انٹرویو حفصہ سرفراز

اسلام علیکم معزز قارئین ! میزبان نادر فہمی آپ کی خدمت میں ایک ایسی شخصیت کا انٹرویو لایا ہے جو رائٹر تو ہیں ہی ساتھ ساتھ وہ سماجی خدمات بھی سر انجام دیں رہی ہیں میری مراد محترمہ حفظہ سرفراز صاحبہ سے ہے

اسلام علیکم!
میڈم کیسی ہیں آپ ؟
وعلیکم السلام جی الحمدللہ میں ٹھیک ہوں

کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے میں اپنے وطنِ عزیز ریاست آزاد جموں و کشمیر کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں۔ وہ کشمیر جو کئی دہائیوں سے آگ میں جل رہا ہے، جہاں بچپن آنکھ کھولتے ہی ظلم، ناانصافی اور محرومی کا احساس دل میں اتر جاتا ہے۔ اسی احساس نے میرے اندر ایک باغی پن پیدا کیا ایک ایسا سوال جو مسلسل ذہن میں گردش کرتا رہا کہ کاش کوئی دن ایسا آئے جب ہم سب ایک ہوں، یہ خونی لکیر مٹ جائے، اور ہر طرف آزادی کا جشن ہو۔ ہم واپس اپنے گھر جائیں جہاں ہمارے آباؤ اجداد رہا کرتے تھے۔
فلسطین، کشمیر، سوڈان اور دنیا کے وہ تمام خطے جہاں صرف ظلم ہی ظلم ہے، ان کا دکھ صرف ان کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ انسانیت کی بنیاد پر دنیا کے ہر کونے کا درد میرا اپنا درد ہے۔ جب تک سانس ہے، میں مظلوموں کی آواز بننے کی کوشش کرتی رہوں گی۔

سوال: اپنا تعارف کروائیے۔
جواب: میرا نام حفظہ سرفراز ہے۔ میرا تعلق گاؤں سانگل، یونین کونسل سانگل، تحصیل ممتاز آباد، حویلی آزاد جموں و کشمیر سے ہے۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے ہوئی اور میں چھٹی جماعت سے ضلع باغ آزاد کشمیر میں مقیم ہوں۔ حال ہی میں میں نے گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج آف باغ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا ہے۔

سوال: آپ کی سکول لائف کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: اگر میں سکول لائف کی بات کروں تو وہاں سیکھنے کے زیادہ مواقع نہیں ملے۔ اساتذہ کی توجہ ہر طالب علم پر یکساں نہیں تھی بلکہ فیورٹ ازم عام تھا۔ اسی وجہ سے کچھ طلبہ “نالائق” کے نام سے جانے گئے۔ ہماری قدرتی صلاحیتوں کو نکھارنے کے بجائے دبایا گیا، جس نے ہماری خود اعتمادی کو متاثر کیا۔

سوال: کالج میں داخلے کے بعد کیا تبدیلی محسوس کی؟
جواب: کالج میرے لیے ایک نئی دنیا ثابت ہوا۔ وہاں مجھے بہترین اساتذہ ملے جنہوں نے ہر طالبہ کو اہمیت دی۔ کھیل، آرٹ، شاعری، لکھائی اور لائبریری سے دوستی کے مواقع میسر آئے۔ میں نے پہلی بار یہ محسوس کیا کہ سوال کرنا جرم نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ ہے۔
سکول کے زمانے میں ایک استاد، انگلش کے سر شیخ مسعود خلیل صاحب، باقی سب سے مختلف تھے—مثبت سوچ اور شفیق مزاج کے حامل—جنہوں نے مجھے ہمیشہ حوصلہ دیا۔ کالج میں آ کر میں نے نہ صرف اپنی فنی اور ادبی صلاحیتوں کو پہچانا بلکہ خود کو بھی پہچانا۔

سوال: لکھنے کا شوق کب اور کیسے پروان چڑھا؟
جواب: لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے تھا، مگر نصابی دباؤ اور اساتذہ کے منفی رویوں کی وجہ سے یہ شوق کچھ مدھم پڑ گیا تھا۔ باقاعدہ طور پر میں نے انٹرمیڈیٹ پارٹ دوم میں لکھنا شروع کیا۔ہاں اور اس سب میں ” لکھت لکھاری اکیڈمی ” ڈاکٹر آصف رضا عاشق صاحب کا نمایاں کردار ہے جہاں انہوں نے پورے ملک سے نوجوانوں کو ایک کیا اور ہماری ادبی صلاحیت کو نکھارا ۔ افسانے، نثری نظمیں، کچھ غزلیں، اشعار اور کالم لکھے۔ الحمدللّٰہ ، اب میرے مضامین پاکستان اور کشمیر کے مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ میرے موضوعات میں انسانیت، انسانی بنیادی حقوق، ماحول کا تحفظ، معاشرتی رویے اور تعصب کے خلاف آواز شامل ہیں۔

سوال: سماجی خدمات کے حوالے سے آپ کی سرگرمیاں کیا رہی ہیں؟
جواب: میں ہمیشہ اپنے وطن، والدین اور معاشرے کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتی ہوں۔ مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ کام کیا، بلڈ ڈونیشنز، طلبہ کے حقوق، حلال رشتوں (نکاح) کو آسان بنانے، غریب طبقے کے استحصال اور عورت و اسلام کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہوں۔ میرے کاموں میں محدود لوگ شامل ہوتے ہیں کیونکہ میں غیر ضروری مداخلت پسند نہیں کرتی۔
میں خاص طور پر اپنےوالدین کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے اس معاشرے میں جینے اور بولنے کا حوصلہ دیا۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ، میں کبھی انہیں شرمندہ نہیں ہونے دوں گی۔

سوال: نوجوانوں اور معاشرے کے لیے آپ کا پیغام کیا ہے؟
جواب: پاکستان میں کسی کا مستقبل اس وقت تک روشن نہیں ہو سکتا جب تک ہم ایک دوسرے اور اپنے حق کے لیے نہیں بولتے۔ نوجوانوں کو کبھی رکنا نہیں چاہیے۔ محنت اور مستقل مزاجی سے ظلم و جبر کی زنجیریں ایک دن ضرور ٹوٹیں گی۔
ادب میں گروہ بندی کا سامنا بھی ہوا، مگر وقت کے ساتھ یہ شدت کم ہوئی۔ زندگی نے یہ سکھایا کہ یہاں انسان کی قدر اکثر صرف نمبروں اور ڈگری سے کی جاتی ہے، جبکہ حساس اور مخلص لوگ نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس لیے خود پر یقین رکھیں، مخلص لوگوں کو کبھی نہ چھوڑیں اور اپنی راہ پر ثابت قدم رہیں۔

سوال: خواتین اور نئی نسل کے لیے آپ کی خاص نصیحت؟
جواب: نوجوانوں سے گزارش ہے کہ بےہودگی اور بےحیائی کو ماڈرنازم کا نام دے کر فروغ نہ دیں۔ مثبت سوچیں، مثبت عمل کریں، خوش رہیں اور خوش رہنے دیں۔ حسد جیسی بیماری کو دل میں جگہ نہ دیں۔
بیٹیوں کو تعلیم دیں، اور اس سوچ کو ختم کریں کہ صرف ڈگری کے بعد ہی شادی ممکن ہے۔ اللّٰہ پاک نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا سکون بنایا ہے—اس حقیقت کو سمجھ کر اس مقدس رشتے کو نبھائیں۔

927 total views, 6 views today

4 Responses to انٹرویو حفصہ سرفراز

  1. Muhammad Nasim says:

    Really some positive faces of society

  2. Sohaib Sulman says:

    بہترین سوچ
    معاشرہ کے لیے مثبت
    اور نوجوانوں کو ادبی دنیا سے وابستہ ہونے کے لیے
    موٹیویشن کے طور پر ایک نیا چہرہ سامنے آیا

  3. kamran khan says:

    بہت ہی عمدہ

  4. Raja says:

    Good keep it up

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *