی کا بدلہ لینے آئی ہوں گی۔ یہ بات سوچ کر ہی اس کا حلق کڑوا ہوگیا تھا کیونکہ اس نے ابا جان کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کی پیاری بہن یعنی سعیدہ پھپھو کے گھر سے بریانی آئی تھی جو انہیں دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوئی۔ کپڑے استری کرنے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی چہرے کے مختلف زاویے بنانے کے بعد خود سے مخاطب ہوئی،
بلونگڑے نے ہی شکایت کی ہوگی ورنہ پھپھو کے پاس کوئی الہامی علم تو ہے نہیں ۔ خیر جو بھی کل اس بلو کو مزہ چکھایا اور آج اس کی اماں جان کی بھی خوب آؤ بھگت کروں گی ۔ بس اللہ کرے آج ابا حضور دیر سے گھر آئیں ۔ وہ شرارتی انداز میں بھنویں اچکا کر مسکرا دی۔
علیزے ! ذرا ادھر کچن میں میری مدد کروا دو بیٹا ۔ تمہاری پھپھو کے لیے خاص کھانا تیار کرنا ہے کوئی کمی رہ گئی تو تمہارے ابا ناراض ہوں گے
اچھا امی جی آئی۔
بڑے بھیا آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔ بلال ہچکچاتے ہوئے بولا۔ چائے پیتے ہوئے صادق نے ٹیڑھی نظروں سے بلال کی طرف دیکھا
ہوں بولو کیا بات ہے۔ “مجھے آپ کی مدد چاہیے” وہ ملتجی لہجے میں بولا
“کیسی مدد”؟ صادق بھائی نے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا
“ووہ بھائی میں شادی کرنا چاہتا ہوں” ۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا
ہیں ! شادی لیکن کس سے اور میں کیا مدد کروں؟
صادق بھائی نے حیرانی کے عالم میں سارے سوالات داغ ڈالے۔
پہلے آپ وعدہ کریں کہ اپ اس رشتے کے لیے اماں کو راضی کریں گے ۔
پہلے بتاؤ تو سہی میرے یار کدھر ٹانکا فٹ کیا ہے؟ صادق بھائی نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا
اب آپ سے کیا چھپانا بھائی کبیر ماموں کا داماد بننا ہے ۔ بلال نے مسکراتے ہوئے بتایا
کبیر ماموں کا داماد یا علیزے کا شوہر ! زور دار قہقہے کے ساتھ اس نے بلال کو گلے لگایا۔ میرے ویر اماں سے بات تو کیا منوا کے رہوں گا تیری خوشی کے لیے۔
سوچ لیں بھائی کہیں یہ نہ ہو کہ پاک بھارت جنگ شروع ہوجاۓ۔
اب پاک بھارت جنگ نہیں ٹی ٹوئینٹی میچ ہوگا اور جیت پاکستانی عوام کی ہوگی ۔
اگر ایسا ہو گیا تو وعدہ اپنے ہونے والے بھتیجے کو اپنی کرکٹ ٹیم کا کپتان بناؤں گا”
ہاہاہاہا دونوں کا قہقہہ ایک ساتھ بلند ہوا ۔
مقررہ وقت سے گھنٹہ پہلے پھپھو کی گھر میں آمد ہو گئی ۔ نوید بھائی کو خوب چوما اور دعائیں دیں پھر اماں کی طرف بڑھیں فرضی سلام دعا کے بعد موقع ملتے ہی گلے شکوے کی بوندا باندی شروع ہوگئ اور وہ دھپ سے چار پائی پر بیٹھ گئیں ۔
یہ اپنی علیزے کہاں ہے؟ ارے بھئی تمہاری پھپھو ہوں مجھے نہ ملو اپنی شکل ہی دکھا دو۔ جب سے یہ نگوڑا موبائل فون آیا ہے سب اسی کے ہو کے رہ گئے ہیں آج کل کے بچوں کو کیا پرواہ رشتے ناتوں کی۔ پھپھو نے بنا رکے گولہ باری کی۔
پھپھو کی اس خوش بیانی پر اس نے کئی طرح کے زاویے بناۓ ہاتھوں کو ان کی کہی بات کے مطابق نچایا پھر جلدی سے دوپٹہ سیٹ کرتی ہوئی باہر نکلی اور سعیدہ پھپھو کو سلام کیا ۔ جوابا پھپھو نے گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما اور کہنے لگیں
“ارے فرخندہ بھابھی سارا کام خود ہی کرتی ہیں یا اس اکلوتی لاڈلی کو بھی کوئی زمہ داری سونپی ہے”؟
کیوں نہیں سعیدہ بہن ۔ ماشاءاللہ ہماری علیزے سارے گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتی ہے ۔ آج بھی اس نے خاص آپ کے لیے مختلف ڈشز بنائی ہیں، کھا کے بتائیے گا کہ کیسی بنی ہیں۔ بیگم کبیر احمد نے سعیدہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی علیزے کو کھانا لگانے کا حکم دیا۔
وہ کھانے کی میز سجا کر فارغ ہوئی تو ابا جان بھی آ گئے۔ اب اسے اس بات کی فکر ہوئی کہیں پھپھو باتوں باتوں میں بریانی کے تذکرے کے ساتھ بلال سے کیے گئے حسن سلوک کو زیر بحث نہ لائیں ۔
خیر کھانا پر سکون ماحول میں کھایا گیا اور اس کی توقعات کے برعکس کوئی ایسا تذکرہ نہ ہوا جس سے جنگی ماحول پیدا ہو۔ بلکہ پھپھو نے کھانے کی بہت تعریف کی۔ علیزے کے لیے یہ حیرانی کی بات تھی کیونکہ اس قبل کئی مرتبہ پھپھو آنے بہانے سے خفا ہو کر ہی جاتی تھیں۔
فخرالدین اخبار پڑھنے میں مشغول تھے ۔ صادق نے مناسب موقع سمجھتے ہوۓ بات شروع کی۔
ابو میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ گھر میں کوئی رونق افروز محفل میلاد ہوجاۓ ویسے بھی کافی عرصہ ہو گیا ہے کوئی محفل منعقد نہیں ہوئی۔
ابا نے غور سے اپنے ہونہار بیٹے کی طرف دیکھا جو فر فر بولے جا رہا تھا
ہوں ں یہ اچانک سے اتنے نیک خیال کی آمد کیسے ہوگئی؟ ابا نے عینک ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا
ویسے ہی ابو دل چاہ رہا تھا اور ماموں کی فیملی بھی تو ہمارے گھر کب سے نہیں آئی اماں تو اکثر
آتی جاتی رہتی ہیں تو۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا فخرالدین اس کی بات کاٹتے ہوئے بولے
جو بھی بات ہے کھل کے کہو یہ حیلے بہانوں سے کام کیوں لے رہے ہو۔
ابو آپ سے کیا چھپانا اصل میں بلال علیزے سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے میری خدمات حاصل کی ہیں کہ میں آپ سے اور اماں سے بات بات کروں۔
فخرالدین کچھ لمحے بنا بولے صادق کی طرف دیکھتے رہے ۔ پھر سوالیہ انداز میں بولے یہ سب تمہاری اماں کو معلوم ہے؟
نہیں ابو ! اس لیے تو آپ کے پاس آیا ہوں۔ فخرالدین مسکراۓ اور بولے یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ خیر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے اور تم احمق آدمی باہر کھڑے چوری چھپے کیا عورتوں کی طرح باتیں سن رہے ہو اندر آؤ نالائق باپ ہوں تمہارا۔ بلال جو باہر کھڑا یہ سب سن رہا تھا اندر آگیا اور باپ کی طرف مظلوم نظروں سے دیکھنے لگا اور بولا
جیسا بھی ہوں آپ ہی کا بیٹا ہوں ۔
اس برجستگی پر فخرالدین اور
صادق بھائی کا قہقہہ بلند ہوا
بیٹا جب خود باپ بنو گے تب پوچھوں گا فخرالدین نے ہنستے ہوئے کہا۔
سب کھانا کھا چکے تو اماں نے علیزے کو برتن سمیٹنے کا کہا اور اس نے حکم کی تعمیل کی ۔ برتن سمیٹتے ہوۓ اس کا ہاتھ پھسلا ٹرے بمعہ گلاسوں کے گر گئی اور سارے شیشے کے گلاس فرش پرٹوٹ گئے
دھیان سے بیٹا اماں فوراً لپکیں ۔
لوجی ہوگیا کام ۔ کام کرنے کی عادت ہوتی تو یہ گلاس اٹھاۓ جاتے ناں۔ پھپھو نے اپنے موٹے نتھنوں کو پھلاتے ہوۓ کہا۔
ارے کوئی بات نہیں گلاس ہی تو تھے ۔ ادھر آؤ میری شہزادی یہاں بیٹھو ۔ کبیر صاحب نے پیار سے بیٹی کو بلایا۔
آپا کچھ نہ کہیں میری لاڈلی کو ابھی ابھی تو اس کی کالج کی پڑھائی مکمل ہوئی ہے۔ تھوڑا آرام کرلے بعد میں سب سیکھ جاۓ گی۔
واہ کبیر بھائی واہ آپ کو یاد نہیں کیا جب میں اس عمر میں تھی تو کیسے سارے گھر کو شیشے کی طرح چمکا کے رکھتی تھی۔ پھپھو نے موقع ملتے ہی اپنے دل کی بھڑاس نکالی
کبیر احمد نے جب اپنی بہن کے تیور دیکھے تو ان کا دھیان بٹانے کے لیے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ اللہ اللہ کر کے پھپھو رخصت ہوئیں اور اس نے سکھ کا سانس لیا۔
ادھر فخرالدین نے بیٹوں کے مشورے کے مطابق محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروگرام ترتیب دیا اور تمام رشتہ داروں کو شرکت کی دعوت دی۔ بالخصوص بلال کو تو موقع مل گیا تھا اپنی دلربا کو تنگ کرنے کا سو وہ شام کو ہی اس کے دروازے پر آن کھڑا ہوا۔
وہ اپنا میک اپ کا سامان ترتیب سے رکھ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
اس بار دروازہ ممانی جان نے کھولا اور اسے اندر لے آئیں ۔ حال احوال کے بعد اس نے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا ۔
ارے علیزے بیٹا ۔ بلال آیا ہے چاۓ بنادو بیٹا ۔
بلال کا نام سنتے ہی اس نے سوچا کہ ضرور وہ اماں سے اس کی شکایت کرنے آیا ہوگا ۔ وہ جلدی سے باہر آئی اور خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ بلال کو لگا کہ وہ اس دن والی بات کا بدلہ لے گی اور ہو سکتا ہے اس نے ماموں جان کو اس کی شکایت کی ہو لہذا اس نے بھی فرضی ناگواری دکھائی لیکن دل ہی دل میں وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا اور پھر ادھر ادھر دیکھنے لگتا۔
ارے بیٹا جاؤ کچن میں چاۓ بنادو کب تک انتظار کرواؤ گی۔ اماں کے کہنے پر وہ کچن کی جانب مڑ گئی۔ بلال اس سارے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ میں دیکھتا ہوں بلال نے دروازہ کھولا تو چھوٹی سی بچہ اندر آگیا اور آتے ہی بلند آواز میں کہا کہ
فرخندہ آنٹی میری امی کہہ رہی ہیں مجھے کمیٹی کا حساب سمجھ نہیں آ رہا ادھر دیوار سے میری بات سن لیں ۔
بچہ یہ پیغام پہنچاتے ہی الٹے قدموں واپس چلا گیا۔
ارے دیکھو تو اسے، جواب کا انتظار بھی نہیں کیا اور ایسے ہی چلا گیا۔
اچھا بیٹا تم بیٹھو میں ذرا پاس ہی دیوار سے مسرت کی بات سن لوں ۔
بلال کی تو جیسے باچھیں کھل گئیں اسے تو موقع چاہیے تھا علیزے سے بات کرنے کا م جیسے ہی ممانی اوجھل ہوئیں وہ کچن میں اس کے برابر جا کھڑا ہوا اور بنا آواز کے ہاؤ کرکے اسے ڈرانا چاہا لیکن وہ پیچھے مڑ چکی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ، تم یہاں کیا لینے آۓ ہو بلونگڑے وہ چاۓ کا مگ ہاتھ میں لیے ہوئے تھی
آف کو رس چاۓ اور لینے تو میں بہت کچھ آیا ہوں اگر کوئی لے جانے دے تو ۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولا تو علیزے زرا جھنیپ سی گئی اور اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی دیکھو بلال میں نے ابا سے تمہاری شکایت کر دینی ہے۔
لیکن میں نے ماموں سے یہ مانگ لینی ہے وہ اپنی انگلی سے اسکی انگلی کو ہللکے سے مروڑتے ہوۓ بولا
شکل دیکھی ہے اپنی وہ بہت کچھ سمجھتے ہوۓ بولی
ان شاءاللہ یہ شکل
ہر روز دیکھو گی۔ وہ زرا شوخ ہوا ۔ علیزے نے اسے دھکا دینے والے انداز میں باہر کی طرف دھکیلا “چاۓ پیو اور گھر کا رستہ ناپو”
اس نے آہستگی سے کہا
اور وہ مطمئن سا چارپائی پر بیٹھ گیا اور بولا
“اب چاۓ بھی دے دو کیا وہ بھی گھر جا کر پیوں”
علیزے بیٹا “ابھی تک چاۓ نہیں بنی کیا”؟
ابھی لائی امی جی! اور وہ چاۓ کے ساتھ دیگر لوازمات سجاۓ حاضر ہوگئی۔ فرخندہ بیگم جہاندیدہ خاتون تھیں ۔ دونوں بچوں کے جذبات جان گئی تھیں۔
چاۓ دینے کے بعد وہ کمرے میں بیٹھی اماں اور بلال کی باتیں سنتی رہی اور بلال کی طرف سے کی گئی پیش قدمی کو خوب سمجھنے لگی۔
گھر میں خوب چہل پہل تھی اور گھر گلی کو خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا۔ مہمانوں کی آمد آمد تھی ۔ سعیدہ خاتون مہمانوں کا استقبال پر جوشی سے کر رہی تھیں ۔ بلال بار بار گھڑی کی طرف دیکھتا تو کبھی مین راستے کی طرف بالآخر کبیر احمد بمعہ اہل وعیال پہنچ گئے۔ وہ چور نظروں سے اسے دیکھ لیتا مگر وہ حجاب کیے ہوۓ تھی۔
پھپھو نے پرتپاک استقبال کیا ۔ حال احوال ہونے لگے۔ اس نے حجاب ہٹایا اور اپنا خوبصورت سا کامدار دوپٹہ سلیقے سے اوڑھ لیا ۔ سکن اور بلیک کلر کے کمبینیشن میں اور بھی نکھر رہی تھی۔ بلاشبہ وہ اپنی قیمتی پہناوے میں زبردست لگ رہی تھی اور پھر لمبے بالوں میں موتی نگینے کی سٹیپ وائز لڑیاں بالوں کی لمبائی کو مزید واضح کررہی تھیں۔ گہری آنکھوں میں کاجل نے اس کا حسن دوبالا کر دیا تھا۔ وہ بلال کی بھابھی کے ساتھ باتوں میں مشغول تھی کہ وہ ہاتھ میں بہت سارے شاپر جن میں کھانے پینے کا سامان تھا ، لیے بھابھی بھابھی پکارتا ادھر آ رکا اور بہانے سے علیزے پر بھرپور نظر ڈالی اور شاپر بھابھی کو تھما دیے کہ مہمانوں کے لیے کچھ اور لانا ہو تو بتائیے گا ۔
مسٹرڈ کلر کے سوٹ اور بلیک اینڈ گولڈن کلر کی واسکٹ میں وہ خوب جچ ریا تھا ۔ تراشی ہوئی داڑھی مونچھوں میں وہ مکمل خوبرو مرد لگ رہا تھا۔
ارے بلال یار یہاں کیا کر رہے ہو ادھر آؤ ذرا یہ مٹھائی کے ڈبے گنواؤ ۔ صادق بھائی نے شرارتی انداز میں اس بلایا تو وہ مسکراتا ہوا چلا گیا۔
محفل میلاد شروع ہوئی تمام خواتین نے باری باری اپنے حصے کے گل عقیدت پیش کیےاور آخر میں پھپھو نے سلام میں اپنی نیم سریلی آواز کا تڑکا لگا یا جس سے سب کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔ یوں بہترین انداز میں محفل اختتام پزیر ہوئی ۔ سب مہمان چلے گئے تو فخرالدین صاحب نے اپنی زوجہ محترمہ سے اپنے بیٹے کی پسندیدگی کا تذکرہ کیا ۔ پہلے تو وہ شدید حیرانی میں سب کو سناتی رہیں پھر آنکھیں موندے کافی دیر اس بات پر غور کرتی رہیں۔
صبح ناشتے کی میز پر سب باری باری عدلیہ یعنی سعیدہ خاتون کی طرف دیکھتے کہ آخر انھوں نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ سب کی نظروں کو بھانپتے ہوئے بلآخر سعیدہ خاتون بولیں۔
“تو پھر کب چلیں بھائی کبیر کے گھر؟
کیوں بھئی ابھی کل ہی تو وہ لوگ ہو کر گئے ہیں ۔
ہاں تو میں ان سے ملنے نہیں بلکہ اپنی علیزے کا ہاتھ مانگنے جاؤں گی۔
تو آپ مان ہی گئیں. مجھے تو لگا تھا کہ آپ کسی صورت میں راضی نہیں ہوں گی۔ ارے نہیں صادق کے ابا ۔ اس دن انھوں نے میری جلی کٹی باتوں کا جواب بڑے سلیقے سے دیا اور یقین تو مجھے تب ہوا جب علیزے کے ہاتھوں گلاس پھسلے۔ کہاں اتنی قینچی کی طرح زبان چلتی تھی اس کی اور اس دن تو جیسے بدک سی گئی تھی۔ ہم نے بھی دنیا دیکھی ہے بلال بیٹا اور بلال اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکا کیونکہ اس دن سے پہلے کی حقیقت ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوۓ باہر چلا گیا کیونکہ اس نے یہ خوشخبری اپنے دوستوں کو بھی تو بتانی تھی کہ وہ اب زیادہ عرصہ تک سنگل نہیں رہنے والا۔
===
285 total views, 3 views today
























Leave a Reply