اولاد کا دکھ
اس کا باپ محنت مزدوری کرتا تھا ، اتنے برے حالات بھی نہیں تھے گزارا اچھا ہو رہا تھا ، اس کی ماں زمین دار کے گھر کام کرنے جاتی دو وقت کا کھانا ادھر سے ہی آ جاتا ، ان دونوں بہن بھائیوں کا بھی چوہدرائن بہت خیال رکھتی ،
اس نے ان کی ماں کو کہا وقت بدل رہا ہے اپنے بچوں کو سکول کو بھیجنا ، خرچہ ہم دیں گے اس کی فکر نا کرنا ، بچے زہین ہیں پڑھ لکھ جائیں گے زندگی سنور جائے گی ۔
وہ میاں بیوی آنکھیں بند کر کے چوہدری ، چوہدرائن کی بات مانتے تھے ، ان کا کہا تو ٹال ہی نہیں سکتے تھے
بڑے نازو نعم سے پالا تھا ماں باپ نے ان کو ، بڑے لاڈ اٹھائے تھے ، اپنی استطاعت کے مطابق ان کی سب فرمائشیں پوری ہوتی تھیں
گاؤں میں میلا لگا تو باپ سے ضد کر کے وہ میلا دیکھنے گئے دونوں اپنی پسند کے کھلونے لیے ، جھولے جھولے ، خوب موج مستی کی ۔
واپس آ کے پنڈ کی سہیلیوں کو وہ اپنی گڑیا دیکھاتی پھرتی کہ آبے نے میلے سے لے کے دی ہیں ، اور باقی سب اس کی سکھیاں حسرت سے تکتی رہتیں۔
پانچ جماعتوں تک ہی وہ سکول پڑھ پائی تھی
چوہدری صاحب کا بیٹا ولایت سے ڈاکٹر بن کے آیا تھا تو ماں باپ کو شہر اپنے ساتھ لے گیا ، حویلی کو تالے لگ گئے
ان کی زندگی بھی گزر رہی تھی وہ تو گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور فارغ وقت میں سلائی کڑھائی کرتی ، اس کا بھائی بس سارا دن گلی کے چوکوں چوراہوں پہ بیٹھا ملتا ، پڑھ وہ نہیں سکا بس کھیل کود میں وقت برباد کیا
باپ بوڑھا ہوچکا تھا مگر اس کو احساس نہیں تھا کہ وہ اب اس قابل نہیں کہ محنت مزدوری کرے کئی بار باپ نے کہا بھی کہ اب اس کی بوڑھی ہڈیوں میں دم نہیں رہا مگر وہ ایک کان سے سنتا دوسرے کان سے نکال دیتا ، اس کی صحبت بہت خراب تھی ، نشہ بھی کرنے لگا تھا ، پہلے تو چھپ کے کرتا تھا مگر اب گھر والوں کے سامنے بھی کرنے لگا ، چوری چکاری بھی شروع کر دی ، گاؤں کے لوگوں نے کئی مرتبہ اس کے باپ سے شکایت کی تھی مگر گھر والوں کے کہنے سننے میں تھا ہی کب ؟
ایک دن چوری کرتے پکڑا گیا ، پولیس پکڑ کے لے گئی ، باپ نے بہت دوڑ دھوپ کی چھڑوانے کی مگر وہ موقع پہ پکڑا گیا تھا اور پچھلی ساری چوریوں کا اس نے اعتراف بھی کیا اس لیے عدالت سے اس سزا ہوگئی اور وہ جیل چلا گیا ۔
ماں باپ کو جواب بیٹے کا دکھ کھا گیا۔
ماں باپ بوڑھے تھے بھائی سر پہ نا تھا تو وہ بھی ناڈر ہوگئی گاؤں کے ہی لڑکے سے اس کا چکر چل پڑا ،
کچھ وقت سے اس کی ماں اس کی ذات میں آنے والی تبدیلیوں کو دیکھ رہی تھی اور آنے والے وقت سے ڈر رہی تھی
اور اسی ڈر کے پیش نظر اس نے بیٹی سے بات کی تو اس نے اعتراف کیا
وہ چپ ہو کے بیٹی کو دیکھ رہی تھی جہاں اس شخص کے ذکر پہ اس کے چہرے پہ لالی اتر آئی تھی
اس نے بیٹی سے کہا کہ وہ لڑکے کو کہے کہ گھر والوں کو بھیجے رشتے کے لیے ۔ لڑکے کے گھر والے نا مانے کیونکہ وہ چور کی بہن تھی ۔ انہوں نے گھر سے بھاگنے کا پلان بنایا ۔
بوڑھے ماں باپ کی عمر بھر کی جمع پونجی اس نے سمیٹی اور رات کے اندھیرے میں گھر کی دہلیز پار گئی ، صبح پہلے ٹائم ہی وہ شہر پہنچ گئے جہاں عدالت میں انہوں نے نکاح کر لیا اور یہاں ہی باقی جی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ کرائے کا گھر لیا ۔ اس کے شوہر نے شہر مل میں مزدوری شروع کر دی وہ کڑھائی سلائی جانتی تھی گھر پہ رہ کے کام کرنے لگی ، کبھی کبھی کام کرتے ماں باپ کا خیال آتا تو اس کا دل کرتا وہ گاؤں جائے اور جا کے ان سے معافی مانگے مگر ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ نا ہوا ۔
وقت گزرتا رہا اللہ تعالیٰ نے گڑیا جیسی بیٹی سے نوازا ، اب کی بار ان دونوں نے فیصلہ کیا گاؤں پلٹنے کا ، وہاں گئے تو لڑکے کے ماں باپ نے اب بھی ان کو قبول نا کیا۔ اس کے گھر گئے تو وہاں تالا لگا تھا ارد گرد سے پتا چلا کہ جب وہ رات کی تاریکی میں ماں باپ کی عزت خاک میں ملا کے نکلی ہے صبح اس کا غیرت مند باپ یہ دکھ برداشت نا کرسکا اور مر گیا ، کچھ عرصہ ماں بھی زندہ رہی اور پھر وہ بھی اللہ کو پیاری ہو گئی
بھائی جیل سے رہا ہو کے آیا ، نشے کی لت چھوٹی نا تھی ایک دن زہریلی شراب نے اس کی جان لے لی اور اس کی لاش کوڑے کے ڈھیر پر سے ملی گاؤں والوں نے ترس کھا کے کفن دفن کا انتظام کردیا تھا ۔
وہ دونوں مایوس شہر لوٹ آئے
اس دن کے بعد سے اس کے دل پہ بوجھ سا تھا ،شوہر تو دنیا کے جھمیلوں میں مصروف ہوگیا مگر وہ ندامت ، اور احساس گناہ کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی
وہ اپنی بیٹی کی بہت اچھی تربیت کر رہی تھی ، اس کا بہت خیال رکھتی ، سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی ، اچھے برے کی تمیز سکھاتی ، دین دنیا کا علم سکھا رہی تھی
ابھی وہ آٹھویں کلاس میں تھی کہ اس کے شوہر نے کہا کہ کچھ لوگ گڑیا کو دیکھنے آ رہے ہیں وہ حیران ہوئی کہ گڑیا تو ابھی بہت چھوٹی ہے اور پڑھ رہی ہے اس کا شوہر جو کھانا ختم کر کے اٹھ رہا تھا اس کے دوپٹے کے پلو سے ہاتھ صاف کرتے کہتا ،
کہ وہ نہیں چاہتا اس کی بیٹی ماں کے نقش قدم پہ چلے اور ان کا منہ کالا کرے یہ جملہ سن کے اس کے پاؤں سے زمین نکل گئی
جس شخص کے لیے اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا ، بوڑھے والدین کو بے سہارا چھوڑا تھا اور وہ بدنامی کا داغ سہی نہیں پائے تھے آج وہ شخص اس کی ریاضتوں کا یہ صلہ دے رہا تھا
وقت سے پہلے وہ بوڑھی ہوگئی ، ایک غلطی نے اس کی زندگی برباد کر دی
اس کی بیٹی اکثر اس سے نانا، نانی کے بارے میں سوال کرتی تو وہ سوچتی کہ وہ کیا بتائے بیٹی کو ؟؟ کیا کہانی سنائے ؟؟
کیا سچ بتا دے کے اس کے اٹھائے ایک غلط قدم نے اس کے والدین کو جیتے جی مار دیا تھا وہ والدین جو پہلے ہی جوان بیٹے کی جدائی کا دکھ جھیل رہے تھے ، وہ بہت کچھ کہنا چاہتی مگر پھر
بس یہ کہہ پاتی کہ
اس کے والدین کو اولاد کا دکھ کھا گیا۔
لکھاریہ
عابدہ نذر
492 total views, 3 views today
























Leave a Reply