رشتے بھی بوجھ بن جاتے ہیں
“”لکھاریہ زاہدہ پرو ین سحر”
کچھ رشتے آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں کبھی آپ نے جو رشتے آپنی پوری ایمانداری اپنا پورا پیار توجہ دے کر نبھانے ھوتے ھیں وہی رشتے جب آپ کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرنا شروع ہو جائیں تو پھر ایسے رشتوں کو چھوڑ دینا چاہیے ایسے رشتے جن پہ اپ نے جان لٹا دی ہے وہی جب اپ کی پیٹھ پیچھے اپ پر وار کرنے لگ جائیں تو ایسے رشتوں سے جان چھڑانا ہی بہتر ہے
رشتوں کی بھی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہے!
اس ڈیٹ کے بعد وہ زہر بن جاتے ہیں دماغی صحت کے لئے ، اور جسمانی صحت کے لئے بھی۔جو رشتے ذہنی اذیت بن جائیں ناسور بن جائیں ان کو کاٹ دینا چاہیے صرف ماں باپ کا رشتہ بے لوث ہوتا ہے اور اس کے بعد
صرف خدا اور بندے کا رشتہ ابدی ہے ، جسے کوئی زوال نہیں۔ناہنجان اولاد کو
بوڑھے ماں باپ بوجھ محسوس ہوتے ہیں ، بیماری طویل ہو تو بوجھ لگنے لگتے ہیں۔اور اللہ سے دعا کرنے لگتے ہیں اے اللہ پاک ایسے والدین کا پردہ رکھ لے
بہن بیٹی کی شادی وقت پر نہ ہو تو والدین سے بولا جاتا ہے کہ اب جیسا بھی لنگڑا ٹیڑھا میڑھا رشتہ ائے تو اس خوبصورت بیٹی کا رشتہ اس ناکارہ شخص سے کر دیا جائے
ماں باپ صرف ماں باپ ہی ہوتے ہیں کوئی بڑی بہن ماں کی جگہ اور کوئی بھائی باپ کی جگہ نہیں لے سکتا
بہن بھائیوں میں ہی کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپ کا سگا ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں منہ پر میٹھی بولی بولتے ہیں اور پیٹھ پیچھے خنجر چلاتے ہیں اور وار کرتے ہیں
خود بھلے جیسے مرضی زندگی گزاری ہو مگر اپنا کردار بھول کر دوسروں کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ان کا بہترین مشغلہ ہوتا ہے اور دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے ماضی حال کے چشم دید گواہ وہی لوگ بھی ہیں جن کی وہ کردار کشی کر رہے ہیں
کچھ ایسے رشتے بھی ہیں جو احسان فراموش ہیں یہ لوگ اپنے مفاد کی خاطر دوسرے لوگوں کا استعمال کرتے ہیں اور جب مطلب پورا ہو جائے تو انہی لوگوں کا پتہ کاٹنے کے لیے کوشش کرتے ہیں گھٹیا ہوتے ہیں ایسے لوگ !!
ایسے لوگ کسی کے بھی سگے نہیں ہوتے یہ بس اپنے مطلب کے ہوتے ہیں خواہ اس کے لیے اپنے کتنے ہی قریبی رشتے کو استعمال کیوں نہ کرنا پڑے یہ لوگ بلا جھجک اس رشتے کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کر لیتےہیں،ایسے رشتوں سے دور بھی بھاگ جائیں مگر یہ لوگ اپنی عادت سے مجبور لوگوں کو خوش نہیں دیکھ سکتے اور اپنے گندے سازشی دماغ سے کوئی نہ کوئی چال چلتے رہتے ہیں اپنوں ہی کے خلاف!!
ایسے لوگ اپنے والدین کا نام خراب کرتے ہیں اور ان کی پرورش پر انگلیاں اٹھواتے ہیں ،زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو اولاد اپنے والدین کی سگی نہیں ہوتی وہ اپنے کسی بھی رشتے کی سگی کبھی نہیں ہو سکتی جو والدین کو اپنے مطلب تک کے لیے استعمال کریں تف ہے ایسی اولاد پر جس اولاد کو اپنے والدین کے گھر انے پر تکلیف ہو جو اپنے والدین ین سے یہ بولیں کہ تم ہمارے گھر اتے ہو تو ہمارے گھر کی پرائیویسی خراب ہوتی ہے تو ایسی اولاد کے ہونے پر لعنت ہے جو اپنی ماں کے سامنے دس کلو مٹر چھیلنے کے لیے رکھ دے اور پھر اس کو مٹر چھیلنے کے عوض کھانا دے ایسی اولاد قیامت کے دن کیسے اپنے والدین کا سامنا کرے گی
ہر رشتہ ایک مقررہ وقت کے بعد جان کو آجاتا ہے۔
یہی تلخ حقیقت ہے اس دنیا کی!
ہر پل ، ہر لمحہ موت ہو رہی ہوتی ہے۔۔۔ احساس کی ، محبت کی ، شفقت کی۔
باقی تو صرف خدا کی ذات اور اس کی محبت لافانی ، لازوال۔۔۔
لہذا فانی سے محبت کریں گے تو فنا ہو جائیں گے ، بقا سے محبت کریں گے تو باقی ہو جائیں گے۔
اس دنیا کے رشتوں کو محبت سے چلائیں ، لیکن ان سے کوئی توقع نا رکھیں۔ اپنی توقعات کا مرکز صرف خدا کی ذات رکھیں۔ اسی کے پاس سے آئے ہیں ، اور اسی کے پاس جانا ہے۔
تو کیوں نا ؟ بیچ کا وقت بھی اسی کے ساتھ گزارا جائے۔۔؟🙂
187,592 total views, 230 views today
























Sukkur And Sindh