انٹرویو عافیہ خالد بزمی
آج برقی ملاقات میں ہمارے ساتھ موجود ہیں ، نامور علمی و ادبی شخصیت پروفیسر خالد بزمی مرحوم کی بیٹی عافیہ خالد بزمی صاحبہ۔جو خود بھی ایک استاد اور ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں۔برقی ملاقات میں ان سے کیے گئے سوال اور ان کے جوابات پیش خدمت ہیں آپ بھی پڑھیے اور اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔
میزبان صائمہ عروج
السلام علیکم
کُچھ اپنے بارے میں بتائیے
وعلیکم السلام
میرا نام عافیہ خالد بزمی ہے ۔ میں مشہور علمی و ادبی شخصیت پروفیسر خالد بزمی مرحوم کی بیٹی ہوں ۔ تعلیم ایم اے تک ہے ۔ ایک عرصہ تک لاہور کے مختلف پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی رہی ہوں ۔
میری اب تک چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور میرے افسانوں کی کتاب ( محبت کے چراغ ) پر اب تک دو تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں ۔
روز نامہ جنگ ، نواۓ وفت ، پاکستان ، بھلیکھا ،_ابتک ، ٹھنڈی آگ ، مارگلہ نیوز ، جیسے اخبارات ، تعلیم و تربیت ، انکل سرگم ، خدام الدین ، الاعتصام ، خواتین ڈائجسٹ حنا ، جیسے رسالوں میں تحریریں چھپتی رہتی ہیں ۔
کالج لائف میں میں مسلسل دو سال تک اپنے کالج میگزین کی ایڈیٹر رہی ہوں ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ میں والدِ محترم کی یاد میں تعزیتی تقریبات کا انعقاد کرواتی رہی ہوں ۔
میری پیدائش لاہور کی ہے اور مستقل سکونت بھی لاہور میں ہی ہے ۔
_______________________
2: بچپن کیسا گزرا ؟
بچپن کی بات کروں تو انتہا سے زیادہ شرارتی ، ایکٹو اور پڑھاکو قسم کی بچی تھی ۔ لیکن میری شرارت سے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ میری شرارتوں سے سب محظوظ ہوا کرتے تھے ۔
_________________________
سوال :ادب سے کس حد تک لگاؤ ہے ؟
دنیا میں آنکھ کھولتے ہی گھر کا ماحول ادبی ملا ۔ والدِ محترم کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی اور بہنوں کو بھی لکھتے لکھاتے دیکھا ۔ یوں کہہ لیں ادب سے لگاؤ فطری تھا ۔ گھر میں سب کو دیکھ کر دل میں شوق پیدا ہوا کہ ان سب کی طرح میں بھی کچھ نا کچھ لکھوں ۔ کہانی کے ساتھ میری بھی تصویر چھپے اور پڑھنے والے میرے لکھے کی تعریف کریں ۔
______________________
سوال: قلمی سفر کا آغاز کب ہوا؟
بہت چھوٹی عمر میں ۔ جب والد صاحب دوبارہ تعلیم تربیت جیسے مشہور رسالے کے ایڈیٹر بنے اس وقت میں چھٹی جماعت کی طالبہ تھی ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ملنے والے کام میں اردو کے مضامین خود لکھے ۔ اِن میں کچھ مضامین والد صاحب کو اتنے پسند آۓ کہ انہوں نے باری باری اُن مضامین کو تعلیم و تربیت میں شائع کر دیا جن میں
سائنس کے کرشمے
برسات کا موسم
پانی
جیسے عنوانات شامل تھے ۔ پہلا مضمون جو شائع ہوا وہ برسات کا موسم تھا ۔ وہ مضمون کم اور میرے کھیل تماشے زیادہ تھے جو میں بارش میں کھیلتی اور کھاتی پیتی تھی ۔ وہ مضمون جب شائع ہوا تو سینیئر ادبی شخصیات نے والد صاحب سے کہا کہ آپ کے رائٹرز بچوں میں اضافہ ہو گیا اور اس مضمون کو میری عمر کے حساب سے بہت اچھی کوشش قرار دیا گیا ۔
تحریر کے ساتھ لکھا اپنا نام دیکھ کر سمجھیں یوں لگ رہا تھا کہ
آج لگتا ہے کہ میں ہواؤں میں ہوں
پَیر ہی نہیں ٹِک رہے تھے زمین پر پھر بڑی مشکل دلِ ناداں کو سمجھایا کہ پگلی یقین کر لے کہ یہ تو نے ہی لکھا ہے اور شائع بھی ہو گیا ہے ۔ بس وہ جو خوشی تھی وہ دوبارہ کسی تحریر کے شائع ہونے پر نہیں ملی ۔ پہلی تحریر کی اشاعت کا اپنا ہی نشہ ہے ۔
افسوس آج وہ میرے ریکارڈ میں موجود نہیں ۔
_________________________
سوال: پہلی کہانی/تحریر کون سی لکھی اور اس کا رسپانس کیسا رہا ؟
بچوں کے لۓ کہانیاں تو بہت پہلے سے لکھ رہی تھی لیکن جب پہلا مضمون نواۓ وقت جیسے بڑے اخبار میں شائع ہوا اور سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہو کر پہلا افسانہ لاہور سے خواتین کے لۓ شائع ہونے والے رسالے ( حنا ) کے لۓ لکھا تو والد صاحب نے ماتھا چوم کر کہا کہ میں نے کبھی افسانہ نہیں لکھا اور اگر لکھتا بھی تو اپنی بیٹی سے اچھا نا لکھ پاتا ۔ یہی وہ حوصلہ افزائی تھی جس کی بِنا پر میں نے کئی افسانے لکھے جو اب تیس سال بعد کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔
________________________
سوال: اپووا کی تقریبات میں آنے کاآپ کا ایکسپیرنس کیسا رہا ؟
بہت اچھا ۔ ادبی تقریبات میں بہت کم کم جاتی ہوں ۔ لیکن اپوا کی تقریبات میں جب بھی بلایا جاتا ہے کوشش ہوتی ہے کہ شرکت کر سکوں اور اب مجھے اپوا کی تقریبات کا حصہ بنتے تین سال ہونے کو ہیں ۔
__________________________
سوال: فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟
چاۓ کے گرما گرم کپ کے ساتھ کچھ خاموش لمحے اپنے نام کرنا اور اپنے خوبصورت ماضی کو یاد کرنا مجھے بہت پسند ہے ۔ اس حوالے سے گھنٹوں گفتگو بھی کر سکتی ہوں ۔ اچھا کھانا بھی بنا کر خوش ہوتی ہوں اور ذہن میں خیالات اور سوچوں کا ہجوم ہو تو انہیں الفاظ کا روپ دیکر محفوظ کر لیتی ہوں ۔ بہت سی ایسی تحریریں محفوظ کر رکھی جنہیں شائع نہیں کروایا اور نا ہی کروانا چاہتی ہوں ۔ مجھے لگتا ہے ان تحریروں میں ، میں نے اپنا آپ محفوظ کر رکھا ہے ۔ ان تحریروں کا دروازہ کھول دوں گی تو شاید اپنا آپ گُم کر بیٹھوں گی ۔
___________________________
سوال: زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟
یوں تو زندگی نے بہت سبق دیۓ لیکن یہ سبق اپنے پلو سے باندھ لیا کہ سامنے بیٹھے شخص پر صرف اتنا اعتبار کرو جتنا وہ ہضم کر سکے ۔ لوگوں سے ملنے میں بہت محتاط رہتی ہوں ۔ نا کسی کو نقصان پہچاتی ہوں اور نا ہی کسی کو اپنا نقصان کرنے دیتی ہوں ۔
__________________________
سوال: لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟
اچھے برے لوگ زندگی میں ہر جگہ ہر مقام پر ہمیشہ رہے ہیں ۔ یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ کیسے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے ۔ موجودہ معاشرے میں انسان کی زندگی میں ماضی کی نسبت تیزی بھی آ گئی ہے اور خلوص بھی کم ہو گیا ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کے تعلقات خود پرستی اور مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اسی لۓ وہ دیرپا ثابت نہیں ہوتے ۔
_____________________
سوال: کبھی ایسا محسوس ہوا کہ اگر لکھاری/شاعرہ نہ ہوتی تو کیا ہوتی ؟
شاید کسی پُر فضا مقام پر روایتی قسم کی بیوی اور ماں بن کر پُرسکون زندگی کے شب و روز گذار رہی ہوتی ، جہاں ہر آنے والے دن میں قدرت کی خوبصورتی کو نۓ انداز میں محسوس کرتی ۔
_____________________
سوال: لکھنے کی طرف کب آنا ہوا ؟
گیارہ سال کی عمر میں جب چھٹی جناعت کی طالبہ تھی ۔
_______________________
سوال:جدید دور میں لکھاریوں کے لیے کیا چیز ضروری ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکے ؟
معاشرہ میں جِس تیزی سے منفی رحجانات اور منفی رویۓ بڑھتے جا رہے ہیں تو ایسے میں جینیوئن لکھنے والے آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ زیادہ تر لکھنے والے معیار پر نہیں تعداد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ صاحبِ کتاب ہونے کی جلدی میں بس کچھ بھی لکھنا چاہتے ہیں ۔ پیسے دو اور کتاب چھپوا لو ۔ یہ رحجان بن چکا ہوا جبکہ پہلے صرف وہ کتاب شائع ہوا کرتی تھی جو شائع ہونے کا حق رکھتی تھی ۔ لکھنے والے دہائیوں بعد صاحبِ کتاب ہوا کرتے تھے ۔ آج کل سب جلدی میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ بس ان کے نام کی واہ واہ کریں ۔
معاشرہ جس تیزی سے بدل رہا ہے مثبت تبدیلی لانا بہت مشکل ہو چکا ہے لیکن انسانی کوششیں جاری رہنی چاہیۓ کیونکہ خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔
_________________________
سوال: سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کن مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟
مجھے لگتا ہے کہ وقت اور عمر کے ساتھ ساتھ شوق بھی بدل جاتے ہیں ۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے البتہ اپنا پیارا پاکستان تو تقریباً پورا گھوم چکی ہوں ۔ ہاں دنیا سے جانے سے پہلے اللہ کے گھر میں بیٹھ کر خوب رو رو کر دل کا حال سنانا چاہتی ہوں ۔ جہاں صرف میں اور میرا اللہ ہو اور ہمارے درمیان کوئی دوسرا نا ہو ۔ بس میں کہتی رہوں اور مجھے پیدا کرنے والا سب سنتا رہے ۔
__________________________
سوال : کھانا پکانے کی شوقین ہیں یا کھانا کھانے کی ؟
کھانے سے زیادہ پکانے کی شوقین ہوں ۔ گھر آنے والے مہمانوں کے لۓ دل سے خوش ہو کر کھانا بناتی ہوں اور بقول میرے بڑے بھائی مرحوم کے میرے بنے کھانوں میں اُسے وہی ماں کے ہاتھ کے بنے کھانوں والا ذائقہ ملتا ہے جس کے ہم سب بہن بھائی دیوانے ہوا کرتے تھے ۔
_____________________
سوال : آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟
زندگی کے روپ وقت ، عمر اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں کبھی باوفا کبھی بیوفا ، تو پھر کیا ہی کہیں زندگی کے بارے میں ۔
______________________
سوال :زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟
جب والد جیسا خوبصورت رشتہ کھویا ۔ پھر دل کو سمجھایا کہ بہادر بننا ہے اپنے سے جڑے ہر پیارے رشتے کے لۓ ۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ رشتے ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں اور ہمت جواب دیتی جا رہی لیکن زندگی اللہ کی نعمت ہے تو تب تک صبر اور شکر کرنا ہے جب تک اللہ نے آخری سانس دی ہے ۔ بیشک وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے اور ہمیں اس کے فیصلوں میں راضی ہونا ہے لیکن آج بھی والد صاحب اور بڑے بھائی کی جدائی آنکھیں نَم کر دیتی ہے ۔
____________________
سوال: زندگی کا کوئی مزیدار سا واقعہ جسے یاد کر کے اب بھی ہنسی آتی ہو ؟
بچپن میں شرارت کر کے اتنی معصوم صورت بنانا کہ کوئی سوچ بھی نا سکے کہ یہ شرارت میری تھی یوں بچپن میں بہت بار پٹائی سے بچ جایا کرتی تھی ۔ آج سوچوں تو خود ہی مسکرا دیتی ہوں ۔
_____________________
سوال: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
وقت کے ساتھ تجربات سے انسان سیکھتا ہے ۔ ادب میں تاریخ رقم کر جانے والوں کو پڑھیں ۔ ان کے کام سے سیکھیں اور عزت ، شہرت اور دولت کمانے کے لۓ شارٹ کٹ نا لیں ۔ جلدی نا کریں ۔ اپنے کام سے مخلص رہی ۔ محنت سے کام کریں ان شاء اللہ آپ بھی ادب کی تاریخ میں مدتوں یاد رکھے جائیں گے ۔
________________________
سوال : اپووا تنظیم کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی ؟
پاکستان بھر سے ادبی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا بہترین کام جو اپوا کی تنظیم کر رہی ہے وہ قابلِ تحسین ہے ۔ ہر کامیاب ایونٹ کے پیچھے ان کی محنت ، جدوجہد اور لگن شامل ہے ۔ دوسرے کو عزت دیتے ہیں اور جواب میں انہیں بھی عزت ملتی ہے ۔ یہی ان کی کامیابی کی کنجی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی تنظمیموں میں اپوا نے تھوڑے عرصے میں بڑا نام کمایا ہے ۔اللہ ان کو مزید کامیاب کرے ۔ آمین
میں اٹھارہ سال کی بریک کے بعد ادبی دنیا میں لوٹی ہوں ۔ میری واپسی کا مقصد اپنے مرحوم والد پروفیسر خالد بزمی صاحب کا وہ کام سمیٹنا ہے جو اُن کی اچانک وفات کی وجہ سے شائع ہونے سے رہ گیا ۔ الحمد للہ میں اُن کے دنیا سے جانے کے بعد اب تک اُن کی چھ کتابیں شائع کروا چکی ہوں اور مزید کتابوں پر کام کر رہی ہوں ۔ بشرطِ زندگی اُن کی مزید کتابیں شائع کرنے کا عزم رکھتی ہوں ۔ والد صاحب پر ہونے والے ریسرچ ورک کی نگرانی کرتی ہوں اور پچھلے دو سال سے میں نے اپنے والد صاحب کے نام سے ( خالد بزمی نعت ایوارڈز ) بھی شروع کر رکھے ہیں اور اِن دو سالوں میں اب تک دس نامور نعت نگاروں کو نعت ایوارڈ اور کیش انعامات سے نوازا جا چکا ہے ۔ مستقبل میں اس حوالے سے مزید کام جاری رکھنے کا ارادہ ہے ۔
543 total views, 6 views today
























Leave a Reply