زندگی کی بہار ہو تم
وہ اپنے کمرے کے ساتھ بنی بالکنی میں کھڑی تھی۔ بہت سی سوچیں اس کے دماغ کا احاطہ کیے ہوۓ تھیں۔ اپنا بچپن، اپنی ذات سے جڑے رشتے، اپنی محرومیاں، تنہایاں، اذیتیں، غم کیا کچھ اسے یاد آرہا تھا سبھی کچھ وہ شاید آج یاد کر لینا چاہتی تھی شاید اس لیے کہ دوبارہ کبھی یاد نہ آۓ کچھ۔.
وقت اپنی رفتار سے گزرتا جارہا تھا آج کل موسم بھی ٹھنڈا محسوس ہوتا تھا۔ آسمان پر چمکتا چاند، جگمگ کرتے تارے، خوشگوار موسم کچھ بھی تو اِسکو اِسکی یادوں سے نہیں نکال پایا تھا۔ ماضی کی یادوں میں کھوۓ ہوۓ دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں نم ہونا شروع ہوگئیں۔۔آنسو تیزی سے بہنے لگے اور بہتے ہی چلے جارہے تھے۔
اسے اس گھر میں چند ہی مہینے ہوۓ تھے۔ اور آج وہ دل بھر کر رو رہی تھی۔ نہ جانے کتنی دیر تک یہ سلسلہ جاری رہتا کہ اسے اپنے عین پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اور اب وہ تھمی۔ کیسے نہ پہچانتی کہ کون آیا تھا۔ وہی آیا تھا وہی آسکتا تھا اس کے قریب۔ اب وہ ہولے ہولے لرز رہی تھی۔ جب حیا کی آواز آئی۔..
یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ کیونکہ اس سوال سے آپ کے آنسوؤں میں شدت آجاۓ گی۔ اور میں آپ کی تکلیف بڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مگر میری زندگی کی بہار کچھ مجھ بے چارے پر بھی رحم کریں مسز۔ جانتی ہیں نہ آپ کے آنسو کہاں گرتے ہیں۔ اسکے پیچھے دیوار سے ٹیک لگاۓ اپنے دل کے مقام پر انگلی رکھتے وہ انتہائی فکرمندی سے بول رہا تھا۔اور دیکھیں زرا مواسم بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
عزت، محبت، مان، فکر، احساس کیا کچھ نہیں تھا اس کے لہجے میں۔
وہ جو کتنی دیر سے اپنے ماضی کو یاد کیے رو رہی تھی اپنے ہمسفر، ہمنوا، ہمراز کی بات پر آنسوؤں سمیت ہولے سے مسکرائی۔ دھیرے سے پیچھے مڑ کر اپنی زندگی کو دیکھا۔ آنسو ضرور تھے آنکھوں میں مگر ساتھ ہی مسکراہٹ اسکے چہرے کا احاطہ کیے ہوۓ تھی۔ کچھ دیر دیکھ کر اس نے نظریں جھکا دیں۔ وہ خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش میں تھی مگر وہ جو سامنے اسکی ذندگی کھڑا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت کس قدر تکلیف میں ہے۔ بھیگی پلکیں، متورم آنکھیں اسکی حالت اور اسکے چہرے اور اسکے كرب کو دیکھتے ہوۓ اسے گہرا دکھ پہنچا۔ کچھ دیر اسی طرح خاموشی چھائی رہی ۔۔۔
حیا۔۔۔
اس خاموشی کو ہادی کی آواز نے ہی توڑا۔ میری طرف دیکھیں حیا ۔
جانتی ہیں نہ آپ میری حیات ہیں میری زندگی کی بہار ہیں اس طرح پریشان نہیں دیکھ سکتا آپ کو۔
جانتی ہوں ہاد بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ میرے ہادی مجھے زرا سا بھی پریشان نہیں دیکھ سکتے تڑپ جاتے ہیں میری زرا سی تکلیف پر آپ چاہتے ہیں ایک آنسو بھی نہ آۓ میری آنکھ میں لیکن بس کیا کروں اتنا پیار کرتے ہیں آپ مجھ سے آپ نے میرے ہر دکھ کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی کیا کچھ نہیں کرتے آپ میرے لیے۔
آپ میرے لیے کتنے اہم ہیں میں کتنی خوش ہوں آپکے ساتھ کس قدر عشق ہے آپ سے شاید کبھی بیاں ہی نہ کر پاؤں کبھی بتا ہی نہ پاؤں آپ کو۔
آپ جب سے مجھے ملے ہیں میری تو ذندگی ہی بدل گئی ہے اسی لیے بس آج اپنا ماضی اپنے دکھ اپنا گزرا ہوا وقت یاد کررہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے آپ کی زندگی میں کئی تکالیف ہوں، آپکی زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، آپ کی پریشانیاں ساری دنیا سے جدا ہوں مگر آپ اگر صبر کریں، شکر کریں، قرآن و سنت پر عمل کریں، اپنی زندگی کا مقصد یاد رکھیں تو آپکی ہر مشکل آسانی میں بدل جاۓ گی۔ وہ جو کب سے کھڑی خاموشی سے اپنے ہاد کو سن رہی تھی جب بولی تو اتنا حسین بولی کہ ہادی کا دل کیا کہ اسکی بہارِ ذندگی یوں ہی بولتی رہے اور وہ سنتا رہے۔
ہاں حیا ہمارا رب بے حد مہربان ہے وہ سب غم دور کردیتا ہے، وہ اپنے بندے بندیوں کا صبر ضائع نہیں جانے دیتا، وہ ہمیں بہت سے بہترین انعام عطا فرماتا ہے جیسے کہ آپ میرے لیے بہترین انعام ہیں میری زندگی کی بہار ہیں آپ۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اپنے دونوں ہاتھ اسکے کاندھوں پر رکھے بہت دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔
ویسے مسز آپ کا ارادہ کیا یہیں کھڑے رہنے کا ہے چلیں اندر چلیں ٹھنڈ بھی بڑھ رہی ہے اور ہاں میرا موڈ ہو رہا ہے کافی کا آجائیں مسز آپ کو اپنی فیوریٹ کافی بنا کر پلاتا ہوں ۔اپنے ازلی دوستانہ انداز میں کہتے ہوۓ وہ اسے لیے اندر جانے لگا۔ جی جی بلکل پیوں گی میں آپکی پسندیدہ کافی اور آپ بناتے ہی اتنی اچھی ہیں کہ اب تو عادت سی ہو گئی ہے۔ حیا بھی شرارت سے بولتی ہوئی پنے شریک حیات کے ساتھ چلنے لگی۔ ہاۓ آپ اتنی تعریف کرتی ہیں جب ہی تو اتنی اچھی بنتی ہے ہادی نے سر کو خم دیتے ہوۓ کہا۔
حیا اس کے انداز پر ہنس دی ہادی بھی اپنی انت الحیات کو دیکھتے ہوۓ ہنس دیا حیا نے اپنی زندگی کو دیکھا جو اسکو کتنی آزمائشوں دکھوں اور کٹھن وقت کے بعد ملا تھا ۔اس نے بے اختیار اپنے پاک پروردگار کا شکر ادا کیا وہ جو اسے اپنی ذندگی کی بہار کہتا ہے اصل میں تو وہ ہے اسکی زندگی کی بہار وہ یوں ہی اسے دیکھے گی۔ کیا ہوا مسز آج ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں کیا وہ کب سے اسکی نظریں خود پر محسوس کررہا تھا سرشاری سے اسے دیکھتے ہوۓ ہنس کر بولا۔ وہ بھی اسے دیکھتے ہوۓ ہنس دی دونوں یوں ہی ہنستے ہوۓ کچن کی طرف بڑھنے لگے کیونکہ ہادی صاحب کو اپنی جان و دل کے لیے کافی جو بنانی تھی اور حیا صاحبہ کو اپنی ذندگی کے ہاتھوں سے بنی کافی انکے ساتھ پیتے ہوۓ تعریف جو کرنی تھی۔۔۔
آپ کا رب عزوجل بےشک آپ کی سنتا ہے، آپ کو مشکلات سے یوں نکال دیتا ہے کہ آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو، وہ آپ کو بہترین نوازتا ہے۔ آپ کو کسی کی زندگی کی بہار دیتا ہے جیسے حیا ہادی کی بہار بس آپ نے اپنے رب کی رضا میں راضی رہنا ہے کیا پتا آپ کے رب نے دنیا و آخرت میں آپ کے لیے کتنے انعام رکھے ہوں۔
لکھاریہ
مس ایس کے
360 total views, 3 views today
























Leave a Reply