وہ لمحہ جب جھیل وکٹوریہ دریافت ہوئی
1858 میں ڈالا کے لوؤ مرد ایک گورے آدمی کو اٹھا کر لے جا رہے ہیں تاکہ وہ اسے جھیل وکٹوریہ دکھا سکیں تاکہ وہ اسے دریافت کر سکے۔
برطانوی مہم جو جان ہیننگ اسپیک (1827-1864) کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ وہ جھیل وکٹوریہ کا دورہ کرنے والا پہلا یورپی تھا، اور بعد میں اس نے اسے دریائے نیل کا ماخذ قرار دی
میں، جب افریقہ کی سرزمین یورپی مہم جوؤں کے لیے ایک نامعلوم خطہ تھی، اس وقت کے مشہور برطانوی سیاح جان ہیننگ اسپیک (1827-1864) نے مشرقی افریقہ کا سفر کیا۔ اس دوران وہ ڈالا کے علاقے میں پہنچا، جو موجودہ کینیا میں واقع ہے، جہاں لوؤ قبیلے کے افراد نے اس کا استقبال کیا۔ روایت کے مطابق، لوؤ مردوں نے اسپیک کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر جھیل وکٹوریہ تک لے گئے تاکہ وہ اسے دکھا سکیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اسپیک نے پہلی بار افریقہ کی سب سے بڑی جھیل، جھیل وکٹوریہ کو دیکھا — اور بعد میں اسی دریافت کی بنیاد پر اسے دریائے نیل کے منبع کے طور پر شناخت کیا۔ اسپیک کی یہ “دریافت” یورپی نوآبادیاتی نظریے کے تحت ایک بڑی سائنسی اور جغرافیائی کامیابی سمجھی گئی، حالانکہ یہ جھیل صدیوں سے مقامی اقوام کے لیے جانی پہچانی اور مقدس حیثیت رکھتی تھی۔
372 total views, 3 views today
























Leave a Reply