انٹرویو مہر اشتیاق احمد
آج برقی میں ملاقات میں ہم حاضر ہیں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی و کالم نگار اور اپووا کے پریس سیکرٹری مہر اشتیاق احمد کے انٹرویو کے ساتھ۔
السلام علیکم
کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔
جواب: ہمارا نام مہر اشتیاق احمد ہے ۔ صحافی ، کالمسٹ رائٹر اور عسکری تجزیہ نگار کے طور پر پہچانا جاتا ہوں اور سیرت نگار بھی ہوں ۔
بچپن کیسا گزرا ؟
جواب : بہترین ، خوبصورت اور بے پرواہ ، بے فکر ۔۔
ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
جواب : بہت زیادہ
قلمی و صحافتی سفر کا آغاز کب ہوا ؟
جواب : 1996 زمانہ طالبعلمی سے ہی ۔
پہلی کہانی/تحریر کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
جواب : معلوم نہیں کونسی تھی ۔ لیکن وہ ماہنامہ پھول میگزین / نوائے وقت میں پبلش ہوئی ۔ ہم نے فیملی میگزین کے لیے پوسٹ کی تھی لیکن ماہنامہ پھول میں پبلش ہوئی ۔ لیکن خوشی بہت ہوئی ۔
اپووا کی تقریبات میں آنے کا آپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا ؟
جواب ! بہت اچھا ہے ۔ بہت سے نئے لوگوں کا ملنا ، بڑے بڑے علم والے اور بڑے ناموں والے لوگوں سے ملنا اچھا لگا ۔ یہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ۔
فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟
جواب ! آرٹیکل لکھتا ہوں اور خوب جی بھر کر سوتا ہوں
زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
جواب ! لوگوں پر یقین بہت کم کرتا ہوں ۔
لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
جواب ! جیسا کہ پہلے کہا لوگوں پر یقین بہت کم کرتا ہوں ۔ یہ دنیا منافقوں کی دنیا ہے ۔ جس میں ہم لوگ بھی شامل ہیں ۔ یہ جو دیکھائی دیتے ہیں یہ وہ ہوتے نہیں ہیں اور جو ہوتے ہیں یہ وہ کسی کو دیکھانا نہیں چاہتے ۔ انکی زبانیں اور آنکھیں مسلسل چھوٹ بول رہی ہوتی ہیں ۔ ان کا دماغ مسلسل ان سے میچ نہیں کررہا ہوتا ۔
کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری/صحافی نہ ہوتے تو کیا ہوتے ؟
جواب ! ہم لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عدد بہترین Professional Accountants اور Certified حکیم بھی ہیں ۔ اللہ پاک کا شکرہے کہ ہم اس وقت بھی اِن تینوں شعبوں میں Active ہیں اور حاضر سروس ہیں ۔ ایک اور بات آپکو بتاتا چلوں کہ جیساء کہ ہم نے اپنے تعارف میں کہا کہ Military Analyst ہوں تو انکے ساتھ بھی وقت گزرتا ہے ۔ کافی مصروف ہوں ۔
جدید دور میں لکھاریوں کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
جواب ! جدید دور ہو یا پُرانا دور ، تحقیق ہر دور میں ضروری ہے ۔
مثال کے طور پر : اگر ہم کوئی (Article) آرٹیکل کسی ادارے کو پبلش کے لیے سینڈ کرتے ہیں وہ پبلش ہو جاتا ہے ۔ کل کو کوئی شخص ہمارا وہی آرٹیکل اُٹھا کر ہم سے اسکی تحقیق ( Interpretation ) پوچھ لیتا ہے تو اگر ہم نے کسی کا کاپی پیسٹ کیا ہوگا تو اس پوچھے والے کو کیا بتائیں گے ؟ آج تو ایک طرف سے انگلی اُٹھ رہی ہے تو آنے والے کل چاروں طرف سے اس پریشانی کا ہم شکار ہوسکتے ہیں ۔ اس لیے ریسرچ کرنا ، پھر چیزوں کو ٹٹولنا ، پھر سوچنا اور آخر میں اس ساری ریسرچ کو کاپی کے اوراق پر اُتار دیں ۔ اپنے ملک کے حق میں لکھیں ، اداروں کے حق میں لکھیں ، ایجنسیز اور سکیورٹی اداروں کے حق میں لکھیں اور اپنی افواجِ پاکستان کے لیے لکھیں کہ دفاعِ وطن کے معمار کون ہیں اور غددارانِ وطن کون ہیں ۔۔۔
سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟
جواب ! بہت شوق ہے ۔ گھومنے بھی جاتا رہتا ہوں ۔ چونکہ عسکری تجزیہ نگار ہوں تو ملکِ پاکستان کے حساس ترین علاقوں میں جاتا رہتا ہوں ۔ مری ، مظفر آباد ، بالا کوٹ ، چائنہ بارڈر ، سیاچین ، گلگت بلستان ، وزیرستان ، مہمند ایجنسی ، مالاکنڈ ایجنسی ، باجوڈ ایجنسی اور افغانستان کے بارڈر تک وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔
کھانے میں کیا کیا پسند ہے ؟
جواب ! بُھنا ہوا بڑا گوشت ۔۔۔
آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
جواب ! زندگی بے وفا ہے
( Life is Unfaithful )
زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
جواب ! بہت رُویا ۔ پھر ہم نے خود کو یہ کہا کہ آنے والے کل میں ہم بھی نہیں رہیں گے تو دُکھ کس بات کا ؟
زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
جواب ! ہاں ، بہت ہیں، پَر ایک ہم آپکو بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ آزاد کشمیر کی طرف رواں دواں تھے کہ جہلم کے قریب ہماری گاڑی کا AC کام کرنا کچھ کم ہوگیا ۔ اس گاڑی میں ہم چار لوگ سوار تھے ۔ ہم پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے تھے ۔ ہمارے ساتھ ایک سینیئر وکیل صاحب لاہور ہائیکورٹ کے بیٹھے ہوئے تھے ۔ جہلم میں AC چیک کروانے کے لیے آگے والی سیٹ کے دونوں صاحبان گاڑی سے نیچے اُترے اور چیک کروانے لگے ۔ ہم دونوں اپنی پیچھے والی سیٹوں پر بیٹھے رہے ۔ کچھ ہی دیر بعد وہ وکیل صاحب ہم سے سوالات کرنا شروع ہو گئے ۔ وکیل صاحب نے ہم سے پوچھا کہ میاں صاحب بال بچے کتنے ہیں ؟ ہم نے کہا کہ یہ تو اللہ پاک کی رضا ہے جس کو عطاء کرے ۔ مالک کی ذات نے ہمیں نہیں عطاء کیے ۔ افسوس کرنے کے بعد ، پھر وکیل صاحب نے پوچھا کہ شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے ؟ ہم نے کہا شادی ہی تو نہیں ہوئی ۔
یہ کہہ کر ہم نے گہری خاموشی اختیار کی ۔ اسکے بعد ہم لوگ کشمیر میں ایک ساتھ دو دن موجود رہے ۔ لیکن وکیل صاحب نے ہم سے بات تک نہیں کی اور جو ساتھ والے دو عدد ساتھی تھے ان کو ہم نے اس واقعے کی بھنک تک نہیں پڑھنے دی کہ ہمارے درمیان یہ حادثہ رونما ہوچکا ہے ۔
کچھ عرصہ بعد ان دو دوستوں میں سے ایک کے ساتھ وکیل صاحب کی ملاقات ہوتی ہے تو وہ یہ سارا واقعہ ان کو بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مہر اشتیاق احمد بہت بدتمیز آدمی ہے ۔ اس نے ہمیں اُس دن یہ کہا تھا ۔ اس دن یہ بات سن کر ہم خوب ہنسے ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
اس واقعے کے بعد وہ وکیل صاحب ہمارے ساتھ کسی جگہ پر بھی نہیں گئے لیکن ہم جب بھی کشمیر کی طرف جاتے ہیں تو ہمیں وہ بات یاد آ جاتی ہے ۔
نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
جواب ! ضرور لکھیں اور خوب سارا لکھیں ۔ ملکِ پاکستان کی سلامتی کےلیے ، افواجِ پاکستان کےلیے ، سکیورٹی ایجنسیز کے جوانوں کےلیے ضرور لکھیں ۔
اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟
جواب ! اپووا تنظیم کو ایم ایم علی بھائی بہت اچھے طریقے سے لے کر چل رہے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ یہ تنظیم اسی طرح قائم و دائم رہے ۔اپووا نے بہت سارے لوگوں کو ادبی دنیا میں متعارف کروایا ہے۔
اپووا تنظیم بہت سارے لوگوں کی اُمید ہے جہاں پر وہ ادب کی دنیا میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتے ہیں ۔ ادب کی خدمت کی صورت میں ، لکھنے کی صورت میں ، اعزازات حاصل کرنے کی صورت میں ، بڑے نامور لوگوں سے ملاقات کی چاہت میں اور اپنا نام ، اپنا معیار بنانے کی صورت میں ۔۔۔
429 total views, 9 views today
























Leave a Reply