درد بھی کھینچ میری تصویر کے ساتھ
فٹ پاتھ پر بیٹھی وہ لڑکی، جو گاڑی کا انتظار کر رہی تھی ۔ایک عجیب سی خوبصورتی کی مالک تھی، مگر اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی اور گہرائی تھی جیسے اس نے صدیوں کا سفر طے کیا ہو۔ وہ سادہ سے گھسے سوٹ میں دوپٹہ سنبھالے، بنا میک اپ کے بیٹھی تھی۔اس کی سادگی میں کچھ ایسا تھا جو دل کو چھو لیتا تھا۔ میں بھی وہاں گاڑی کا انتظار کر رہی تھی۔ میں بھی اپنا عبایا سنبھالتے ہوئے اس کے برابر بیٹھ گئی،
وقت دیکھا ،گاڑی آنے میں بیس منٹ تھے۔ جیسے ہی میں بیٹھی اس نے چونک کر میری طرف دیکھا اور ایک نرم سی مسکراہٹ میری طرف اچھالی۔ میں بھی مسکرا دی، اور پھر بات کا آغاز ہوا۔
وہ اتنی سی عمر میں اتنی سنجیدہ لگ رہی تھی، جیسے کوئی پچاس سال کی خاتون ہو، لیکن وہ بمشکل پچیس سال کی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں ایسی پختگی تھی جو شاید بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔
باتوں میں باتیں شروع ہو گئیں، اور کچھ ہی وقت میں یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ تنہائی سے تھک چکی تھی، اس لیے کسی سے بات کرنے کی خواہش محسوس کر رہی تھی۔ وہ بتانے لگی، “جب میں کافی چھوٹی تھی، تو ہوش سنبھالتے ہی گھر کا دباؤ سامنے آیا۔ پڑھنا ہے پڑھنا ہے، کبھی مدرسہ، سکول، تو کبھی ٹیوشن۔ اور اماں کا بھی ساتھ تھا، وہ ہمیشہ کہتیں، گھر کے کام بھی سیکھ لو۔”
اس کی آواز میں ایک ماضی کی تھکن اور ایک خاموش خواہش تھی کہ شاید کبھی کچھ وقت خود کے لیے بھی ملے، جہاں وہ صرف اپنی باتیں کر سکے بغیر کسی ذمہ داری کے۔ پھر وہ کہتی ہے، “گھر کا کام، پڑھائی، بس یہی تھا۔ کب بچپن گزرا، پتہ ہی نہیں چلا۔”
یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا، بلکہ وقت نے مجھے اس بدلاؤ کی طرف دھکیل دیا۔ جہاں تک یاد آتا ہے، میری زندگی ہمیشہ اماں کی رہنمائی میں تھی۔ مجھے ایک گھریلو لڑکی کی طرح تربیت دی گئی، جہاں ہر قدم پر اماں کی ہدایات، ان کی دعائیں اور ان کی محبت تھی۔ میری دنیا ان کے ہاتھوں میں تھی، میں ان کے فیصلوں کی عکاس تھی، اور ہر لمحہ ان کی ہمت اور محبت کی پناہ میں تھی۔ جیسے ایک گڑیا، جو اماں کے ہاتھوں میں بندھی تھی، بس اُسی طرح میری زندگی کا ہر رنگ اماں کے رنگوں سے ہی جھلکتا تھا۔
مگر پھر وہ حادثہ ہوا جب مجھ سے سب کچھ چھن گیا، میری زندگی کا رُخ بدل گیا۔ پھر معلوم ہوا وہ ہاتھ جو میری زندگی کی رہنمائی کریں گے وہ چاچو کے ہوں گے۔ وہ لمحہ، جب اماں کے بعد میری تقدیر کا کنٹرول چاچو کے ہاتھوں میں آ گیا، جیسے میری دنیا کا توازن یکدم الٹ گیا ہو۔ میرا سامنا ایک نئی دنیا سے ہوا، میری پرورش کا ہر زاویہ، ہر رنگ، اب چاچو کے طریقے سے بدلنے والا تھا۔
اور پھر وہی ہوا، وقت نے بول دیا۔ چاچو نے ایک دن کہا، ” میں چاہتا ہوں اب تم کماؤ، اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤ تاکہ تم سسرال میں ظلم کا شکار نہ ہو۔” یہ الفاظ میرے اندر ایک عجیب سا طوفان لے آئے۔ کیا یہی عورت کی تقدیر ہے؟ کیا یہی میری زندگی ہے؟ میرے خواب تو پھولوں جیسے تھے، ایک اچھی، نرم، محبت بھری عورت بننا چاہتی تھی، جو اپنی زندگی کو سکون سے گزارے۔ لیکن اب، وہ خواب ٹوٹ کر یہ سوال بن گئے کہ کیا مجھے مرد کی طرح بننا ہوگا؟
میرے اندر عجیب کشمکش تھی، وقت کے ساتھ میں چل رہی تھی ،اپنے حالات کے مطابق اپنے آپ کو بدل رہی تھی ۔ زندگی نے وہ راستہ دکھایا جس پر چلنا ہی تھا۔ اب میں خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہوں، تاکہ نہ صرف سسرال میں بلکہ ہر جگہ میں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہو سکوں۔
اب میری زندگی کے خواب ایک طرف ہو گئے، اور ایک نیا خواب میرے اندر جنم لینے لگا۔ میں ایک شوخ چنچل لڑکی سے ایک لڑکی سے مرد نما عورت بن گئی۔ وہ ساری نرمیاں، جو مجھے کبھی عورت ہونے کی حیثیت سے ملنی چاہئے تھیں، وہ سب پیچھے رہ گئیں۔ مجھے اب اندھیروں سے، جانوروں سے، یا کسی بھی چیز سے خوف نہیں لگتا۔ میرا خوف کہیں کھو گیا ہے، اور مجھے اپنی اذیت کا یہ سب حصہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ اب کیوں مجھے وہ عام خوف نہیں لگتا جو عام لڑکیاں محسوس کرتی ہیں؟ کیوں میں اپنی زندگی میں اتنی سخت ہو چکی ہوں؟ مجھے کیوں نہیں لگتا کہ میں ایک نرم، ملائم لڑکی کی طرح زندگی گزار سکوں؟
میرے دل میں ایک خواہش ہے کہ میں کسی دن عام لڑکی کی طرح زندگی جیوں، وہ سادگی، وہ سکون جو کبھی میرے خوابوں میں تھا۔ میں چاہتی ہوں کہ میرا شوہر ہو، جو میرے لیے کمائے، اور جب وہ گھر میں داخل ہو، تو اس کی مسکراہٹ کی وجہ میں ہوں۔ وہ محبت، وہ تعلق، جو ایک عورت اپنے شریک حیات سے چاہتی ہے، وہ چاہتی ہوں۔
اس نے میری طرف خالی نظروں سے دیکھا، پھر آہستہ سے کہا، “جانتی ہو، لاریب، اقراء میرا سب سے بڑا دکھ کیا ہے؟ میرے جو ہونے والے شوہر ہیں نا، وہ بھی چاہتے ہیں کہ میں کماؤں اور اس کے ساتھ مدد کروں۔ اسے گھر میں بیٹھ کر کھانے والی لڑکیاں نہیں پسند۔” اس کی آواز میں ایک گہری تھکن تھی، “کیا مطلب؟ کیا میری ساری زندگی ایسے ہی مزدوروں کی طرح گزرے گی؟ کیا میں کبھی جی نہیں سکوں گی؟”
اس کے الفاظ میں اتنی بے بسی سے بھرے سوالات تھے، جیسے وہ خود سے لڑ رہی ہو۔ میں بس خاموش تھی، کیونکہ مجھے وہ درد سمجھ آ رہا تھا۔ پھر گاڑی آگئی، اور ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔ اس کی گاڑی میری گاڑی کے بعد آنے والی تھی، اور جب میں نے اس کی گاڑی کی کھڑکی سے اس کی طرف دیکھا، وہ خالی سڑک کو تک رہی تھی، جیسے سوال کر رہی ہو، “کیا مجھے جینا چاہیے؟”
وہ سوال جو اس کی آنکھوں میں تھا، وہ سوال میں بھی محسوس کر رہی تھی۔ زندگی کا یہ پیچیدہ رستہ، جہاں کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ نہیں بچا، لیکن پھر بھی جینا پڑتا ہے، کہیں نہ کہیں ہمیں اپنے اندر ایک وجہ ڈھونڈنی ہوتی ہے۔
لکھاریہ
لاریب اقراء
471 total views, 3 views today
























Leave a Reply