دل کے ویرانے کو شاید کہ قرار آجاۓ
جانے والا اگر لوٹ کے گھر آجاۓ

وہ جو لڑتا تھا،جھگڑتا تھا،رُوٹھ جاتاتھا
کاش اک بار مان رکھ لے تو چین آجاۓ

یہ جو پھیلی ہے چار سُو اُداسیوں کی لہر
وہ جو اک بار ہنس کے دیکھے بہار آجاۓ

اب تو عادت سی ہے اندھیروں میں جیتے رہنے کی
کوٸ جو شمع جلاۓ تو خوف آجاۓ

یہ جو اک عُمر اذیتوں میں میری گزری ہے
بخش دوں سب، گر وہ اب کی بار آجاۓ

موسموں کی سی شدت سے پکارا ہے اُسے
کاش وہ سمجھے اور پھر بے اختیار آجاۓ

ڈاکٹر مریم عرفان

3,900 total views, 9 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *