ڈکیتی کی انوکھی واردات نے ایک ساتھ 80 افراد کی عید کی خوشیاں برباد کر دیں

فیصل آباد کے خطاط محمد قمر سلطان 1982 سے منی ایچر کیلی گرافی میں قرآن کے مخطوطات تخلیق کر رہے ہیں۔

اپنے اس فنی سفر میں انہوں نے 17 سال کی محنت کے بعد اپنا پہلا مکمل قرآن لکھا۔ اب تک وہ 42 مکمل قرآن تحریر کر چکے ہیں، جن میں سے 16 مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کو سوینیئر کے طور پر پیش کیے گئے۔

قمر نے اپنی فنی زندگی کا آغاز پینٹنگ سے کیا لیکن بعد میں منی ایچر کیلی گرافی کو اپنی شناخت بنایا۔ ابتدا میں وہ محدب عدسے کی مدد سے لکھتے تھے مگر مسلسل مشق کے باعث اب وہ بغیر عدسے کے بھی انتہائی باریک خطاطی کرنے کے قابل ہیں۔

ان کے مطابق اس فن میں استعمال ہونے والے قلم خاصے مہنگے ہوتے ہیں۔ 1998 اور 2001 میں جب انہوں نے منی ایچر قرآن لکھنے کے لیے قلم خریدے تو اس پر 40 سے 50 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

آج کے دور میں ایسے ہی قرآن کی تحریر پر تقریباً سات سے آٹھ لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔

قمر کا ماننا ہے کہ ان کا فن کسی خاص مہارت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’سب سے باریک بین اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ جسے چاہے یہ خوبی عطا کر دے۔ میرا کوئی فن نہیں، یہ محض اللہ کی دین ہے۔‘

ان کی خطاطی کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے لوگو اور 57 مسلم ممالک کے پرچموں پر قرآن تحریر کیا، جسے مکمل کرنے میں انہیں صرف 18 دن لگے ۔
بقول قمر: ’آدھا آدھا پارہ 57 مسلم ممالک کے پرچموں پر اور ڈیڑھ پارہ او آئی سی کے لوگو میں لکھا گیا، اس طرح 30 پارے مکمل ہوئے۔ یہ تمام خطاطی شکستہ رسم الخط نسخ میں کی گئی ہے اور ہر پرچم کی لائنیں حرف الف سے شروع ہو رہی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے چھوٹا اور سب سے بڑا قرآن تحریر کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے قرآن پاک کے نسخے سعودی عرب کے ’کنگ فیصل میوزیم‘ اور ’ام القریٰ یونیورسٹی‘ میں بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔.

294 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *