انٹرویو اعجاز احمد نواب

السلام علیکم ،میں ہوں رشنا اختر ۔۔۔معروف ادبی تنظیم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام چلنے والی معروف ویب سائیٹ کی ہوسٹ ۔۔ ایک بار پھر حاضر ہیں بہترین انٹرویو کے ساتھ ۔ ہمارے آج کے مہمان ہیں “اعجاز احمد نواب صاحب” جو کہ مصنف ، ادبی مورّخ اور ناشر بھی ہیں ۔ تو چلئیے بغیر وقت ضائع کیے انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں ۔

. السلام علیکم

وعلیکم السلام

. کچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرے پاس بتانے کو کچھ خاص نہیں!
میں انتہائی عام سے شخص ہوں راولپنڈی کا باشندہ ہوں ، ایم سی پرائمری اسکول مکھا سنگھ اسٹیٹ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی اسکول نمبر 1 مری روڈ ،اور گارڈن کالج کل تعلیمی اثاثہ ہیں زندگی میں کبھی ملازمت نہیں کی ، پیشہ ورانہ طور پر تاجرانِ کتب ہوں اشرف بُک ایجنسی راولپنڈی کو کتاب سے متعلقہ ہر مرد و زن جانتے ہے ، نواب سنز پبلی کیشنز راولپنڈی میرا کتابیں شائع کرنے کا قدیم ادارہ ہے !

آپ کا بچپن کیسا گزرا ؟

بجھی آگ نوں پھوکاں نہ مارو
یادِ ماضی عزاب ہے یا ربّ
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
غربت عسرت ، تنگ دستی ،کم مائیگی
سہما سہما سا بچپن ،

. کتب بینی کا شوق کب پروان چڑھا ؟ ادبی حوالے سے کون سے اساتذہ سے استفادہ حاصل کیا ۔

ہمارے والدِ گرامی ملک نواب خان لائبریرین تھے آنہ لائبریری چلاتے تھے اشرف لائبریری جہاں، دس ہزار سے تجاوز کتابیں تھیں ،بس وہیں سے مطالعہ کی لت لگی ، تاہم ایم اے راحت صاحب کے زیرِ شفقت 18 سال جو بیتے وہی مجھے لکھنا سکھا گئے ایم اے راحت میرے قلمی استاد ہیں ،ان کے ساتھ میرے گھریلو مراسم تھے ،

. اب تک کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ؟ زیادہ مقبولیت کونسی کتاب نے حاصل کی ۔

میں نے بہت کم لکھا کیونکہ میں شوقیہ لکھتا ہوں ، ہزار صفحات پر مشتمل ایک ناول ناگن ہے جس کے آج تک ان گنت ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں یہ خوفناک ڈائجسٹ ،پھر ڈر ڈائجسٹ اور پھر سچی کہانیاں ڈائجسٹ میں چھپتا رہا ، ایک ناول آشیانہ ہے اور تیسرے ناول کا نام ہے شیطانی جزیرہ ، جو کہ ماہنامہ نئے اُفق ڈائجسٹ میں بالاقساط شائع ہوا تھا ، ان کے علاوہ تیری یادوں کے گلاب شارٹ سٹوریز کا مجموعہ ہے اس میں شامل کہانیاں خواتین کے ڈائجسٹوں مثلآ آنچل ریشم شعاع وغیرہ میں شازیہ اعجاز شازی کے قلمی نام سے چھپتی رہیں !
تقریباً پانچ سال سے زیادہ عرصہ تک میں ایک ڈائجسٹ ماہنامہ مسٹر میگزین کا ناشر و چیف ایڈیٹر بھی رہا
اُردو کہانی کا سفر میرا مقبول ترین ادبی سلسلہ ہے جس میں ادبی شخصیات ناشرین مدیران کے انٹرویوز خاکے اور میرے کتابی مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں ،اردو کہانی کا سفر کی اب تک 60 سے زیادہ اقساط چھپ چکی ہیں اور عنقریب لاہور کے معروف اشاعتی ادارے سے کتابی شکل میں بھی شائع ہونے والا ہے
فلم نگری کے عنوان سے ماہنامہ سرگزشت ڈائجسٹ میں گاہے بگاہے لولی وڈ فلم انڈسٹری کا احوال بھی رقم کرتا رہتا ہوں ، آج کل پنڈی وال کے نام سے راولپنڈی اسلام آباد کی تاریخ لکھ رہا ہوں جو فیس بُک پر قسطوں میں چھپ رہا ہے ،

. کالم نگاری ایک مشکل کام ہے ۔ ایک کالمسٹ کو لکھتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے ؟

میں نے چند ایک ہی کالم لکھے تھے عشروں قبل ادب کی اس صنف سے متعلق میں زیادہ نہیں جانتا ،تاہم کالم نگار کے لیے حالات حاضرہ پر گہری نگاہ رکھنا ضروری ہے ،اس کے علاوہ تاریخ پر مضبوط گرفت بھی لازم ہے

سننے میں آیا ہے کہ ریختہ اردو کے امیج کو دھندلا کر رہی ہے اگرچہ ریختہ کی خدمات ہیں لیکن اصل اردو کے مقابلے کی نہیں ہیں ۔ اس کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟

کچھ شبہ نہیں کہ ریختہ اُردو کی سب سے زیادہ وسعت رکھنے والی ویب سائٹ ہے ، اُردو کے لیے ریختہ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ،لیکن رومن اُردو دیو ناگری یا ہندی رسم الخط کا استعمال ان کی مجبوری تو ہو سکتی ہے لیکن قابلِ قبول کسی صورت نہیں !

. دور حاضر میں ایک لکھاری کیسے مثبت تبدیلی لا سکتا ہے جبکہ نوجوان نسل میں بے راہ روی اور ادب دوستی کی کمی ہے ۔

اپنے اپنے حصہ کی شمع تو جلانی ہی پڑے گی ، بے راہ روی کے سیلاب کے آگے بند تو باندھنا ہی پڑے گا ،، کتاب کی ترویج و اشاعت ہی مہزب اقوام کی پہچان ہوتی ہے ، ہمیں تعلیمی اداروں میں بزمِ ادب کی روایت کو زندہ کرنا ہو گا ، تعلیمی میدان میں کام یاب ہونے والے اسٹوڈنٹس کو کتابوں کا تحفہ دینے سے ادب اور کتاب دوستی پروان چڑھ سکتی ہے

. وقت اور حالات کے مطابق لوگوں نے پیشے بدل لیے شوق بدل لیے لیکن آپ عرصہ دراز سے کتب خانے سے ہی منسلک کیوں ؟
پسندیدہ مصنفین جنہیں اکثر پڑھتے ہوں ؟

پیشہ اور شوق ایک ہو جائے تو پھر دیوانگی مہمیز ہو جاتی ہے ، کتاب اور ادب سے پیار ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے،1950 میں قائم ہونے والی اشرف لائبریری جو کہ آنہ لائبریری تھی ،آج اشرف بُک ایجنسی نواب سنز پبلی کیشنز اور رُمیل ہاؤس آف پبلی کیشنز کی صورت میں اپنے کاندھوں پر اُردو ادب کی اشاعت و ترویج کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے ، ہماری چوتھی پیڑھی اپنے کاندھے اس بارِ گراں کو اٹھانے کے لیے تیار کر رہی ہے ،
کتاب ہمارا عشق بھی ہے اور وسیلۂ روزگار بھی ، اب تازندگی انشاء اللہ یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ،ہمارے خاندان کا ماضی بھی کتاب ہے حال بھی کتاب ہے اور انشاء اللہ مستقبل بھی کتاب سے جڑا ہوا ہے !

آپ کے کتب خانے کی سب سے قدیمی کتاب کونسی ہےجو ابھی تک موجود ہے ۔

ہم نئی کتابوں کا کام کام کرتے ہیں ، ہر وہ کتاب جو بیسٹ سیلر ہو وہ مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں چاہیے وہ سو سال قبل لکھی گئی ہو

. اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں ؟

بڑا ایوارڈ آج تک ملا نہیں ، ریوڑیوں کی طرح بٹنے والے ایوارڈز کی تقاریب میں جانا مجھے پسند نہیں!

. نوجوان نسل خصوصاً خواتین کے لیے پاکستانی معاشرے میں اس قدر مشکلات کیوں؟

یقیناً یہ مردوں کا معاشرہ ہے یہاں چادروں والیوں کے فیصلے ہمیشہ پگڑی والے کرتے آئے ہیں ، بہت ضروری ہے بلکہ لازم ہے کہ ہم اپنی اپنی بچیوں کو بہترین تربیت اور اعلیٰ تعلیم دیں ،
تاکہ وہ اپنے فرائض سمجھنے کے ساتھ مالی خود مختاری حاصل کر سکیں، مالی طور پر مستحکم اور تعلیم یافتہ خواتین اپنے جائز حقوق کا بہتر دفاع کرسکتی ہیں

. فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟

مطالعہ کرتا ہوں گھر میں پسندیدہ کتابوں کا جَمِ غفیر رکھا ہوا ہے ، ہر کچھ عرصہ بعد کسی ایک ایسے آشنا سے ملنے ضرور جاتا، ہوں،یا ملاقات کی دعوت دیتا ہوں ، جس سے ملاقات ہوئے عرصہ دراز ہو گیا ہو! ! صبح پانچ بجے اٹھتا ہوں اور رات دس بجے سوجاتا ہوں

. زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

ہر کسی کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے
جھگڑا بڑھنے سے پہلے جھگڑے سے الگ ہو جانا چاہیے ۔
تاہم خون کے رشتوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا چاہیے!

. لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

معاشرے کی تشکیل و تربیت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ، حکومت کا فرض ہوتا ہے ، اوپر سے نظام درست ہو گا تو نچلی سطح پر خودبخود درست ہو جائے گا ،ہمارے ہاں ہر صاحبِ اختیار ، مرد و زن اختیارات سے تجاوز کرتا نظر آتا ہے ، معاشرے کی گراوٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ہم کسی سے صرف نام پوچھتے ہیں تو وہ آگے سے اپنا عہدہ پیشہ یا ذات بتاتا ہے اور ساتھ تعلیمی ڈگریاں بھی ،
حالانکہ ان سب کا نام سے کوئی تعلق بنتا ہی نہیں ،

.سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سےمشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟

بیرون ملک چند بار ہی گیا ہوں لیکن اگر بات پاکستان کی حد تک کی جائے تو شاید ہی کوئی مشہور ضلع، شہر یا مقام ایسا ہو جو نہ دیکھا ہو ،

. آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مُردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

. اپنا پسندیدہ شعر جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے ،تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

.نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
ابتدا میں اپنی کسی تحریر کو لکھنے کے بعد کم از کم پانچ سے سات سال تک کتابی شکل میں شائع نہ کروائیں !
امید ہے قارئین کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی قیمتی آرا سے ضرور آگاہ کیجیۓ گا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ خدا حافظ

1,503 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *