شاعری

یہ جو درد یے

یہ جو درد یے مدھم،وہ ہو بیاں کیسے شکستگی روح کی دنیا سے ہو نہاں کیسے اس کے آنسو نہ تھمے تیرےبچھڑ جانے پر بن گیا دکھ کا میرے چاند پاسباں کیسے کتنے کوسوں کی مسافت پر تیرا یے نگر راستہ تیری نئی بستی کا ہو عیاں کیسے بچھڑنے یہ وہ دھنک شام، لہو رنگ ۔۔۔

پاکستان کے نام

نظم تحریر : سدرہ قیوم ہم سب کا پاکستان ہے جان و تن اس پر قربان ہے ہم سب کا پاکستان ہے یہ گلشن تو ہمارا ہے ہم کو جاں سے پیارا ہے تپتی دھوپ میں چھایہ ہے سر پہ ہمارے سایہ ہے جان و تن اس پر قربان ہے ہم سب کا پاکستاں ہے ۔۔۔

ڈاکٹر مریم عرفان

دل کی بات گر میری زبان پر آجاۓ قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آجاۓ میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اُسے وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آجاۓ ساحل پہ کھڑی مُدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے میرے حصے کے اُس سیپ میں موتی آجاۓ میری محبت کی لگاٸ قیمت اُس دلِ ۔۔۔

صبغۃ اللہ کا سفر

صبغۃ اللہ کا سفر بہ نوک خامہ: حافظہ صباء بتول (راولپنڈی) میں نے ایک سپنہ دیکھا سپنے میں ایک وادی دیکھی وادی میں ایک حسین راہ دیکھی راہ میں لوگ محوِ سفر دیکھے وہ اپنا آپ سفر میں مسلسل تھکاتے جاتے اپنی تمام تر لیاقتیں صَرف کرتے جاتے صبغۃ اللہ کے سفر پر رہِ محبت ۔۔۔

شاعرہ :عائشہ صدیقہ

غزل ہنستے ہوئے کہتے ہیں ،مصیبت کا مزہ لے اے یار تو یک طرفہ محبت کا مزہ لے آتے ہوئے دیکھیں جو سرِ راہ اُسے ہم دل آنکھ سے کہتا ہے زیارت کا مزہ لے دیکھا ہی نہیں ہم نے کبھی اُس کے علاوہ اب کون نئے درد کی شدت کا مزہ لے جو مطلبی ۔۔۔

علیمہ جبین

مرتے ہوئے شخص کے منہ میں دو بوندیں پانی ڈالنے سے اس کی موت ٹل نہیں جاتی بلکہ ہو سکتا ہے اس کی موت کی تکلیف کم ہو جاتی ہو ۔۔بالکل اسی طرح جب ہم کسی اذیت ذدہ انسان سے دو بول تسلی کے بولتے ہیں،اس کے اس کرب و اذیت کے لمحات میں اس ۔۔۔

علیمہ جبین

اے بلندیوں کے رب!آداب بندگی عطا کر! شوق دیدہ ور عطا کر،راز خودی عطا کر! کھول کر گرہیں تو مجھ پر تمام عشقِ حقیقی عطا کر! تو جو ذات و صفات میں بے مثال و لازوال ہے اے رب کائنات نگاہ کرم عطا کر! یہی آرزوئے اول ہے علم و عرفان عطا کر! میری ذات ۔۔۔

از قلم : آمنہ روشنی

کب تلک درد کا حساب لکھوں دھڑکنوں کو میں پھر عذاب لکھوں ملنے آؤ گے یا نہیں مجھ سے یا بتاؤ اسے بھی خواب لکھوں تشنگی لے کے دید میں اپنی تیرے آنے کو میں سراب لکھوں تیری آنکھوں کو کب تلک جاناں ہو کے مدہوش میں شراب لکھوں نام تیرا میں چوم کر جاناں ۔۔۔

دل کے ویرانے کو شاید کہ قرار آجاۓ جانے والا اگر لوٹ کے گھر آجاۓ وہ جو لڑتا تھا،جھگڑتا تھا،رُوٹھ جاتاتھا کاش اک بار مان رکھ لے تو چین آجاۓ یہ جو پھیلی ہے چار سُو اُداسیوں کی لہر وہ جو اک بار ہنس کے دیکھے بہار آجاۓ اب تو عادت سی ہے اندھیروں میں ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ کوٸی احساس !!!۔۔🌿۔۔۔۔۔۔

کبھی تنہا مُسافَت پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری تنہاٸی کے عالم میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں !!!!! میرے ہمراہ تم چلتے ہو کسی آھٹ میں بستے ہو کبھی اَشجار کے ساٸے میں رُک کر سوچ لیتا ہوں یہ احساس تو تمہارا ہے! کیا تم بھی ساتھ ہوتے ہو ۔۔۔

عنوان: گھائل روح

از قلم: حافظہ صباء بتول (صبغۃ اللہ) صنف: نثری نظم گھائل روح مرہمِ “بہزور” کی تلاش میں ماضی کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے رب کے سامنے خالی دامن پھیلائے ہوئے شرمندہ نظر اپنے دامن پر ٹکائے ہوئے پشیماں جبیں رب کے سامنے جھکائے ہوئے مغفرت کے لیے خالی ہاتھ اٹھائے ہوئے اندوہ ناک اشکِ ۔۔۔
@