تلخ حقیقت

آج کل ہر کوئی تعلیم حاصل کرتا ہے۔اور خود کو جدید(morden) دور میں تصور کرتا ہے۔اس بات میں کچھ غلط بھی نہیں ہے۔دنیا بہت ترقی کر رہی ہے۔سائنسدانوں بہت سی نئی نئی اور حیران کن ایجادات کر لی ہیں۔جس نے انسانوں کی زندگی کو بہت حیران کر دیا ہے۔جیسے کمپیوٹر اور موبائل فون کو ہی لے لیجئے۔
اس کے ساتھ ساتھ انسان خود کو کھلے ذہن(abrode mind)کا مالک کہلوانے ہے۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لوگ آج بھی اتنے ہی تنگ ذہن کے مالک ہیں جتنے پہلے تھے۔
میں اپنی تعلیم کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک انجان شہر میں کرائے کے گھر میں رہتی ہوں۔اس گھر میں پہلے دو لڑکیاں بھی رہتی تھیں۔لیکن ان کی پڑھائی مکمل ہو جانے کی وجہ سے میں اب اس گھر میں اکیلی رہتی ہوں۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں مجھے سمجھ آگئی کہ اس معاشرے میں ایک لڑکی کا اکیلے رہنا بہت مشکل ہے۔میں جب بھی رات کو سونے کے لیے لیٹتی ہوں کچھ آوازیں میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔جس کی وجہ سے میں اکثر راتوں میں سو نہیں پاتی۔ اگر میں ڈوپٹہ نہ لوں تو یہ معاشرہ بے حیا بنا دیتا ہے۔ اگر میں پورا پردہ کروں تو کہیں گے اتنی تم اسلامی بہن، اگر میں زیادہ بولوں تو بدتمیز اگر میں کم بولوں تو شوخی،اگر اکیلے باہر جاؤں تو عجیب نظروں سے دیکھتے اور اگر کسی کو ساتھ لے کر جاؤں تو اعتماد کی کمی ہے۔اور کسی کو میرے اکیلے رہنے سے مسئلہ ہے۔ یہ دنیا اور یہ معاشرہ کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں خوش نہیں ہو سکتا اور یہی ہمارے یہاں کی تلخ حقیقت ہے۔ایک لڑکی کے لیے اس معاشرے میں اکیلے رہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پہلے تھا ۔
کنزہ احمد
(فیصل آباد)

18,318 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *