سیلاب کے بعد کے خوفناک حقائق
ساری عوام اس وقت سیلاب کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ گھروں کے ڈوب جانے کا دکھ، مال مویشی اور جمع پونجی کا ختم ہو جانا ایک الگ المیہ ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ سیلاب کے بعد اُن لوگوں کا کیا ہوتا ہے؟ جب پانی اترتا ہے تو پیچھے صرف تباہی نہیں رہتی بلکہ ایک اور خوفناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے—جرائم کا سلسلہ۔
گزشتہ برسوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، ہم سب بے بس ہو جاتے ہیں کیونکہ پانی کو روکنا ہمارے ہاتھ میں نہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ خوف شروع ہوتا ہے جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ بے روزگاری، بھوک اور مجبوری لوگوں کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں کرائم بڑھنے لگتا ہے۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب ہمارے علاقے میں بچوں کو اٹھا لیا جاتا تھا۔ اُن کے گردے نکال کر کھیتوں میں پھینک دیا جاتا۔ ایک بچہ تو ہماری ساتھ والی گلی کا تھا جسے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اللہ کا کرم کہ اس کی ماں چیختی چلاتی وہاں پہنچ گئی اور لوگ اکٹھے ہو گئے۔ لیکن وہ منظر آج بھی ذہن سے نہیں نکلتا۔
اسی طرح ایک بار اسکول سے واپسی پر ہم چند لڑکیاں ساتھ تھیں۔ اچانک دو موٹر سائیکل سوار آئے اور ہمیں بلانے لگے۔ ہم سب نے اندھا دھند دوڑ لگا دی اور گھر پہنچ گئے۔ وہ لوگ دروازے تک پیچھے آئے تھے۔ آج بھی اُن کے منہ پر لپٹی چادریں اور گرمی کے وہ دن یاد ہیں۔ اس واقعے کے بعد ہماری ماؤں نے گھروں کے اندر سے تالے لگانے شروع کر دیے۔ ایک روٹین بن گئی تھی کہ گھر میں ایک فرد جاگے گا اور باقی سوئیں گے، کیونکہ راتوں کو اکثر بچے دیواریں پار کرکے اٹھا لیے جاتے تھے۔ سردیوں میں بھی وارداتیں ختم نہیں ہوتی تھیں۔ چھتیں پھاڑ کر چور اندر آ جاتے تھے۔
یہ سب محض ماضی کی داستان نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہر سیلاب کے بعد دہرائی جاتی ہے۔ اور اس بار تو لگتا ہے کہ حالات اور بھی سنگین ہوں گے۔ جرائم اپنی انتہا کو چھوئیں گے۔
میں اکثر ایسے موضوعات پر نہیں بولتی، بحث اور الجھن سے بچتی ہوں۔ مگر آج دل نے کہا کہ اپنی بہن کو سنائے گئے یہ الفاظ سب تک پہنچا دوں۔ سیلاب کے بعد آنے والا وقت شاید سب سے زیادہ کڑا امتحان ہے۔
اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
تحریر لاریب اقراء
176,481 total views, 249 views today
























Leave a Reply