امریکہ کے یمن میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے، 15 افراد ہلاک
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ’فیصلہ کن اور طاقتور‘ فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس کی وجہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر مسلح گروہ کے حملے قرار دی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’ایران کی مالی معاونت سے حوثی باغیوں نے امریکی طیاروں پر میزائل داغے اور ہمارے فوجیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔‘
حوثی باغیوں کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ کے جواب میں بحیرہ احمر میں مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے گروپ نے کہا ہے کہ وہ پوری طاقت سے امریکی فضائی حملوں کا جواب دیں گے۔
حوثی باغیوں نے سنیچر کی شام صنعا اور شمالی صوبے صعدہ میں سلسلہ وار دھماکوں کی اطلاع دی جو سعودی عرب کی سرحد پر باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ باغی گروہ جو اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، صنعا اور یمن کے شمال مغرب پر کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن یہ ملک کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نہیں ہے۔
غیر مصدقہ تصاویر میں صنعا کے ہوائی اڈے کے علاقے میں کالے دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک بیان میں حوثی باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ برطانیہ نے سنیچر کے روز حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملوں میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن اس نے امریکہ کو معمول کی ایندھن بھرنے کی حمایت فراہم کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ان حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تک ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے ہم طاقت کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘
حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف اسرائیل، امریکہ یا برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
نومبر 2023 سے اب تک حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں درجنوں تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کی مدد سے نشانہ بنایا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے یمن میں حوثی باغیوں پر ’فیصلہ کُن اور طاقتور‘ فضائی حملے کیے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایرن کی مالی مدد سے حوثی بدمعاشوں نے امریکی جہاز پر میزائل فائر کیے ہیں، ہمارے فوجیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے‘ جس کے سبب نہ صرف ’اربوں ڈالر‘ کا نقصان ہوا ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں نو افراد ہلاک اور نو افراد ہی زخمی ہوئے ہیں۔
حوثیوں کا گروہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کی ابتدا کے بعد سے سمندری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے حملے اب بھی جاری رہیں گے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایسے حملے ’برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘
’جب تک ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے تب تک جان لیوا قوت کا استعمال کیا جائے گا۔‘
حوثی گروہ کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور وہ اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی ابتدا کے بعد حوثی گروہ نے بحیرہ احمر میں متعدد سمندری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ابتدائی طور پر حوثی گروہ کا کہنا تھا کہ وہ صرف اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم جن سمندری جہازوں پر حملے کیے گئے ان میں سے متعدد کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بھی کہا ہے کہ وہ حوثیوں کی حمایت ترک کر دے ورنہ امریکہ ’اس کا بھی احتساب کرے گا اور یہ اچھا نہیں ہوگا۔‘
انھوں نے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر ’کمزوری دکھانے‘ اور حوثیوں کو حملے کرنے کی اجازت دینے کا الزام بھی لگایا ہے۔
303 total views, 3 views today
























Leave a Reply