شریف اللہ عرف جعفر: ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب میں کس شدت پسند کی گرفتاری کا اعلان ہوا؟
امریکی کانگریس سے ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب اپنی طوالت اور متنازع موضوعات کی وجہ سے تو خبروں میں ہے ہی، اس تقریر میں انھوں نے افغانستان میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی وجہ بننے والے خودکش حملے کے ’مرکزی ملزم‘ کی پاکستان سے گرفتاری کا اعلان کر کے بھی سب کو چونکا دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد کانگریس سے اپنے اولین خطاب میں کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ سنہ2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والا مرکزی ملزم پکڑا گیا۔‘
یاد رہے کہ 26 اگست 2021 کو کابل ائیرپورٹ کے ایبے گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی
امریکی صدر نے تو تقریر میں اس ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن امریکی محکمۂ انصاف نے بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں ایبے گیٹ خودکش حملے کے اس منصوبہ ساز کا نام محمد شریف اللہ المعروف جعفر بتایا ہے جس کا تعلق دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام کی خراسان شاخ سے ہےعبدالرحمان الوگاری (بائیں) جن کے بارے میں امریکی تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ انھوں نے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑایا۔ دائیں جانب اس شخص کی تصویر ہے جسے خودکش حملے کے روز امریکی سکیورٹی اہلکاروں نے ایئرپورٹ پر موجود مجمعے میں ’مشتبہ شخص‘ قرار دیا تھا
اس الگ دکھائی دینے والے شخص کو رپورٹ میں ’بالڈ مین اِن بلیک‘ یعنی (کالے کپڑوں میں ملبوس گنجا شخص) کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے۔ سوال یہ تھا کہ کیا یہ الگ دکھائی دینے والا شخص ‘خطرے کے طور پر نامزد’ ہونے کے لائق تھا۔
تاہم ضمنی جائزے میں پتا چلا کہ اس روز ایئرپورٹ پر موجود بٹالین کمانڈر نے ’رولز آف انگیجمنٹ’ کے تحت اس درخواست کا باقاعدہ جائزہ لیا۔ ‘بٹالین کمانڈر نے یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ٹھوس فوجی فیصلے کا استعمال کیا کہ ‘بالڈ مین اِن بلیک’ایک قانونی فوجی ہدف نہیں تھا۔ اس واقعات کے نتیجے میں یہ کہنا کہ بٹالین کمانڈر صورتحال کا صحیح ادراک نہیں کر پائے درست نہیں اور اس کی تصدیق دستیاب ثبوتوں سے نہیں ہوتی۔‘
’یہ واضح ہے کہ (بٹالین کمانڈر) نے سنائپرز کو ‘بالڈ مین اِن بلیک’ کو انگیج کرنے کی منظوری نہیں دی۔ اور یہ واضح تھا کہ اس فیصلے کو مانا گیا تھا۔‘
ضمنی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ’اِس بات کا امکان بہت کم تھا کہ ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے اصل حملہ آور عبدالرحمان الوگاری کو اس کی جانب سے خودکش حملہ کرنے سے قبل شناخت کر لیا جاتا۔‘
’ٹائم لائن اور ایئرپورٹ پر موجود ہجوم کی تعداد کو دیکھتے ہوئے حملے سے قبل حملہ آور کی شناخت ناممکن تھی۔‘ ٹیم کے ایک ممبر نے کہا کہ ’سروس ممبران یعنی اہلکار حملے کے دن اپنے فرائض کو لے کر چوکس تھے، اس حقیقت کے باوجود کہ اس وقت دستیاب انٹیلیجنس کے پاس اس نوعیت کے ڈیٹا کی کمی تھی جسے عبدالرحمان کی بروقت شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔‘
اُسی اہلکار نے مزید کہا کہ ’انٹیلیجنس اداروں نے فیشل ریکیگنیشن کا استعمال کرتے ہوئے عبدالرحمان الوگاری کی تصویر کا موازنہ ’بالڈ مین اِن بلیک‘ سے کیا اور اس کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ یہ الگ الگ تصاویر ایک ہی فرد کی نہیں تھیں۔۔
252 total views, 3 views today
























Leave a Reply