روٹی ’دو وقت کی‘ لیکن کھانے کے اوقات تین: دن میں کتنی بار کھائیں اور کتنی دیر بھوکے رہیں

’انسان جو کچھ بھی کرتا ہے دو وقت کی روٹی کے لیے ہی تو کرتا ہے‘۔ یہ ڈائیلاگ یقیناً آپ کو اکثر سننے کو ملے گا لیکن پھر ہم کھانا تین وقت کیوں کھاتے ہیں؟

تین وقت کھانے کی روٹین نئی ہے اور یہ سوال اپنے آپ میں اہمیت رکھتا ہے کہ دن میں کتنی بار کھانا ہماری صحت کے لیے بہترین ہیں؟

اس بات کا امکان ہے کہ آپ دن میں تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں اور غور سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ جدید زندگی کھانے کے اسی طریقے کے اردگرد گھومتی ہے۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا ہے، ہمیں کام کے دوران لنچ بریک دیا جاتا ہے، اور پھر ہماری سماجی اور خاندانی زندگی شام کے کھانے کے گرد گھومتی ہے لیکن کیا یہ کھانے کا سب سے صحت بخش طریقہ ہے۔
اس بات پر غور کرنے سے پہلے کہ ہمیں کتنی بار کھانا چاہیے آئیے ہم یہ جانتے ہیں کہ سائنسدان اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ وہ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی تاکید کرتے ہیں کہ ہمیں کب نہیں کھانا چاہیے۔

اگرچہ آپ آٹھ گھنٹے کے وقفے سے کھانے کے عادی ہیں لیکن وقفے وقفے سے روزہ رکھنا یا بھوکے رہنا پر تحقیق کی جا رہی ہے۔

کیلیفورنیا میں سالک انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹڈیز کی کلینیکل ریسرچر اور ’کب کھائیں‘ کے عنوان سے سنہ 2019 میں ایک مقالے کی مصنفہ ایملی مانوگین کہتی ہیں کہ اپنے جسم کو دن میں کم از کم 12 گھنٹے کھانے کے بغیر رہنے دینے سے ہمارے نظام انہضام کو آرام ملتا ہے۔

یونیورسٹی آف وسکانسن کے سکول آف میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر روزلین اینڈرسن نے کیلوری کی پابندی کے فوائد کا مطالعہ کیا ہے۔

اس کے تحت انھوں نے جسم میں سوزش کے حوالے سے تحقیق کی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’روزانہ کچھ گھنٹے بھوکا رہنے سے ان میں سے کچھ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ بھوک جسم کو ایک مختلف حالت میں ڈال دیتا ہے، جہاں یہ نقصان کی تلافی اور نگرانی کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے اور مس فولڈڈ پروٹین کو صاف کرتا ہے۔‘

مس فولڈڈ پروٹین عام پروٹینز کا ناقص ورژن ہیں جو کہ مالیکیولز ہیں اور یہ جسم میں بہت زیادہ اہم کام انجام دیتے ہیں۔ مس فولڈڈ پروٹین کا تعلق کئی بیماریوں سے ہے۔

اینڈرسن کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا ہمارے جسموں کے ارتقا کے مطابق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سے جسم کو ایک وقفہ ملتا ہے اس لیے وہ خوراک کو ذخیرہ کرنے اور توانائی حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہمارے جسم کے ذخیروں سے توانائی خارج کرنے کے طریقہ کار کو متحرک کرتا ہے۔

اٹلی کی پاڈووا یونیورسٹی میں ورزش اور کھیل کے سائنس کے پروفیسر انتونیو پاؤلی کہتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے ہمارے گلیسیمک ردعمل کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں کھانے کے بعد ہمارے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خون میں گلوکوز کی مقدار کم ہونے سے آپ کو جسم میں چربی کم ذخیرہ کرنے کی اجازت ملتی ہے۔

پاؤلی کا کہنا ہے کہ ’اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رات کا کھانا جلدی کھانے اور بھوکے رہنے کا وقت بڑھانے سے جسم پر بہتر گلیسیمک کنٹرول جیسے کچھ مثبت اثرات ہوتے ہیں۔‘

پاؤلی نے مزید کہا کہ گلائی کیشن نامی ایک عمل کی وجہ سے تمام خلیوں کے لیے بہتر ہے کہ ان میں شکر کی سطح کم ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں گلوکوز پروٹینز سے جڑتا ہے اور مرکب بناتا ہے جسے ’ایڈوانسڈ گلائسیشن اینڈ پروڈکٹس‘ کہا جاتا ہے، جو جسم میں سوزش کا باعث بنتا ہے اور اس کی وجہ سے ذیابیطس اور دل کی بیماری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
لیکن اگر وقفے وقفے سے روزہ رکھنا یا بھوکا رہنا ایک صحت بخش طریقہ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنی بار کھانے کی گنجائش نکلتی ہے؟

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں ایک کھانا کھانا بہتر ہے۔ ایسا خیال رکھنے والوں میں نیویارک میں کارنیل یونیورسٹی کے کالج آف ہیومن ایکولوجی کے پروفیسر ڈیوڈ لیوِٹسکی شامل ہیں اور وہ خود اس پر عمل پیرا ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’اس بارے میں بہت سے اعداد و شمار موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر آپ کے سامنے کھانا ہو یا کھانے کی تصویریں ہوں، تو آپ کے کھانے کا امکان زیادہ ہے اور جتنا زیادہ کھانا آپ کے سامنے ہو گا آپ اس دن اتنا ہی زیادہ کھائیں گے۔

387 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *