عنوان: گھائل روح

از قلم: حافظہ صباء بتول (صبغۃ اللہ)
صنف: نثری نظم

گھائل روح مرہمِ “بہزور” کی
تلاش میں
ماضی کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے
رب کے سامنے خالی دامن پھیلائے ہوئے
شرمندہ نظر اپنے دامن پر ٹکائے ہوئے
پشیماں جبیں رب کے سامنے جھکائے ہوئے
مغفرت کے لیے خالی ہاتھ اٹھائے ہوئے
اندوہ ناک اشکِ ریزاں قلب لیے ہوئے
رب کے سامنے دوزانو بیٹھے ہوئے
نہ وضاحتیں دی نہ لفظوں سے کچھ بیاں کیا
خاموشی کی زباں میں رب کے سامنے سب اقرار کیا
پھر آنکھ سے زار و قطار اشکِ ندامت جاری ہوئے
اشکوں کے دریا میں حالت دگر ہو گئی
لرزتے لبوں پر بس اک صدا رہ گئی
“رب اغفرلی، رب اغفرلی”
ساتھ میں ابلیس نے بھی کر دیا اپنا وار
وسوسے وہ اس کے سینے میں ڈالتا رہا بار بار

تو خطا کار ہے سیہ کار ہے
معاف کر دینے کے قابل تیرا گناہ نہیں
کیوں کر تجھ کو معاف کیا جائے
کس منہ سے اٹھ کر تو آ گیا ہے یہاں

پھر دل میں غیب سے اک آواز آئی
خطا کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں
قبل اس سے تو اس نقصان سے واقف تھا ہی نہیں
تیرے جیسوں کے لیے ہی تو فرمایا رب کریم نے:
“میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے”
یہی ندامت ہی تو اصل چیز ہے
پھر تیرا رب بھی تو بہت قدر دان ہے
کیا تجھے اس کے کہے پر یقین ہے ہی نہیں!
یا تو اس کو حقیقی سچا مانتا ہی نہیں
خود پر نہ سہی اس ذات پر تُو بھروسہ رکھ
جو ایک حرف کن سے بدل دیتا ہے تقدیریں
وہ کیسے تیرے سب گناہ بخش دینے پر قادر نہیں!
ارے اس ذات کی تو صفات یہ بھی ہیں
الرحمٰن الرحیم السلام الودود العفو الغفور
لگتا ہے ان صفات کی گہرائی سے تو واقف ہی نہیں!
اس کے در پر آ کر مایوس ہونا تجھ کو جشتا نہیں
تو ایک بار توبۃ النصوح کا دامن تھام کر تو دیکھ
اس کے سامنے مغفرت کی سچی بھیگ مانگ کر تو دیکھ
اشکِ ندامت اس کے سامنے بہا کر تو دیکھ
ہر گز تجھ کو وہ خالی لوٹائے گا نہیں
کہ یہ اس کی شانِ عظیمی کو جچتا ہی نہیں
اور پھر تیرے واسطے ہی تو

اس نے فرمایا قرآن میں

یٰعبادی الذین أسرفوا علی أنفسھم
(اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کر ڈالا ہے)
لا تقنطوا من رحمة الله
(وہ اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو جانا)
ان الله يغفر الذنوب جميعا
(بے شک اللہ (تمھارے) تمام گناہ بخش دے گا)
انه هو الغفور الرحيم
((کیونکہ) بے شک وہ بخشے والا بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے)

اور اسی اثناء میں سکینت سی چھا گئی
گویا گھائل روح کو مرہمِ “بہروز” مل گئی

1,827 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *