“بہادر عورت”
میں نے اکثر ایک بہت تکلیف دہ جملہ لوگوں سے سنا:
“یہ تو بہادر ہے،مردوں جیسی ہے، سمجھدار ہے، اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں!”
اور کیونکہ وہ بہادر ہے،مردوں جیسی ہے، اس لیے کوئی اس کی پرواہ نہیں کرتا،
نہ کوئی اس کے لیے کھڑا ہوتا ہے،
بلکہ وہ ہمیشہ اپنی ساری مشکلات کا تنہا سامنا کرتی ہے…
یہ بہت بہادر ہے لوگ یہ کہہ کر کہیں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بھاگتے تو نہیں جان تو نہیں چھڑاتے
کیونکہ وہ مضبوط، خودمختار، اور سو مردوں کے برابر سمجھی جاتی ہے!
اس لیے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اکیلے لڑنے کے لیے حالات کا سامنا کرنے کے لیے
مگر وہ “نازک مزاج، کمزور نظر آنے والی، جو دوسروں کی یہی باتیں سن سن کر اپنے نسوانیت کھو دیتی ہے اور واقعی میں ایک مرد بن جاتی ہے
جبکہ ایک کمزور عورت کے لیے
اس کے لیے سب فکر مند رہتے ہیں، اس کی ہر غلطی معاف کر دی جاتی ہے،
سب اس کا خیال رکھتے ہیں،
کیونکہ “بیچاری، وہ خود سے کچھ نہیں کر سکتی!”
اور پھر وہ بہادر عورت زندگی کے بوجھ تلے تنہا لڑتے لڑتے تھک جاتی ہے…وہ تنہائی سے ڈرتی ہے مگر بہادر عورت کہلانے کی وجہ سے اپنی تنہائی کا ڈر کسی کو بتا بھی نہیں سکتی
ذہنی، جسمانی، اور مالی طور پر کمزور ہو جاتی ہے،
کیونکہ سب اسی کی طاقت پر تکیہ کیے بیٹھے رہتے ہیں،
یہ سوچے بغیر کہ وہ بھی ایک انسان ہے، اسے بھی محبت، تحفظ اور سہارا چاہیے۔
وقت کے ساتھ، وہ اپنی اسی طاقت کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے،
وہی طاقت جو سب کے لیے سہولت تھی، مگر اس کے لیے تنہائی بن گئی۔
اپنے گھروں کی “بہادر عورت” کا خیال رکھیں، کہیں دیر نہ ہو جائے…
اس سے اتنا بھی بہادر نہ سمجھیں کہ اس سے سب سہارے چھین لیں اس کا سہارا بنیں کیونکہ اس کو بھی پیار کی ضرورت ہے۔
لکھاریہ
زاہدہ پروین سحر
64,366 total views, 6 views today
























Leave a Reply