کیا یہی زندگی تھی

امرحہ کھڑکی سے جھانک رہی تھی کہ کیا خوبصورت منظر تھا سب لوگ مل بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔ پاس ہی ان کے گھوڑے چر رہے تھے آس پاس کے گھروں کی چمنیوں سے دھویں کے مرغولے اٹھ رہے تھے ۔۔ شاید کھانے کی تیاری ہو رہی تھی ۔۔ خوب رونق کا سماں تھا لیکن امرحہ بے چین تھی ۔۔ کچھ عرصہ سے اسے سچے خواب آ رہے تھے اور اس کی بے چینی کی وجہ بھی رات کو آنے والا ایک خواب ہی تھا ۔۔ امرحہ کو وہ آیت اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ یاد آ گئی تھی “مزہ ختم کرنے والی موت کو ہمیشہ یاد رکھو” وہ گلا پھاڑ کر سب کو بتانا چاہتی تھی لیکن کوئی اس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا ۔۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی تو طوفان آنے سے پہلے آگاہ کیا ہو گا ۔۔ بلکہ خبر دار کیا تھا لیکن ان کی قوم کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی۔۔ ایک دو تین اور شمال کی جانب سے ایک بگولہ نمودار ہوا سب عام آندھی سمجھ کر اٹھ کھڑے ہوئے جیسے آندھی کا خیر مقدم کر رہے ہوں ۔۔ لیکن جب بچے چیخنے لگے اور جانور بے قابو ہو گئے اور گھروں کی چھتیں تک اڑ گئ تو سب بے ساختہ بھاگنے لگے ۔۔ امرحہ کا حلق بالکل خشک ہو گیا تھا ۔۔ اس نے یہی سب تو خواب میں دیکھا تھا ۔۔ اب وہ دعا کر رہی تھی آگے جو ہو گا وہ نہ ہو لیکن وہی ہوا تھا ساری کی ساری بستی لاشوں کا ڈھیر بن چکی تھی اور وہ اکیلی حیرت انگیر طور پر بچ گئ تھی اسے جو معجزوں پر یقین نہیں تھا تو پروردگار نے اسے بچا کر اس کی سوچ کی تردید کردی تھی ۔

لکھاریہ

شازیہ رانا

312 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *