علیمہ جبین

مرتے ہوئے شخص کے منہ میں دو بوندیں پانی ڈالنے سے اس کی موت ٹل نہیں جاتی بلکہ ہو سکتا ہے اس کی موت کی تکلیف کم ہو جاتی ہو ۔۔بالکل اسی طرح جب ہم کسی اذیت ذدہ انسان سے دو بول تسلی کے بولتے ہیں،اس کے اس کرب و اذیت کے لمحات میں اس کے ساتھ ہونے کا یقین دلاتے ہیں تو یقین مانیے اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کڑی دھوپ میں یکدم ہوا کا جھونکا گزرا ہے۔آپ اگر کسی کو اپنا کہتے ہیں تو پھر چپ مت رہیئے۔ اسے احساس دلائیں کہ آپ ساتھ ہیں آپ کی چپ اس کی ازیت کو اور کربناک بنا دے گی۔شاید حقیقی موت سے پہلے مر جانا اسی کیفیت کا نام ہے کہ آپ اس اذیت زدہ شخص کو درد کی دلدل میں ڈوبنے کے لئے تنہا چھوڑ دیں ۔۔۔انسان سب برداشت کر لیتا ہے مگر اکیلا پن اس کے جسمانی،زہنی اور روحانی سکون کو برباد کر دیتا ہے۔۔۔۔آپ محبت کے دعوے دار ہیں تو پھر محبت نبھانا بھی سیکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔

3,339 total views, 9 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *