سکونِ قلب

اپنی نظروں کے سامنے موجود منظر دیکھ کر فاطمہ کو اُس دن پہلی بار محسوس ہوا کہ قدموں تلے زمین کیسے نکلتی ہے اور ہم کس طرح کسی بھی حیران کن منظر کو دیکھ کر خوف محسوس کرتے ہیں۔ اپنے کانپتے ہاتھوں سے چادر سنبھالتی ہوئی، فاطمہ نے دور پڑی اندھیرے میں موجود کرسی کا انتخاب کیا اور اس پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔

فاطمہ کا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے تھا، جہاں اُس کی ہر خواہش پوری کی گئی تھی۔ اپنی تمام خواہشات پوری ہونے کے باوجود، اس کے دل میں اللہ کا خوف موجود تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اُس کی ماں تھی جو ایک عالمہ تھی اور اُس نے اپنی بیٹی کی اچھی تربیت کی تھی۔

فاطمہ پچیس سال کی ایک سمجھدار لڑکی تھی جو ایم فل اسلامیات کے آخری سمسٹر میں تھی۔ یونیورسٹی میں اُس کی دو دوستیں تھیں: عائشہ صدیقہ اور فریال خالد۔ تینوں میں بہت گہری دوستی تھی۔ ان دنوں فریال کی شادی تھی جس میں فاطمہ اور عائشہ کی شرکت ضروری تھی، مگر عائشہ کسی مسئلے کی وجہ سے شادی میں شرکت نہ کر سکی تھی۔ اس لیے اب فاطمہ اکیلے ہی فریال کی شادی کی رسموں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

اچانک، لڑکے اور لڑکیاں غول در غول ہال میں آئے، ڈھول بجاتے، چیختے، اور ہوٹنگ کرتے ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر فاطمہ فوراً وہاں سے دور ہو گئی، لیکن یہ دیکھ کر اُس کے قدموں تلے زمین نکل گئی کہ ماں باپ، بہن بھائی اور خاندان کے دیگر افراد ڈھول کی تھاپ پر زور و شور سے ناچ رہے تھے۔ نہ کوئی شرم، نہ حیا۔ اپنی زندگی میں یہ منظر پہلی بار دیکھ کر فاطمہ خوفزدہ ہو گئی۔ موبائل پر وہ یہ سب ہزاروں بار دیکھ چکی تھی، لیکن حقیقت میں پہلی بار اس کا سامنا ہوا تھا۔

فاطمہ خوفزدہ ہو کر ایک طرف جا کر بیٹھ گئی اور استغفار کا ورد شروع کر دیا۔ ساتھ ہی اپنے والد کو فون کیا کہ وہ اُسے لینے آ جائیں۔

عائشہ، جس کی کافی عرصے سے شادی کی بات چل رہی تھی، عائشہ کا امتحانات کے بعد نکاح تھا۔ فاطمہ کو یقین تھا کہ وہ اس میں شرکت نہیں کرے گی کیونکہ فریال کی شادی کے بعد وہ خوفزدہ ہو چکی تھی اور جان چکی تھی کہ ایسی جگہ اُس جیسی مڈل کلاس لڑکی کے لیے نہیں ہے۔

جب عائشہ صدیقہ نے فاطمہ کو اپنی شادی میں شرکت کی دعوت دی، تو فاطمہ نے فوراً معذرت کر لی اور صاف کہہ دیا کہ وہ مزید کوئی شادی اٹینڈ نہیں کرے گی۔ فاطمہ نے کہا، “میں نے فریال کی شادی میں شرکت کی اور توبہ کر لی کہ اب کسی شادی میں نہیں جاؤں گی۔ فریال تو مڈل کلاس فیملی سے تھی، اور تم تو اپر کلاس سے ہو، اس لیے تمہاری شادی کے فنگشن میرے بس کی بات نہیں۔”

عائشہ نے مسکراتے ہوئے فاطمہ کے لاکھ انکار کے باوجود اُسے ایک کارڈ تھما دیا۔ جب فاطمہ نے کارڈ کھولا تو اُس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں، کیونکہ اس میں تین عمرے کے ٹکٹ تھے اور کارڈ پر لکھا تھا کہ نکاح مسجد نبوی میں بروز جمعہ ہو گا۔ عائشہ نے کہا، “میری سوچ یہ نہیں کہ لاکھوں روپے ناچنے گانے میں ضائع کروں۔” فاطمہ نے مسکراتے ہوئے نکاح میں شرکت کی حامی بھر لی۔

عائشہ نے ہلکے آسمانی رنگ کا سادہ لباس پہنا ہوا تھا، ہاتھوں میں سرخ گجرے اور سر پر سادہ کالی چادر تھی۔ نکاح کے موقع پر اُس نے قبول ہے کے تین الفاظ ادا کیے اور نکاح مکمل ہوا۔ بعد میں چھوارے تقسیم کیے گئے۔

فاطمہ سوچ چکی تھی کہ وہ عائشہ صدیقہ کی طرح امیر کبیر تو نہیں کہ مسجد نبوی جا کر نکاح کر سکے، مگر ہاں، وہ سادگی سے شادی کر سکتی تھی۔

تین سال بعد:

فریال کو طلاق ہو چکی تھی۔ شاید بری نظر کھا گئی تھی یا پھر جس شادی میں بے حیائی ہو، اُس میں برکت نہیں ہوتی۔ فریال اپنے دو بچوں کے ساتھ اور عائشہ صدیقہ اپنے شوہر کے ساتھ فاطمہ کے نکاح میں شریک ہو چکی تھیں۔

فاطمہ نے سفید لباس پہنا ہوا تھا، ہاتھوں میں گجرے تھے اور سر پر سفید دوپٹہ تھا۔ اُس کی سادگی میں ایک خاص خوبصورتی تھی۔ فاطمہ کا نکاح بڑی خاموشی سے مسجد میں ہوا۔ حق مہر دولہے کی حیثیت کے مطابق رکھا گیا، نہ کوئی جہیز تھا، نہ کوئی شور شرابا۔ سادگی سے اُسے رخصت کیا گیا۔

اسلام میں تو نکاح بہت آسان ہے، لیکن آج کے مسلمان نکاح کو بہت مشکل بنا چکے ہیں۔ لوگ دلہن کو سفید لباس تحفے میں دیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ اچھا شگون نہیں ہے، حالانکہ “اچھا شگون” جیسے الفاظ ہمارے دین میں ہیں ہی نہیں۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سادگی سے ہوئی تھی۔ انہوں نے ہلکے رنگ کا لباس پہنا تھا، کوئی زیور نہیں تھا، کوئی ڈھول باجا نہیں تھا۔ سادہ سا نکاح ہوا، حق مہر رکھا گیا، چھوارے تقسیم کیے گئے اور دلہن کو رخصت کر دیا گیا۔ نہ کوئی دلہن کے گھر سے کھانا، نہ کوئی دودھ پلائی کی رسم، نہ کوئی بہودہ مزاق۔

آج کل سوشل میڈیا پر شادیوں کی تقریبات دیکھ کر لڑکیاں اپنی سوچ کو آسمان تک لے جاتی ہیں۔ والدین جہیز کے لیے پریشان ہوتے ہیں جبکہ بیٹی کو تو نعمت قرار دیا گیا ہے، پھر اسے زحمت کیوں بنا دیا گیا؟ سوشل میڈیا کی شادیوں کو دیکھ کر فنگشن بڑھانے کی بجائے یہ سوچیں کہ ہمیں دوسرے گھر جا کر کیسے رہنا ہے۔ لاکھوں کروڑوں کے فنگشن کر کے بھی فائدہ نہیں جب آپ کو اخلاقیات کا شعور نہ ہو۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں، فضول خرچی سے بچیں اور سکون کی زندگی گزاریں۔ اپنی خواہشات کو پیسوں میں نہیں، بلکہ اپنی سوچ میں بڑھائیں اور اپنی ذات کو دوسروں کے لیے سکون قلب کا باعث بنائیں تاکہ کل کو کوئی آپ کے لیے بھی سکون قلب کا باعث بن سکے۔

لکھاریہ
لاریب اقراء

474 total views, 3 views today

One Response to سکونِ قلب

  1. سجاد علی بھنڈر says:

    بہت عمدہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *