افسانہ۔ وظیفہ
وظیفہ
رشنا اختر
مجھے کوئی ایسا عامل بتاؤ جو میرا کام منٹوں میں کر دے ۔ سکھاں نے اپنی پیاری سہیلی مراداں سے کہا ۔ اس کا لہجہ غمگین تھا ۔ ٹھیک ہے میں تمہیں آج شام ہی عامل بابا کے پاس لے جاؤں گی وہ تجھے تیرے مسئلے کا حل ضرور بتائیں گے ۔مراداں نے مسکراتے ہوئے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا ۔ تو عامل بابا کا دیا ہوا وظیفہ کر رہی ہے نا ؟ مراداں نے سکھاں کو دیکھتے ہی پوچھا ۔ ہاں کر تو رہی ہوں لیکن سانول مجھ سے بہت بدگمان ہوتا جارہا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ مُجھے کبھی نہیں ملے گا اور سنا ہے اگلے ہفتے اس کی شادی ہے اور اگلے ہفتے ہی میرا وظیفہ مکمل ہوگا ۔ سکھاں نے سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا ۔ تو فکر نہ کر عامل بابا بڑے پہنچے ہوئے ہیں ۔ مراداں نے ہنسی چھپاتے ہوۓ کہا۔ مراداں اری او نامراد تونے یہ کیسا عامل بابا ڈھونڈ کر دیا ہے جس کا وظیفہ اثر نہیں کر رہا اور دیکھ وہ دور سڑک پر سانول کی بارات جارہی ہے ۔ سکھاں نے سڑک کی جانب ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔ مراداں نے قہقہہ لگایا اور بولی ہاۓ ری سکھاں کاش تو چند جماعتیں پڑھی ہوتی تو تجھے معلوم ہوتا کہ جو تعویذ تو جلاتی رہی ہے ان پر دو کا پہاڑہ اور وظیفہ جو تو صبح شام پڑھتی رہی ہے وہ زم زم والی شیشی پر لکھی کوئی عبارت تھی جس کا ترجمہ تو مجھے بھی نہیں معلوم اور ہاں عامل بابا بھی اپنا ہی بندہ ہے وہ تو بس گھر کا خرچہ نہیں تھا تو مجھے یہ ڈرامہ کرنا پڑا اور ویسے بھی میرے مانگنے پر بھی تونے مجھے ادھار نہیں دیا۔ مراداں نے کھی کھی کرتے ہوۓ کہا ۔ چل پرے ہو تیرا ستیا ناس ہو مراداں تیرا بیڑا غرق ہو سکھاں اسے بددعائیں دیتی وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔
راجا صاحب وہ مراداں آئی ہے اپنی خاندانی زمین کے سلسلے میں کہیں تو بلالوں؟ نوکر نے پوچھا ۔ راجا جی نے قہقہہ لگایا چند جماعتیں کیا پڑھ لیں اس مراداں نے اور سمجھتی ہے وہ عالمہ ہوگئی ہے اور زمانے کا ہر چھل جانتی ہے ۔ راجا جی نے دھیمی آواز میں خود کلامی کی ۔ پھر زوردار آواز میں نوکر سے کہا کہ مراداں کو آنے دو ۔ مراداں نے آتے ہی مدعا بیان کیا ۔
بات سن مراداں تیرا شمار گاؤں کی چند پڑھی لکھی عورتوں میں ہووے ہے اس لیے میں نے سوچا ہے کہ تیرا وظیفہ لگا دوں تاکہ تیرے ٹبر کا گزر بسر ہو جاوے ۔ راجا جی نے حقے کا گہرا کش لگاتے اپنے روایتی انداز میں کہا ۔ لیکن مہاراج ہماری زمین کا کیا بنا ؟ مل تو جاۓ گی نا ؟ مراداں نے افسردگی سے پوچھا ۔ اری مراداں کیسی زمین کاہے کی زمین ؟ تمہیں معلوم ہے نا کہ سرکار نے تمہاری زمین پر سڑک بنا دی ہے ۔ اب سرکار سے کون باز پرس کرے ؟ اتنی تو میری بھی اوقات نہیں ۔ میں نے تیرا وظیفہ لگا دیا ہے بس اب جو وظیفہ مل رہا ہے اس کو غنیمت جان اور رب کا شکر ادا کر ۔ راجا جی نے سخت لہجے میں کہا ۔ مہربانی مہاراج رب سائیں آپ کا بھلا کرے سکھاں چند نوٹ اپنی مُٹھی میں دبائے وہاں سے چل دی۔
402 total views, 3 views today
























بہت اچھا اور بامعنی افسانہ ہے تھوڑی کوشش اور کرکے اسے ایک معاشرتی کہانی میں ڈھالا جاسکتا تھا لیکن پھر بھی اتنے مختصر افسانے کو پڑھ کر یہی کہوں گا کہ سمدنر کو کوزے میں سمودیا گیا ہے۔ ویلڈن رشنا جی چھاگئی ہیں آپ۔ خوش رہیں سلامت رہیں آمین