خون میں رنگا فلسطین
فلسطین… آہ!
یہ نام زبان پر آتے ہی دل کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں، اور سینے سے ایک دبی دبی کراہ نکلتی ہے، جو زمین و آسمان سے انصاف کی فریاد کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا درد ہے جو الفاظ میں نہیں سمویا جا سکتا، صرف آنکھوں کی نمی اور دل کی تڑپ بیان کرتی ہے۔
کاش! اللہ ہمیں اتنی قوت اور حوصلہ عطا کرے کہ ہم فلسطین کو آزادی کی نعمت دلا سکیں، یا کم از کم ان مظلوموں کو اپنے وطن لے آئیں، جہاں وہ سکون سے جی سکیں، جہاں موت کا خوف ان کے دلوں سے مٹ جائے، اور وہ امن و محبت کی فضا میں سانس لے سکیں۔
رابعہ یہ کہتے ہوئے بے ساختہ رو پڑی، اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے دل کی بے بسی کی گواہی دے رہے تھے۔ ہر قطرہ ایک دعا تھا، ایک فریاد، جو آسمانوں تک پہنچنے کی منتظر تھی۔
رابعہ، جو یونیورسٹی میں ایم اے اسلامیات کی طالبہ تھی، اس وقت گراؤنڈ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس کا چہرہ غم کی تصویر تھا، اور آواز میں ایک ایسی اداسی تھی جو سننے والوں کے دلوں کو بھی چھو جائے۔ وہ غزہ کے ان دل دہلا دینے والے حالات کے بارے میں بتا رہی تھی، جنہوں نے اس کے دل پر گہرے زخم چھوڑ دیے تھے۔
“وہ بچے… معصوم، بے گناہ بچے، جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ کو کھوتے دیکھتے ہیں۔ وہ ماں، جو اپنے لختِ جگر کو اپنے ہاتھوں سے دفناتی ہے۔ وہ گلیاں، جو کبھی ہنستے مسکراتے لوگوں سے آباد تھیں، آج کھنڈرات میں بدل چکی ہیں۔” رابعہ نے تھوڑی دیر کے لیے خاموشی اختیار کی، اس کی آواز بھرا گئی تھی۔
پھر اس نے عائشہ کی طرف دیکھا، جو اسے گہرے دکھ اور خاموش آنسوؤں کے ساتھ سن رہی تھی۔ رابعہ نے ایک گہری سانس لی اور دوبارہ بولی، “حرا، کیا تمہیں پتہ ہے، میرے دل کو سب سے زیادہ کیا تکلیف دیتا ہے؟ یہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم صرف یہاں بیٹھ کر ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں، لیکن ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔”
اس کی باتوں نے وہاں موجود ہر دل کو چپ کر دیا۔ ہر کوئی خاموش تھا، جیسے ان کے الفاظ کہیں کھو گئے ہوں۔ اور رابعہ، اپنے آنسو پونچھتے ہوئے، دوبارہ خدا سے دعا کرنے لگی، “یا اللہ، ان کے حال پر رحم فرما، ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہم ان کا سہارا بن سکیں۔”
عائشہ نے رابعہ کے چہرے پر بہتے آنسو اپنے دوپٹے سے صاف کیے اور نرم لہجے میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔
“یا رب العالمین! جو پتھروں میں کیڑے مکوڑوں کو بھی رزق عطا کرتا ہے، میرے فلسطین کے ان معصوم بچوں پر رحم فرما، جو بھوک اور ظلم سے تڑپ رہے ہیں۔ یا اللہ! ان کے حال پر رحم کر، ان کی مدد فرما، اور ان کے دلوں کو سکون عطا کر۔ آمین۔”
رابعہ نے عائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھوں میں تشکر بھر لیا، لیکن عائشہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی، “ہم کتنے ناشکرے ہیں، نا؟ اچھا کھاتے ہیں، پیتے ہیں، اور پھر بھی شکایت کرتے ہیں۔ سوچو، رابعہ، تم نے یہ سب صرف ویڈیوز میں دیکھا ہے، لیکن وہ لوگ جو یہ سب اپنی زندگی میں جھیل رہے ہیں، ان کا کیا حال ہوگا؟”
عائشہ کا دل دکھ سے بھرا ہوا تھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی، اگلے لیکچر کی بیل بج اٹھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، دلوں میں فلسطین کی تڑپ لیے، اور اٹھ کر کلاس کی طرف چل دیں۔ ان کی خاموشی بھی ایک دعا بن چکی تھی۔
اور اس نرم گھاس پر گرے ان کے چمکتے آنسو، جیسے موتی زمین پر بکھر گئے ہوں، ان کی بے بسی کا واضح ثبوت تھے۔ وہ آنسو، جو فلسطین کے درد کو محسوس کرنے کی گواہی دے رہے تھے، یہ دکھا رہے تھے کہ ان کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
مگر…؟
°°°°°°°°°°°
عائشہ نے دھیرے سے اپنے شوہر عمر کو پکارا، جس کا چہرہ کتاب کے صفحات میں گم تھا۔ کھانے کے بعد وہ کتابوں میں محو تھا، لیکن عائشہ کا پکارنا اس کے سکون کو ٹھیس پہنچا۔ اس کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو عمر کی توجہ کھینچ رہا تھا۔
“کیا آپ جانتے ہیں، فلسطین میں کیا حالات ہیں؟” عائشہ نے سوال کیا، اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو عمر کو چونکا گیا۔
عائشہ اور عمر کی شادی کو ابھی صرف دو سال ہوئے تھے، اور ان دو سالوں میں عائشہ نے کبھی سیاست یا ملکی حالات پر گفتگو نہیں کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ عمر نے کتاب سے اپنی نظر ہٹا کر اسے دیکھا اور اس کے سوال کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کی۔ وہ سنجیدہ تھا، مگر خاموش۔
عمر نے ایک لمحہ ٹھہر کر اپنی کتاب بند کی، اور پھر دھیرے سے کہا، “جی نہیں۔” اس کے لہجے میں شائستگی تھی، لیکن ایک غیر محسوس سا تجسس بھی تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ عائشہ کو اس وقت یہ سوال کیوں آیا تھا۔
تب ہی عائشہ نے اپنے موبائل پر کچھ سرچ کیا اور خاموشی سے عمر کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس نے اپنی نظریں عمر کے چہرے پر مرکوز کر دیں، جیسے وہ اس کے چہرے سے کوئی راز اخذ کرنا چاہتی ہو، جیسے اس کی آنکھوں میں وہ درد اور حقیقت تلاش کر رہی ہو جس نے اسے تکلیف دی تھی۔
عمر نے موبائل میں کچھ لمحے گزارے، اور پھر عائشہ کی آنکھوں میں ایک گہرا تاثر دیکھا۔ کچھ دیر بعد، اس کی آنکھوں میں نمی نے جگہ بنا لی۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پا رہا تھا کہ فلسطین میں معصوموں پر جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے، وہ صرف خبریں نہیں، ایک زندہ حقیقت ہے۔
چند منٹ بعد، عمر نے موبائل بستر پر رکھا اور اپنی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔ پھر وہ بغیر کچھ کہے، ان آنکھوں میں ان کہی کہانیوں کا بوجھ لیے، چھت کی طرف چلا گیا۔ اس کے قدموں میں ایک درد تھا، ایک ایسی بے بسی تھی جو لفظوں سے نہیں بیان کی جا سکتی تھی۔
عائشہ نے موبائل کی اسکرین پر نگاہ ڈالی، اور جو منظر اس کے سامنے آیا، وہ اس کی سانسیں روک دینے کے لیے کافی تھا۔ اسکرین پر ایک ویڈیو چل رہی تھی، جس میں ایک نوجوان مرد اپنی بیوی کے مردہ جسم کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی اور دکھ کی ایک گہری لہر تھی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا، اس کا دل بکھر رہا تھا، اور اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو، اس کی زندگی کی سب سے بڑی تباہی کو بیان کر رہے تھے۔
اسی لمحے کچھ لوگ اس کے قریب آئے اور اس کی مردہ بیٹی کا جسم اسے تھما رہے تھے، جیسے وہ ایک ہی دن میں اپنی دنیا، اپنی خوشیاں، اور اپنی محبتیں کھو چکا ہو۔ وہ بیٹا، جو ابھی تک اپنے والدین کی محبت کا متحمل تھا، آج اپنی بیوی اور بیٹی کی لاشوں کے سامنے بیٹھا تھا، اپنی تکلیف کا اظہار کرنے کے لیے لفظ نہیں ڈھونڈ پا رہا تھا۔
عائشہ کا دل دہل گیا، اور اس کے جسم میں ایک سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اس کی آنکھوں میں گہرے آنسو تھے، مگر اس کا دل بے بس تھا، کیونکہ وہ اس منظر کو اور اس درد کو حقیقت میں جھیلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°
عائشہ نے موبائل رکھا اور عشاء کی نماز کے لیے اٹھتے ہوئے دل کی سکون کی تلاش میں اللہ کے سامنے سر جھکا دیا۔ وہ دعا کر رہی تھی، “یا اللہ، فلسطین کے مظلوموں پر رحم فرما، آمین۔”
عائشہ نماز پڑھ کر کمرے میں آئی تو عمر کو اپنے انتظار میں پایا، جیسے وہ بے چینی سے اس کے الفاظ کا منتظر ہو۔ عائشہ نے خاموشی سے اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک گہری تسلی تھی، جیسے وہ جانتی ہو کہ عمر بغیر کچھ کہے اس کے دل کی بات سمجھ سکتا ہے۔ یہی تو میاں بیوی کے رشتہ کی اصل خوبصورتی ہے، کہ الفاظ نہ بھی ہوں، دل ایک دوسرے کی خاموشیوں کو پڑھ لیتا ہے۔
عائشہ نے دھیرے سے بات شروع کی، “آج میری یونیورسٹی میں سہیلیوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔” اس نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور عمر کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے وہ اس کی خاموشی میں چھپے جذبات کو سمجھنا چاہتی ہو۔ عمر نے نرمی سے اپنی نظر سے اس کا حوصلہ بڑھایا۔
عائشہ نے بات جاری رکھی، “وہ کہہ رہی تھیں کہ ہم فلسطین کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے ہیں۔ ان کی آزادی کی جنگ ہم نہیں لڑ سکتے، لیکن ہم ان کے دکھوں میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ہم ان کے لیے کھانا، کپڑے اور ضروریات زندگی فراہم کر سکتے ہیں، ان کی زندگی میں آسانی لا سکتے ہیں۔”
اس کی آواز میں ایک پختہ عزم تھا، اور عمر کی آنکھوں میں اس کی باتوں کا احترام تھا، جیسے وہ بھی اس درد کو دل سے محسوس کرتا ہو۔
عمر نے مسکراتے ہوئے اپنی بیوی کو دیکھا، اور ایک نرم لہجے میں کہا، “مجھے فخر ہے کہ عائشہ، تم میری بیوی ہو، اور اس کام میں میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہیں پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے، میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں گا۔” اس کی آنکھوں میں ایک پختہ یقین تھا، جیسے وہ عائشہ کی ہر بات میں اپنی حمایت کا وعدہ کر رہا ہو۔
“لیکن ان سب کے بعد، میری ایک شرط ہے۔” عمر نے چہرے پر ایک چمک کے ساتھ کہا، اور عائشہ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔ “کیسی شرط؟” عائشہ نے پوچھا۔
عمر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “جاؤ، میرے لیے چائے کا ایک کپ لے آؤ۔” اور پھر تھوڑا رکتے ہوئے، وہ بولا، “اور ہاں، میں ان کے لیے بھی کچھ انتظامات شروع سے ہی کر رہا ہوں، کیونکہ وہ لوگ ہمارے انتظار میں ہیں۔ ہم وقت ضائع نہیں کر سکتے۔”
عائشہ کا دل بھر آیا، اس کی آنکھوں میں ایک نیا عزم جگمگانے لگا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کے ساتھ زندگی کا ہر قدم اسی یقین کے ساتھ چلے گا، جہاں ہر لمحے کی قیمت پہچانی جائے گی۔
لکھاریہ
لاریب اقراء
426 total views, 3 views today
























Leave a Reply