انٹرویو گلزیب فاطمہ ڈوگر
آج ہم ابھرتی ہوئی منفرد لب و لہبہ کی شاعرہ گلزیب فاطمہ ڈوگر کے انٹرویو کے ساتھ حاضر ہیں ۔گلزیب فاطمہ سے برقی ملاقات میں کیے گئے سوال اور ان کے جوابات آپ بھی پڑھیے اور اپنی رائے کا اظہار بھی کیجیے۔
میزبان۔صائمہ عروج
السلام علیکم ۔۔۔۔
جواب:وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کُچھ اپنے بارے میں بتائیے؟
جواب: میں گلزیب فاطمہ ڈوگر (زیبؔ) ہوں۔ تعلق فاروق آباد (ضلع شیخوپورہ) سے ہے۔ میں ایک ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نگار، اور ناول نگار ہوں ۔ تعلیم بی اے ہے اور عملی زندگی میں تدریس سے بھی وابستہ رہی ہوں۔ الفاظ اور جذبات کو قرطاس پر اتارنا میری روح کی ضرورت اور میری پہچان ہے۔
بچپن کیسا گزرا؟
جواب: بچپن بہت خوبصورت، معصوم زیادہ تر گھر میں اور کتابوں کی محبت میں گھرا ہوا گزرا۔ ارد گرد کے ماحول اور لوگوں کے رویوں کو گہرائی سے دیکھنا اور محسوس کرنا میری بچپن ہی کی عادت تھی۔ یوں کہئے کہ بچپن نے ہی میرے اندر کے تخلیق کار کو بیدار کیا۔
ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے؟
جواب: ادب میرے لیے محض مشغلہ یا وقت گزاری نہیں بلکہ میری زندگی کا مقصد اور روح کا رشتہ ہے۔ میں مانتی ہوں کہ ادب انسان کو تہذیب، شعور اور احساس کی باریکیوں سے روشناس کرواتا ہے۔
قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
جواب: میرے قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز آٹھویں جماعت میں ہوا۔ جب بھی کسی کتاب میں کوئی شعر پڑھتی تو دل میں خود بخود اس کے جواب میں شعر تخلیق کرنے کی تڑپ پیدا ہوتی۔ یوں مطالعے سے شروع ہونے والا یہ شوق رفتہ رفتہ مستقل قلمی سفر میں ڈھل گیا۔
پہلی کہانی کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا؟
جواب: ویسے تو سب سے پہلی کہانی میں نے اپنی استاد سے دل برداشتہ ہو کر لکھی تھی جو کبھی میں نے کسی کو دکھائی نہیں لیکن اس کے بعد میں نے دسویں کلاس میں باقاعدہ ایک ناول کا اغاز کیا تھا وہ بھی اپنے آس پاس کے ماحول کو دیکھتے ہوئے اپنے اسکول کے ماحول کو دیکھتے ہوئے مجھے لگا کہ مجھے اس پر لکھنا چاہیے تو میں نے شروع کیا میرا پہلا ناول
دسویں جماعت کے بعد میں نے اپنے پہلے ناول ” حانزالہ ایک نئے معاشرے کی تشکیل ” پر کام شروع کیا۔ اگرچہ یہ ایک مختصر ناول تھا مگر اس پر دو سال کی مسلسل محنت لگی۔ سوشل میڈیا پر جب یہ قسط وار شائع ہوا تو قارئین کی جانب سے بے حد پذیرائی اور محبت ملی، جس نے میرے حوصلے کو جلا بخشی۔
اپووا کی تقریبات میں آنے کا آپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا؟
جواب: اپووا (APWA) کی تقریبات میں شرکت کا تجربہ بہت شاندار، سحر انگیز اور حوصلہ افزا رہا۔ وہاں ادبی شخصیات سے ملنا، ان کے تجربات سے سیکھنا اور ایک مثبت علمی و ادبی ماحول کا حصہ بننا میرے لیے باعثِ مسرت رہا ہے۔
فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں؟
جواب: فرصت کے لمحات میرے لیے تخلیقی لمحات ہوتے ہیں۔ میں اچھے ادب کے مطالعے کلام کی اصلاح و تحریر اور اپنے ادبی نثری پینل کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے میں وقت گزارتی ہوں۔ اس کے علاوہ خود کلامی اور فطرت کا مشاہدہ بھی میری فرصت کا بہترین حصہ ہے۔
زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو؟
جواب: زندگی نے مجھے یہ سبق سکھایا ہے کہ “انسان کے لیے اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی سہارا قائم نہیں رہتا اور اگر انسان میں خود سے کھڑے ہونے کی ہمت ہو تو وہ دنیا کی کسی بھی اذیت سے نکل سکتا ہے”۔ خود پر اعتماد اور رب پر توکل ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے؟
جواب: موجودہ معاشرہ تیزی سے مادیت پرستی اور بے حسی کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں حسّاس دلوں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اچھے اور بااخلاق لوگ اب بھی موجود ہیں۔ بطور لکھاری میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قلم کے ذریعے انہی معاشرتی رویوں کی اصلاح کر سکوں۔
کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری/ شاعرہ نہ ہوتی تو کیا ہوتی؟
جواب: اگر میں لکھاری یا شاعرہ نہ ہوتی تو یقیناً ایک معلمہ (ٹیچر) ہی ہوتی کیونکہ تدریس سے مجھے قلبی لگاؤ ہے۔ میں بچوں کی تربیت اور ان میں اخلاقی و ادبی شعور بیدار کرنے کو اپنا فرض سمجھتی ہوں۔
شاعری کی طرف کب آنا ہوا؟
جواب: شاعری میرے اندر فطری طور پر موجود تھی۔ جب نثری تحریروں کے باوجود کچھ احساسات دل میں سماتے نہیں تھے تو وہ اشعار کی صورت میں ڈھلنے لگے۔ باقاعدہ شاعری کا آغاز اسکول کے دور سے ہی ہو گیا تھا۔
پہلا کلام کونسا تھا اور کیسا رسپانس رہا؟
جواب: میرا پہلا کلام ایک آزاد نظم تھی( میری آنکھوں کی
الجھن ) اور ایک شعر
شعر
نا قابلِ فہم ہے عشق میرا بس یہی بات کرب انگیز ٹھہری
ہم بھی الجھے الجھے سے ہیں وہ بھی الجھے الجھے سے ہیں
اس شعر میں میں نے اپنی اس دلی کیفیت اور الجھن کو بیان کیا ہے جو میں نے اپنی ایک بہت عزیز دوست کے ساتھ محسوس کی۔ میرے دل میں اس کے لیے جو بے لوث اور گہری محبت تھی وہ اسے ذرا بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ میرا عشق اس کے لیے نا قابلِ فہم تھایعنی ایک ایسی حقیقت جسے نہ وہ بوجھ سکی اور نہ میں لفظوں میں سمجھا سکی اور یہی بات میرے لیے سب سے زیادہ کرب انگیز (تکلیف دہ) تھی۔
جب اسے ادبی محفل اور دوستوں کے سامنے پیش کیا تو سب نے بے حد سراہا اور میری حوصلہ افزائی کی جس نے مجھے آگے بڑھنے کا عزم دیا۔
جدید دور میں لکھاریوں کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے؟
جواب: جدید دور میں لکھاری کے لیے “حقیقت پسندی، سچائی اور مثبت سوچ” کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آج کا لکھاری صرف رومانوی داستانیں نہ لکھے بلکہ معاشرتی مسائل، خوابوں کی تعبیر اور جدوجہد کو موضوع بنائے۔ قلم میں وہ طاقت ہونی چاہیے جو مایوس دلوں میں امید جگا سکے۔
سیر و سیاحت کی شوقین ہیں؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں؟
جواب: بہت خاص نہیں مگر بہت ساری جگہ پر جا چکی ہوں سیر و سیاحت اور فطرت کے نظارے دل کو سکون دیتے ہیں۔ میں مری اسلام آباد کبھی فیملی ٹرپ تو کبھی سکول ٹرپز پر جانا ہوا ہے میں نے پنجاب کے تاریخی شہروں، لاہور کے تاریخی مقامات اور مزارات کی سیر بھی کی ہے۔ تاریخی و قدیم مقامات کا سفر مجھے تخلیقی طور پر بہت متاثر بھی کرتا ہے۔
مگر میری پسندیدہ جگہ ہمیشہ میرا گھر رہا ہے کیونکہ میں نے سب سے زیادہ وقت اپنی گھر گزرا ہے۔
کھانا پکانے کی شوقین ہیں یا کھانا کھانے کی؟
جواب: میں نے بہت چھوٹی عمر میں گھر کے کام سیکھ لیے تھے اور میں نے سب سے زیادہ کام اپنے گھر میں کچن کا ہی کیا ہے اور مجھے طرح طرح کے کھانے بنانا بہت پسند ہے اور مجھے کھانا پکانے سے زیادہ اپنوں کو کھلانے اور ان کی پسند کا خیال رکھنے میں خوشی ملتی ہے تاہم ایک اچھے ذائقے دار کھانے سے لطف اندوز ہونا بھی پسند ہے۔
آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا؟
جواب: “زندگی خوابوں، آزمائشوں اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے جو رب کی رضا اور خود اعتمادی سے خوبصورت بنتی ہے۔”
زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا؟
جواب: میری زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب ایک بہت عزیز اور روح سے قریب تعلق اچانک مجھ سے چھوٹ گیا۔ بغیر کسی اطلاع یا وجہ کے یکدم کسی کا چلے جانا اتنی گہری اذیت تھی کہ میرا ذہن جیسے مفلوج ہو کر رہ گیا؛ میں لکھنا اور سوچنا تک بھول گئی۔ میں نے پورا ایک سال اس شدید درد اور ذہنی کرب میں گزارا۔ لیکن پھر میں نے رب کی ذات سے لو لگائی، نماز، قرآن اور دعا کا سہارا لیا اور خود کو یہ سمجھایا کہ میں خود اپنے لیے کافی ہوں اور میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔ اس صدمے نے مجھے توڑا ضرور، لیکن پھر مجھے اندر سے بے حد مضبوط بنا دیا۔
زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو؟
جواب: تدریس کے ابتدائی ایام میں جب بچے مجھے مسز کے بجائے اتفاقاً ‘آپی’ یا کچھ عجیب معصومانہ ناموں سے پکار بیٹھتے تھے، اور پھر خود ہی شرمندہ ہوتے تھے، وہ معصومانہ لمحات یاد کر کے آج بھی مسکراہٹ لبوں پر آ جاتی ہے۔
نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام؟
جواب: نئے لکھنے والوں سے یہی کہوں گی کہ کبھی ناکامی یا تنقید سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ مسلسل مطالعہ کریں، اپنے مشاہدے کو گہرا رکھیں اور اپنے جذبات میں سچائی رکھیں۔ اگر آپ کے پاس خواب دیکھنے کی جرأت ہے تو محنت اور مستقل مزاجی سے ان خوابوں کی تعبیر حاصل کریں۔
اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی؟
جواب: اپووا (APWA) ایک بہترین اور قابلِ قدر پلیٹ فارم ہے جو خواتین بالخصوص ادبی و تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والی مستورات کی پذیرائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ میں اپووا کی تمام ٹیم اور انتظامیہ کی کاوشوں کو دل سے سراہتی ہوں اور ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔
737 total views, 12 views today
























Leave a Reply