غزل
زِندہ دلِی سے جی ذرا پیدا تُو اپنا نام کر
دُنیا بھی اُٹھ کے داد دے ایسا کوئی تو کام کر
روشن کرے گا نام تُو آبا کی کر کے پیروی
نیکی کا بن پیغامبر بندش بدی کی عام کر
میراث اپنی چھوڑ کر جو ہو گئے ہیں سب تباہ
بھٹکے ہوؤں کو رہ دکھا گِرتے ہوؤں کو تھام کر
کچھ بے سرو سامان ہیں کچھ آ پڑی درماندگی
جو رک گئے ہیں رہ نورد اُن کو سپردِ گام کر
روٹھا ہوا ہے یار تو اُس کو منا لے جیتے جی
مہرو اگر ہے تشنہ لب، اُس کو بدستِ جام کر
تنزیلہ مہروی
اوکاڑہ(پنجاب) پاکستان
2,571 total views, 3 views today
























Leave a Reply