ڈاکٹر مریم عرفان
دل کی بات گر میری زبان پر آجاۓ
قیامت سے پہلے ہی اک قیامت آجاۓ
میری چاہت کا جو یقین دلا سکے اُسے
وہ اشک اک بار میری پلکوں تک آجاۓ
ساحل پہ کھڑی مُدت سے ڈھونڈ رہی ہوں جسے
میرے حصے کے اُس سیپ میں موتی آجاۓ
میری محبت کی لگاٸ قیمت اُس دلِ بے رحم نے
کاش مجھے پھر بھی اُس کے ہر ستم پہ پیار آجاۓ
ڈاکٹر مریم عرفان
2,112 total views, 3 views today
























Leave a Reply