جوان موت
سب نے اپنی مصلحت کے تحت فیصلہ کیا۔۔۔
پھر اس کی موت پہ سب سر پکڑ کے بیٹھ گئے۔۔
دور ہو چکی تھی وہ سب سے۔
سب اسکی ایک نظر کو ترس رہے تھے۔
کہی سے آجائے اور ہم ۔
بدل لیں اپنا فیصلہ سب ۔
ہہی سوچ رہے تھے۔
وہ بہت روئی تھی اس دن۔
اب سارا خاندان پل پل
سسکتا ہے
موت کے آغوش میں وہ ایسا گئی
اب پل پل سب مر رہے ہیں
اب پل پل سب مر رہے ہیں
پھول سی نازک تھی وہ
اس بات کو سوچ سوچ کر دل
دہل رہا ہے اس کے اپنوں کا
کیسے زہر اس نے پیا ہوگا؟
کیسے اپنا کلیجہ کاٹا ہوگا۔
ذرا سی چوٹ پہ گھر سر پہ اٹھا لیتی تھی۔
سب یہ سوچ سوچ کرچیخ رہے ہیں
کیسے چیخیں اس نے دبائی ہونگی
کیسے سسکیاں اس نے چھپائی ہونگی
ایک بات یاد آنے پہ
اس کی ماں کی آہیں نکلی
وہ اندھیرے سے ڈرا کرتی تھی
اب ہر پل سیاہی ہے اس کا
قبر کی آغوش میں
اس گھور اندھیرے میں
اسےنیند کیسے آتی ہوگی؟
اسے شوخ رنگ پسند تھے
سفید کفن سیاہ قبر
باپ کی آنکھیں غم سے لال ہوگئی
ایک انا نے
دانا کے فیصلوں نے
جوان جان لے لئی
آہ
جوان موت ہوگئی
موت بھی ایسی
سب دہل گئے
شانیہ چوہدری
3,192 total views, 3 views today
























Leave a Reply