پٹرول کی قیمت ایک مرتبہ پھر سنچری کراس کر گئی، ریکارڈ 25 روپے 58 پیسے مہنگا

اسلام آباد (اپووا نیوز) وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ 25 روپے 58 پیسے تک بڑھا دی ہیں جس کے بعد ایک مرتبہ پھر پٹرول کی قیمت سنچری کراس کر گئی ہے ۔وفاقی حکومت نے آئندہ ماہ جولائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، پٹرول کی قیمت میں 25روپے 58پیسے فی لٹر اضافے کے بعد 100 روپے 10 پیسے ہو گئی ہے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 101روپے 46 پیسے ہو گئی ہے مٹی کا تیل بھی 23روپے 50 پیسے مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 59روپے 6 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے دوسری طرف لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17روپے 84 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 55 روپے 98 پیسے تک پہنچ گئی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے نوٹیفکیشن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا ہے عام طور پر پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ ہر ماہ کی پہلی تاریخ سے ہوتا ہے تاہم نئی قیمتوں کا اطلاق آج سے ہی ہوگیا ہے خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی کھپت کم ہونے سے قیمتیں تاریخ کی کم تریں سطح پر پہنچ گئی تھیں جس کے بعد پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کی گئی تھی واضح رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاو¿ن کے عرصے میںپٹرولیم مصنوعات مجموعی طور پر 56 روپے 89 پیسے فی لیٹر تک سستی کی تھیں 25 مارچ سے یکم جون تک پٹرول 37 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا، اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 42 روپے 10 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی جبکہ مٹی کا تیل 56 روپے 89 پیسے اور لائٹ ڈیزل 39 روپے 37 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا31 مئی کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں مزید 7 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی تاہم اگلے ہی روز یعنی یکم جون سے ملک بھر میں پٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی اسی روزپٹرولیم ڈویڑن کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ موگاز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے یکم جولائی 2020 سے پٹرولیم مصنوعات میں ہونے والے ممکنہ اضافے کا مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں ریٹیل آو¿ٹ لیٹس پر مصنوعات کی فراہمی میں کمی کی جاسکتی ہے اس میں کہا گیا تھا کہ بحرانی صورتحال سے بچنے کے لیے ریگولیٹر ہونے کی حیثیت سے اوگرا کو او ایم سیز کو ملک میں ہر ریٹیل آو¿ٹ لیٹ پر اسٹاکس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرے3 جون کو اوگرا نے پٹرول کی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جبکہ پٹرول ذخیرہ کرنے کی شکایات پر ملک بھر میں آئل ڈپوز پر چھاپے بھی مارے گئے تاہم پٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی تھی ملک بھر میں پٹرول کی مسلسل قلت کے باعث 8 جون کو حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت اور مارکیٹنگ کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے اور قیمتوں کے یکساں تعین کا طریقہ کار ختم کرنے کا اصولی فیصلہ سامنے آیا تھا یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب آئل مارکیٹنگ کمپنیز(او ایم سیز) ہائی اوکٹین بلینڈنگ کمپونینٹ (ایچ او بی سی) کے معاملے میں کارٹیلائزیشن جیسے رویے پر تنقید کی زد میں ہیں

2,517 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *