انٹرویو نسیم امیر عالم

آج ہم برقی ملاقات میں حاضر ہیں حیدر آباد سے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اپووا سندھ چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ نسیم امیر عالم کے انٹرویوں کے ساتھ ۔
میزبان۔صائمہ عروج
السلام علیکم
کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
میرا نام نسیم امیر عالم ہے۔ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائ ہے۔میرا نمبر پہلا ہے۔صوبۂ سندھ کے شہرحیدرآبادسے میرا تعلق ہے۔ہمارے خاندان میں لڑکیوں کی پڑھائ جرم تصور کی جاتی تھی لیکن میری ضد کی وجہ سے ابو مجبور ہوگئے اور سب کی مخالفت مول لےکربھی مجھے پڑھایا۔میں اپنے خاندان کی وہ پہلی لڑکی ہوں جس نے کالج اور یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔میری پر دادی اور ڈاکٹر غلام مصطفے خاں صاحب میرے مربی تھے۔میں نے ایم ۔اے(اردو)جامعۂ سندھ جام شورو سے کیا۔اور آنرز اورماسٹر میں دو گولڈ میڈل اور دو سلو ر میڈلز حاصل کیے ۔اس کے بعد یونی ورسٹی میں تعلیم اور نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر پاکستان کا بڑا سول ایوارڈ “صدارتی تمغہ براۓحسن کارکردگی (اسلام أباد) ملا۔اس کے علاوہ روزنامہ جنگ کی جانب سےمیر خلیل الرحمن اورینٹ ایوارڈ (کراچی)ملا۔ایم۔فل فخر اولیاء اور فخر پاکستان ڈاکٹر غلام مصطفے خاں پر کیا۔
بچپن کیسا گزرا ؟
میرا بچپن بہت خوب صورت گزرا۔ماں باپ کی لاڈلی تھی۔شرارتی تھی۔ضدی اور جنگجو تھی۔شروع میں پڑھائ میں دل چسپی نہیں تھی پھر ایک مس نائلہ فرشتہ بن کر میری زندگی میں أئیں اور ان کی جانب سے کی گئ حوصلہ افزائ کے سبب میں نے دل و جان سے پڑھائ کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔

ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
میرے نزدیک زندگی کا دوسرا نام ادب ہی ہے۔اور جب تک زندگی باقی ہے میں ادب سے جڑی رہوں گی۔

قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟چھٹی جماعت میں روزنامہ جنگ میں بچوں کے صفحے پر میری پہلی کہانی “امید کی شمع”شائع ہوئ اور میرا پہلا افسانہ کالج کے زمانے میں (فرسٹ ائیر) روزنامہ جنگ کے صفحہ “ڈائجسٹ”میں شائع ہوا۔

پہلی کہانی/تحریر کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
یہ لفظ “پہلا” اس کا میری زندگی سے دل چسپ تعلق ہے۔چھٹی جماعت میں پہلی کہانی بچوں کے لیے لکھی اور خاندان میں سب حیران تھے۔ننھیال اور ددھیال میں میں پہلی لکھاری ہوں۔اسی طرح اپنے والدین کی پہلی اولاد اور کالج اور یونی ورسٹی جانے والی بھی پہلی لڑکی ثابت ہوئ پھر ابھی تک پہلی خاتون ہوں جس نے کتاب لکھی اور میرا عدد قسمت بھی ایک ہی ہے۔خاندان کی پہلی گزیٹڈ افسر خاتون بھی ہوں۔
معذرت !
لفظ پہلا سن کر تھوڑی جذباتی ہو گئ۔
پہلا ردعمل یہت حیران کن تھا کسی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میری کہانی بھی روزنامہ جنگ میں شائع ہو سکتی ہے۔
اپووا کی تقریبات میں آنے کاآپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا ؟
میرے نزدیک کوئ بھی تقریب بہت محنت اور نیک نیتی کے جذبے کےساتھ منعقدکی جاتی ہے لہذا تنقید کرنا ناصرف دل آزاری بلکہ حوصلہ شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔اپووا کی تقریبات میں اپنائیت ،خلوص و محبت اپنی جگہ لیکن بہتر سے بہترین کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔میں سالانہ تقریب اٹینڈ کرتی ہوں اور مجھےشرکت کرکےبے حد خوشی ہوتی ہے۔لاہور لاہور ہے!!

فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
ارتغرل غازی اور عثمان غازی سیریز دیکھ کر اوران میں موجود سبق آموز قصے۔کہانیان۔اقوال اور افعال اپنی ڈائری میں اتار کر اپنی یادداشت کا حصہ بنا کر۔اس کے علاوہ اپنے پیارے بچوں اور ان کے ابا کو چاینیز کھانے بنا کر۔یہاں میں یہ وضاحت کرتی چلوں کہ میں نے اپنی زندگی میں نہ کبھی کوئ فلم دیکھی ہےاور نہ ڈرامے دراصل گھر کا ماحول بھی ایسا نہیں تھا لیکن ارتغرل اور عثمان غازی حقیقی ہیرو ہیں۔

زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
جی بالکل!جب میں پہلی دفعہ یونی ورسٹی جا رہی تھی تو امی نے مجھے کہا تھا کہ ایک شخص کی زندگی اور خاص طور پر ایک لڑکی کی زندگی وفاداری اور ذمہ داری کے گرد گھومتی ہے۔لہذا ادارہ ہو یا خاندان وفادار اور ذمہ دار رہنا۔یہ سبق میری زندگی کا حصہ بن گیا ۔میں جس خاندان،ادارے،شخص،کام،تعلیم غرض جس بھی چیز سے جڑی وفاداری اور ذمہ داری کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا۔جب پڑھا تو پوری ذمہ داری سےاور اپنے تعلیمی ادارے سے مکمل وفاداری نبھائ پھر جہاں جہاں ملازمت کی وہاں بھی سخت محنت کی اور شادی کے بعد خاص طور پر امی کی نصیحت کا خیال رکھا۔اپنےبچوں کو بھی یہ ہی نصیحت کرتی ہوں کہ جس چیز سے جڑ جاؤ اس کے وفادار اور ذمہ دار ہوجاؤ۔

لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
لوگ ظالم،خود غرض اورموقع پرست ہوتے ہیں۔اب خاندانی لوگ خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
موجودہ معاشرہ مادیت پسند اور مادیت پرست ہے۔ایک دوڑ ہے جس میں لوگ جیتنے کی دھن میں بھاگےجارہے ہیں۔نہ کسی چیز،واقعے،انسان سے عبرت لیتے ہیں نہ کچھ سوچتے ہیں۔ بس افراتفری کا عالم ہے۔سارے انسان برے نہین ہیں۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اچھےلوگ آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔

کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری/شاعرہ نہ ہوتی تو کیا ہوتی ؟
حساس ادارے کی افسر ہوتی کیوں کہ بچپن سے مجھے آئ۔ایس آئ میں جانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔

لکھنے کی طرف کب آنا ہوا ؟
امی کو پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔امی بچپن میں نونہال،بچوں کا باغ وغیرہ جیسے رسالوں سے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سناتی تھیں لہذا سن سن کر لکھنے کا شوق ہوا۔

پہلی تحریر یا کلام کونسا تھا اور کیسا رسپانس رہا ؟

یہ سوال اوپر موجود ہے۔

جدید دور میں لکھاریوں کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
امید ۔۔۔۔مثبت سوچ!
ہر وقت قرآن پاک کی یہ أیت ذہن میں رکھے۔لا تقنعطو من الرحمۃ اللہ۔

سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
بے حد شوقین ہوں۔ابھی تک اپنے وطن پاکستان کی سیر کی ہے۔اور تقریبا تمام سیاحتی مقامات دیکھ لیے ہین ۔ اسلام آبادمجھے بے حد پسند ہے۔

کھانا پکانے کی شوقین ہیں یا کھانا کھانے کی ؟
دونوں کی۔مجھے اچھا پکانے کے ساتھ ساتھ خوب صورت انداز میں کھانا پیش کرنا بہت اچھالگتاہے۔ہوٹلنگ بھی مرغوب ہے۔

آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

وفاداری اور ذمہ داری!
زندگی وفاداری اور ذمہ داری کا دوسرا نام ہے۔

زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
میری زندگی کی سب سے قیمتی چیز میرےوہ رشتے ہیں جو اللہ پاک نے مجھے دئیے ہیں۔الحمدللہ!وہ میرے ساتھ اور پاس ہیں!

زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
جی ہاں!بہت سے واقعات ہیں جو میں اپنی طالبات کو سناتی ہوں وہ بھی محظوظ ہوتی ہیں۔
یونی ورسٹی کا زمانہ تھا۔میں نے صوبۂ سندھ میں مباحثےمیں جو کراچی میں منعقد ہوا تھا پہلی پوزیشن لی تھی۔اس وجہ سے سندھ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر مظہر الحق صدیقی مجھ سے بہت خوش تھے اور ان دنوں HEC کابڑا چرچا تھا۔مجھے بھی اس کا ممبر منتخب کیا گیا اور ایسی ہی ایک تقریب میں وائس چانسلر ہاوس مدعو کیا گیا۔میں شاید ایک اور مقابلہ جیت کر آئ تھی۔نیا نیا جوش تھا۔جب ہمیں معلوم ہوا کہ وائس چانسلر ہاوس میں بہ طور مہمان مدعو ہوں توپیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے خیر جناب جب وائس چانسلر ہاؤس پہنچے تو ویٹرز وغیرہ یہاں سےوہاں خدمت انجام دیتے دکھائ دیے ۔پہلی مرتبہ بوفے کیا ہوتا ہے یہ مجھےوہی معلوم ہوا۔ایک باوقار خاتون بھی ان کے درمیان موجود تھیں۔میں نے انہیں غور سے دیکھا انتہائ سادگی تھی ان کے انداز میں ۔حتی کہ لمبے لمبے بالوں میں سادہ سی چٹیا گوندھ رکھی تھی۔ اور کلپ یا بینڈ کچھ بھی نہین تھا۔میں انہیں دیکھتی ہوئ أگے بڑھی اور ان ہی کی میز پر بیٹھ گئ توارد گرد کی خواتین نے مجھے گھورا میں اداۓ بے نیازی کے ساتھ بیٹھی رہی میرے سامنے والی کرسی پر وہ بیٹھی مجھے دیکھ کر مسکراتی رہیں اور پوچھا کچھ چاہیے میں نے کہا جی ہاں لیکن واں رش ہے۔انوں نے ویٹر کو آواز دی اور وہ ویٹر الہ دین کے جن کی طرح اشیاۓ خوردو نوش رکھ کر چلا گیا۔پھر انوں نے بہت ہی ملائم لہجے میں فرمایا أپ ڈیبیٹس کرتی ہیں ناں۔اففف! میں توبہت خوش ہوگئ کہ یہ خدمت گار بھی مجھے جانتے ہیں۔میں انہیں ویٹرز کا معاون و مددگار سمجھی۔پھر انوں نےمجھے مزے سے کھاتے دیکھا تو پوچھا اور کچھ منگواؤں میں نے کہا جی جی کھیر منگوا دیں اور پانی بھی۔انوں نے خوش مزاجی سے اوکے کہا ۔ساتھ بیٹھی خواتین حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھیں اتنے میں وائس چانسلر صاحب. ہماری ٹیبل پر آگئے اور انہی خاتون سے مخاطب ہو کر اپنے مخصوص ،گونج دار لہجے میں کہا”اختر آپ انھیں جانتی ہیں ناں۔نسیم امیر عالم۔بیسٹ ٹیبیٹر!!
اور ہم جو وائس چانسلر کو آتا دیکھ کرکھانا،پانی،میٹھا سب چھوڑ چھاڑ کر بوکھلا کرسلام کرنے کھڑے ہو گئے تھے ۔یہ سن کر نوالہ حلق میں پھنس گیا کہ اتنی دیر سے جن سے اپنی فرمائیشیں پورےمی کروا رہے تھے وہ مسز وائس چانسلر یعنی میم اختر تھیں۔
میری حالت دیکھنے والی تھی۔ میں بس میم ۔۔۔۔میم سلام کہتی رہ گئ ۔اور وہ مسکراتی رہیں۔

نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
سوانح عمری پڑھا کیجیےاو۔مطالعے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔

اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی ؟
یہ ایک باوقار،منظم،اور انسان دوست ادبی تنظیم ہےاور ۔مجھےاپووا کا حصہ بن کر دلی خوشی محسوس ہوئ ہے۔سر علی اپووا کی جان و شان ہیں۔
اپووا اپنی مثال آپ ہے۔

171 total views, 27 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *