یاد ماضی

افسانہ
یاد ماضی

لکھاریہ
اقصیٰ باجوہ

مہرین اپنے کمرے میں تنہا بیٹھی یاد ماضی میں گم خود سے ہمکلامی کے انداز میں
مخاطب ہو کر میں پھر سے وہی لمحات تمہارے سنگ جینا چاہتی ہوں ۔مجھے آج بھی یاد بابل کے گھر سے رخصتی کے بعددوران سفر جب میں نے اپنے ساتھ بیٹھی عورت کو کہا تھا ۔آپی میرا دل گھبرا رہا ہے۔
تو تم نے رستے میں ریفرشمنٹ کے باہر گاڑی رکوا کر آئیس کریم لا کر مجھے تھما دی تھی اور گاڑی کا دروازہ بند کرنے سے پہلے
تم نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر مجھے پر سکون رہنے کو کہا تھا ۔میں گھونگھٹ میں سے بھی تمہارے چہرے پر موجود اپنے لئے فکر کے آثار دیکھ رہی تھی ۔اور اپنی قسمت پر رشک کر رہی تھی ۔ اور دل میں آنے والے حسین لمحات کو محسوس کرتے ہوئے پرسکون ہو گئی تھی ۔
مجھے آج بھی یاد ہےجب میں تمہارے قدم ساتھ قدم ملاتی تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔گھر کی دہلیز پار کی تھی ۔
تو اس وقت بھی تم نے میرا کانپتا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر خود کی موجودگی کا احساس دلایا تھا اور پھر رسومات کے بعد تمہارے کمرے میں بٹھایا گیا ۔
مجھے آج بھی یاد وہ محبت سے تمہارے ہونٹوں کا وہ پہلا لمس جو تم نے کمرے میں آنے کے بعد میری پیشانی پر دیا تھا ۔
آج بھی تیرے لمس کی حدت کے احساس سے میری پیشانی دھکتی ہے ۔
بہت حسین خواب کی طرح زندگی چل رہی تھی ۔
کہ بظاہر اچانک ہوا سب جو ناقابل یقین تھا میرے لئے لیکن کچھ بھی اچانک نہیں ہوتا ۔میں یہ بات بخوبی سمجھ چکی تھی۔ اس دن جب تم نے مجھے پہلی بار کہا تھا ۔میں نے تم سے شادی گھر والوں کی مرضی سے کی تھی ۔میری مرضی اس میں شامل نہیں تھی ۔یہ وہ پہاڑ تھا جو تیرے لفظوں کی صورت مجھ پر گرا پھر لاکھ دلیلوں تاولوں منتوں سماجتوں الفتوں محبتوں کی التجائیں بے کار گئیں ۔

جب دو ماہ کے حمل ساتھ مجھے گھر سے نکلنے کو کہا یہ بظاہر سب نارمل دکھ رہا تھا کہ میں ماں باپ کے گھر جا کر اپنے بیٹے ساتھ واپس اسی گھر میں آؤں گی۔کیونکہ میں نا سہی تیرا خون تجھے تیرا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دے گا ۔لیکن افسوس صد افسوس !تو بے حس خود غرض لالچی بد فطرت انسانثابت ہوا اور میرے بیٹے کی پیدائش کے ٹھیک تین ماہ بعد طلاق کے کاغذات مجھ تک پہنچا دئیے ۔
اس گھر سے نکلنے اور طلاق تک کے دن تک کوئی اک لمحہ ایسا نہ تھا جب تڑپ کر تجھے میسجز کالز نا کی ہوں لیکن
شاید تیرے چھوڑ دینے کے فیصلے نے تیرے ساتھ ساتھ تیری سوچ و دماغ کو بھی گہن لگا دیا تھا کہ تو نے مجھے اک بھی میسج کا جواب دینا گوارا نہ کیا اور یوں اک روتی بلکتی زندگی نے عین اسی جگہ طلاق کا کلنک سجا لیا جہاں تو نے محبت کی پہلی مہر ثبت کی تھی ۔یوں یہ نشان آج بھی دہکتا ہے ۔
جب جب تیری یاد کا ناگ ڈستا ہے ۔ہاں محبت محبت ہی تھی مجھے تم سے جو یہ سب ہونے کے بعد بھی تمہیں کبھی قصور وار نا ٹھہرا سکی ۔لیکن! کاش کہ تم نے صرف اک بار یہ سب کرنے سے پہلے پلٹ کر دیکھا ہوتا ۔تو مجھے یقین تھا میں تمہیں منا سکتی تھی لیکن قسمت ایسی کے ملن نصیب نا ہوا دوبارہ اور راہیں جدا ہو گئیں ۔نصیب کا لکھا سمجھ کر تمہیں تمہارے ہر عمل سے آزاد سمجھا لیکن ڈرتی ہوں مکافات عمل سے
جب تم اس کی چکی میں پسو گے ۔میں اس مکافات عمل کے سامنے بے بس ہوں ۔جس نے تمہیں جگڑنا ہےاور دعا کرتی ہوں ۔
مکافات عمل تک کا سامنا ہونے سے پہلے تمہیں اپنے کئیے کا احساس ہو جائے ۔
بے شک اب اس احساس کے ہونے کا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔مجھے نا سہی تجھے تو فائدہ ہو گا کہ تو مکافات عمل کی چکی میں پسنے سے بچ سکے ۔دل مضطرب کی آہ ہی کافی ہے ۔
کجا کہ ہاتھ بلند کئیے جائیے۔۔۔۔

مہرین نے اپنے ہاتھوں سے گیلے گالوں کو بے دردی سے مسلا
اور زمانے کی بے دردی بے حسی کے ڈر سے خود میں سمٹ گئی۔

264 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *