یہ جو درد یے

یہ جو درد یے مدھم،وہ ہو بیاں کیسے
شکستگی روح کی دنیا سے ہو نہاں کیسے

اس کے آنسو نہ تھمے تیرےبچھڑ جانے پر
بن گیا دکھ کا میرے چاند پاسباں کیسے

کتنے کوسوں کی مسافت پر تیرا یے نگر
راستہ تیری نئی بستی کا ہو عیاں کیسے

بچھڑنے یہ وہ دھنک شام، لہو رنگ ہوئی
اب اجالے پر گلابی رت کا ہو گماں کیسے

خوابوں میں واسطہ تو تجھ سے خوب رہا
مگر ایک خواب حقیقت کا ہو ترجماں کیسے

عنزہ نایاب
لاہور

366 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *