مقبوضہ کشمیر میں 60 تا 80 فیصد دہشتگرد پاکستانی ہیں جنرل دویدی کا بیان
انڈین فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دِویدی نے کہا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں پاکستان سے عسکریت پسندوں کی دراندازی روکنے کے لیے 15 ہزار اضافی فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
پیر کو سالانہ پریس کانفرنس میں جنرل دِویدی نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ ان کا پڑوسی ملک ابھی بھی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کو بھیج رہا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’2024 میں مارے گئے 73 دہشت گردوں میں سے 60 فیصد پاکستانی تھے جبکہ اس وقت جو دہشتگرد سرگرم ہیں ان میں 80 فیصد پاکستانی ہیں۔‘
انڈین فوج کے سربراہ کے مطابق لائن آف کنٹرول پر موٴثر جنگ بندی کے باوجود مسلح عسکریت پسندوں کی دراندازی کا سلسلہ جاری ہے اور ’دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ‘ اب بھی موجود ہے۔
اگر (مسلح گروپوں کو) پاکستان کی حمایت جاری رہی تو ایل او سی پر دراندازی کا سلسلہ جاری رہے گا تاہم سرحدی علاقوں میں 15 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مسلح تشدد میں معنی خیز کمی آئی ہے۔‘
فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ کشمیر میں ’ٹیرراِزم کی جگہ اب ٹوراِزم نے لے لی ہے۔‘
انڈین فوج کے سربراہ کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان اور انڈیا ماضی میں تین باقاعدہ بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں اور اس کے علاوہ متعدد ایسے مواقع بھی آئے جب یہ دونوں چوتھی باقاعدہ جنگ کے دہانے سے واپس پلٹے۔ دونوں ممالک کے حکام ایک دوسرے پر دہشتگردی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔
گذشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دعویٰ کیا تھا کہ اس برس انڈیا نے 25 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔
جنرل دِویدی کا بیان کتنا اہم؟
تجزیہ کار اور مبصرین انڈین فوج کے سربراہ جنرل دِویدی کے بیان کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے بیانیے کی ہی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر امور کے ماہر اور مصنف غلام رسول شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کئی برسوں سے پاکستان کے تئیں انڈیا کی فوجی اور سِول قیادت کا لہجہ نرم ہے۔ جنرل دِویدی دراصل ان اعداد و شمار سے یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ کشمیریوں کی اکثریت نے موجودہ صورتحال کو تسلیم کیا اور وہ تعمیر و ترقی اور سیاحت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔‘
خیال رہے وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں انڈین آئین سے آرٹیکل 370 کا حذف کردیا تھا جس کے تحت اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔
اس شق کے خاتمے کے بعد انڈیا کے تمام مرکزی قوانین ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کشمیر میں نافذ ہو گئے تھے۔
غلام رسول شاہ کا کہنا ہے کہ اب انڈین فوج کی توجہ کا مرکز چین ہے۔
240 total views, 3 views today
























Leave a Reply