خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے:اپووا خواتین کانفرنس
خواتین کواپنے دائرے اور حدودمیں رہ
ہوئے آگے بڑھنا چاہیے:اَپووا کا مطالبہ
بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے:مقررین
لاہور(پ ر)قلم کاروں ‘ لکھاریوں‘صحافیوں ‘ادیبوں اور شاعروں کی نمائندہ جماعت آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی ’’ اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہلیتھ ڈاکٹر انعم پری،معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ ،معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی ،پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔اپووا خواتین کانفرنس میں یہ مطالبہ پیش کیا گیا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمعل گفٹ ہیمپرز تقسیم کیے گئے۔ خواتین سے سے یہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلمہ امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مزمت کی گئی۔
840 total views, 3 views today
























بہترین