بھارت میں حکومت ناکام، 17 ہزار نئے کورونا کیسز ا? گئے، دہلی میں حالات خراب

نئی دہلی (اپووا نیوز) بھارت میں کورونا وائرس پر قابو پانے کی حکومت کی تمام کوششیں ناکام ہونے لگی ہیں، 24 گھنٹوں میں 17 ہزار نئے کیسز سامنے آئے جس کے ساتھ متاثرین کی تعداد چار لاکھ 73 ہزار سے تجاوز کرگئی ۔متاثرین کے لحاظ سے بھارت پہلے ہی دنیا میں چوتھے مقام پر پہنچ چکا ہے اور اب صرف امریکا، برازیل اور روس سے ہی پیچھے رہ گیا ہے بھارتی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں میں 16922 نے کیسز سامنے آئے، جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسکے ساتھ ہی متاثرین کی تعدادچار لاکھ 73 ہزار 345 ہوگئی ہے خبر رساں ادارے کے مطابق نئے کیسز اور اموات کے معاملے میں بھارت میں ہر روز نیا ریکارڈ بن رہا ہے 24 گھنٹوں میں 418 اموات کے ساتھ کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار 907 ہوگئی ہے یوں تو متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے مغربی ریاست مہاراشٹر اب بھی سر فہرست ہیں جہاں اب تک ایک لاکھ 42 ہزار 899 کیسز درج ہوچکے ہیں اور 6739 لوگوں کی موت ہوچکی ہے دارالحکومت نئی دہلی نے اب اقتصادی دارالحکومت ممبئی کو پچھے چھوڑ دیاہے بھارت نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تلاش کے لیے شہر کی پوری آبادی کا سروے کیا جائے گانئی دہلی کی آبادی دو کروڑ 90 لاکھ کے قریب ہے جہاں حکام لوگوں کے گھروں پر جا کر ہر شہری کی صحت سے متعلق تفصیلات جمع کریں گے اور جن شہریوں میں کورونا کی علامات ہوں گی، ان کا ٹیسٹ کیا جائے گاخبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئی دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سروے چھ جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا وزارت صحت کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق دہلی میں متاثرین کی تعداد بڑھ کر 70 ہزار 390 ہوچکی ہے جبکہ ممبئی میں متاثرین کی تعداد 69 ہزار 528 ہے جنوبی ریاست تمل ناڈو متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے وہاں 67 ہزار 468 افراد متاثر اور 866 افراد ہلاک ہوئے ہیں ہلاکتوں کے لحاظ سے وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات تیسرے نمبر پر ہے جہاں اب تک 1736 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 29 ہزار کے قریب ہے ماہرین کا ماننا ہے گجرات حکومت جان بوجھ کر اصل تعداد نہیں بتارہی ہے دہلی میں کورونا وائرس کی وبا کے خطرناک صورت اختیار کرنے کے خدشے کے مدنظر حکومت جہاں ہسپتالوں میں ہزاروں اضافی بیڈ کا انتظام کررہی ہے وہیں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر بھی غور کررہی ہے حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ آبادی والی دہلی میں مریضوں کے لیے کوئی 13400 بستر الاٹ کیے گئے ہیں جن میں 6200 بھر چکے ہیںمودی سرکار کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک 20 ہزار اضافی بستر دستیاب کرا دیے جائیں گے مریضوں کے لیے کئی مذہبی مقامات میں عارضی مراکز بنائے گئے ہیں جبکہ ٹرینوں کے ڈبوں کو بھی عارضی میڈیکل وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے وفاقی وزیر داخلہ امیت شا ہ نے بتایا کہ دہلی میں ریلوے کوچز میں رکھے گئے کے مریضوں کو طبی امداد اور دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے مسلح افواج کے جوانوں کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے اعتراف کیا کہ مارا ایمبولنس سسٹم اور ہمارا میڈیکل سسٹم زبردست دباو میں ہے ہمیں مریضوں کو بسوں میں لے جانا پڑ رہا ہے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دہلی میں صرف 163ایمبولنس کو کورونا ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے جبکہ پچھلے 24 گھنٹوں میں تقریباً چار ہزار پازیٹیو کیس سامنے آئے ہیں ایسے میں اگر تمام 163ایمبولنس کو بھی صرف ان افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے لگایا جائے تب بھی اس کے لیے تین سے پانچ دن چاہئیںدراصل دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سبھی اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہیں تینوں جماعتیں اس ابتر صورت حال کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہی ہیں اور ان سب میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہورہا ہے

891 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *