”مجھے ہے حُکمِ اذاں“
مدینہ منورہ میں مسلمان ابھی مکمل طور پر سیٹلڈ نہیں ہوٸے تھے۔ منافقین اور یہود و نصاریٰ کی دیگر شرارتوں میں سے ایک شیطانی عمل یہ بھی تھا کہ مسلمان عورتیں جب گھر سے باہر (بول و براز یا دیگر اہم امور انجام دینے کی خاطر) نکلتیں تو ان پر آوازے کستے اور چھیڑ چھاڑ کرتے۔ ان کے یوں تنگ کرنے سے مسلم خواتین کا باہر نکلنے عذاب بنا ہوا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے دربارِ رسالت ﷺ میں اپنا مسٸلہ بیان کیا۔ حضرت عمرؓ نے بھی پردے کے بارے میں اپنی راٸے دی۔ جب منافقین اور یہود و نصاریٰ سے بات کی گٸی تو انہوں نے عذر پیش کیا کہ انہیں پتہ نہیں چلتا کہ یہ مسلمان عورتیں ہیں۔ اس لیے وہ دیگر عورتوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی اپنی شرارتوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ اگر کوٸی نشانی ہو جاٸے گی تو آٸندہ ایسا نہیں ہو گا۔ آیاتِ حجاب اتریں۔ سورہ نور میں احکاماتِ پردہ بیان ہوٸے۔ ”تاکہ تم پہچان لی جاٶ!“ کا مقصد یہی تھا۔ اس کے بعد جب مسلم خواتین ان احکامات کے مطابق اپنے آپ کو اپنے اللّٰہ کے کہے ہوٸے طریقے سے ڈھانپ کر نکلتیں تو کسی کی مجال نہ ہوتی کہ ان پر آوازے کسے یا ان سے بدتمیزی کر گزرے۔ اللّٰہ پاک نے ایک ایک چیز کو اچھے سے، تفصیل سے سمجھا دیا۔ پردہ کیسے کر کے نکلنا ہے سے لے کر نامحرم سے بات کرنی ہے تو کس ٹون میں کرنی ہے۔ گھر میں ٹکی رہو، دورِ جاہلیت والا ”تبرج“ نہ کرو، بازار میں تیز خوشبو لگا کے نہ جاٶ، اشد ضروریات کے لیے باہر نکلنا ہے تو کنارے کنارے چلو، کیسے چلو، کیا کرو سب کہہ دیا۔ مرد کو پہلے ہی کہہ دیا نظر جھکا لو، اپنی نظریں نیچی رکھو! ہر امر، ہر کام میں میرے اللّٰہ کی مصلحت ہوتی ہے۔ نظر اٹھنا باعثِ فساد ہے تو بالکل اسی طرح عورت کا اپنے سِتّر نہ ڈھانپنا، اپنے جسم کی نماٸش کرنا، دعوتِ نظارہ دینا بھی فساد کا باعث ہے۔
مرد و عورت دونوں کو اپنے اپنے حقوق و فراٸض دے کر ان کی حدود بتا دی گٸیں۔ قانونِ فطرت ہے کہ ایک بھی حد توڑے گا تو نتیجہ فساد اور خرابی کی صورت نکلے گا۔ عورت کو مناسکِ حج کی اداٸیگی کے دوران بھی مجمعے سے دور رہنے کی تلقین کی گٸی۔ عورت کو جہاد و دیگر ایسے فراٸض سے بھی آزاد کیا گیا۔ وہ ہمارے اسلام کا دور تھا۔ وہ ریاستِ مدینہ تھی کہ جہاں فاحشہ عورت اور فحش مرد دونوں کو سزا دی جاتی تھی۔ وہ ہمارے پاک نبیﷺ کا دور تھا کہ نابینا صحابی کی آمد پر حضرت عاٸشہؓ، امن المومنین کو اندر جانے کا حکم دیا کہ وہ نابینا ہے تو کیا ہوا تم نہیں۔
وہ ریاستِ مدینہ تھی، وہ خلفاٸے راشدین کا دور تھا۔ وہ عمرِ فاروقؓ کا دورِ عدل و انصاف تھا کہ ایک عورت مدینہ سے شام تک بلاخوف و خطر سفر کر سکتی تھی۔
رفتہ رفتہ وقت بدلا۔ مسلمان غیروں کے رنگ میں رنگنے لگے۔ مغرب کے چالاک مرد نے ایک چال چلی۔ جو ”فراٸض“ عورت کے متعلق اسے سونپے گٸے تھے، اس نے ”حقوق“ کے سنہرے پیکٹ میں لپیٹ کر عورت کو پیش کر دیے۔ مغرب کی کم فہم عورت نے اسے ”آزادی“ خیال کیا اور خوشی سے قبول کر لیا۔ یوں چالاک مغربی مرد اپنی ذمے داریوں سے آزاد ہوتا گیا۔ مغربی خطوں میں واقع مسلم ممالک نے یہ اثرات جلدی قبول کیے۔ مغربی معاشرے نے زن و مرد کو مادر پدر آزادی دی، شتر بےمہار کر دیا۔
ایسے مغرب نما مسلم معاشرے پسماندہ مسلم ممالک و روایتی معاشروں کی نظروں میں آٸے تو بغاوت نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ زن و مرد اس بھیڑ چال کا حصہ بننے کے لیے سربکف میدانِ ”بےعملی“ میں کود پڑے۔ ایک عجیب سی نفسا نفسی اور دھینگا مشتی شروع ہو گٸی۔ مشرقی مرد بھی مغربی مرد کی طرح غیرت و کردار کے بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش میں لگ گیا۔ مشرقی عورت بھی مغربی عورت جیسی ”آزادی“ کی خواہش کرنے لگی۔ اس سب نے معاشرے میں وہ بگاڑ پیدا کیا ہے کہ الاماں۔
زمانہ جاہلیت والا ”تبرج“ لوٹ آیا۔ ”پرانے“ کو ”نیا“ بنا کر پیش کیا گیا جسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا شوق ہر دل میں پیدا ہو گیا۔
اب آتے ہیں اپنے معاشرے کی طرف۔ اپنے ملک پاکستان کی طرف۔ آٸے دن ریپ کیسز کی خبریں آتی ہیں تو کبھی غیرت کے نام پر قتل کی۔ عورت بلاشبہ مظلوم ہے۔ مگر ہر کہانی میں نہ ظالم مکمل ظالم ہوتا ہے نہ مظلوم مکمل مظلوم۔
اگر نوبیاہتا عورت پر جہیز کم لانے پر گیس کا چولہا پھٹ جاتا ہے تو ویسے ہی اکثر نوبیاہتا عورت کسی آشنا کے ساتھ مل کر سسرال بھر کو زہر دے کر فرار ہو جاتی ہے۔
عورت ماں کے روپ میں بیٹی کو تو ”اگلے گھر جانا ہے“ کی ٹیپ روز سناتی ہے، گھر کے کام سکھانے سے لے کر سسرال والوں کی خدمت تک کے پاٹ پڑھاتی ہے مگر بیٹے کو تھوڑی سی انسانیت بھی سکھانے سے قاصر ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ کہتا ہے کہ مرد کو بس جنم دے کر سپیریٸریٹی کمپلیکس کا شکار کر دیا جاتا ہے۔ گھر میں گوشت بنا ہے، ”اچھی بوٹی بھاٸی کے لیے“ یہ مقولہ ماں کے روپ میں بیٹھی عورت کا ہی ہوتا ہے۔ بھاٸی نے بہن کو کھیلتے میں مار لیا، ”وہ بھاٸی ہے، وہ لڑکا ہے“ کی گردان یہی عورت سناتی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اس انڈر پراسیس مرد کے دماغ میں خناس بھرنے کے لٸے کافی ہوتی ہیں۔
شادی کے بعد ایک لڑکی کو سب سے زیادہ طعنے سسرال میں اکثر ساس اور نند کے روپ میں بیٹھی عورت سے ہی سننا پڑتے ہیں۔ شوہر سے زیادہ ”پہلا لڑکا ہو“ کی چاہ دادی کو ہوتی ہے۔ سارا سال گھر بھر کی خدمت کرنے والی اگر ایک دن بیمار ہو جاٸے اور شوہر چاٸے کا کپ بنا دے، ”رن مریدی“ کا لیبل یہی عورتیں لگاٸیں گی۔
معاشرے میں پھیلتے بےحیاٸی کے ناسور کی پرورش میں بہت سے عوامل کردار ادا کر رہے ہیں۔ نکاح جیسا جاٸز اور حلال بندھن لاکھوں کروڑوں کی گیم بن گیا ہے۔ جبکہ نمود و نماٸش کا شوق، برینڈز کا خبط اور دیگر چیزیں ”بواٸے فرینڈ، گرل فرینڈ“ کلچر کو پروموٹ کر کے جنسی تسکین کے راستے ہموار کر رہی ہیں۔ ان ڈاٸریکٹ نفس کی تسکین کے یہ ذریعے نوجوان نسل کو برباد کٸے دیتے ہیں۔
رہی سہی کسر ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیوز نامی ایپس نے پوری کر دی ہے۔ عورت جو چراغِ خانہ تھی شمعٕ محفل بننے کے درپے ہو گٸی ہے۔ پورن ساٸٹس تک تو شاید رسٹکرڈ رساٸی ہوتی ہو گی مگر یہ ”پورن ساٸٹس لایٹ“ چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں۔ کہیں نوے سالہ حاجی بابا اچھل رہے ہیں تو کہیں اسی سالہ نانی چھڑپے لگا رہی ہیں۔ کہیں چوسے ہوٸے آم کی گٹھلی جیسا نوجوان سٹار بن رہا ہے تو کہیں اپنی نسوانیت کے کھلے نظارے دینے والیاں آنے والی نسل کی رول ماڈلز بن رہی ہیں۔ چند لاٸیکس اور فالورز کی خاطر یا چند روپے کمانے کی خاطر ایسے ایسے بیہودہ مناظر فلماٸے جاتے ہیں کہ الاماں۔ ان ایپس نے اخلاقیات کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے۔
حال ہی میں ایک ایسا ہی واقعہ ہوا ہے کہ چودہ اگست کو ایک ٹک ٹاکر لڑکی جو اپنے ”دوستوں“ (نامحرم مرد حضرات) کے ساتھ ویڈیوز بنانے اور ”یومِ آزادی“ منانے گٸی تھی اس پر ”درندے“ پل پڑے اور اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ موصوفہ نے قبل ازیں اپنے وہاں آنے کی اطلاع دے دی کہ فینز حضرات وہاں آ جاٸیں۔ چودہ اگست کو ہونے والا سانحہ سترہ اگست کو واٸرل ہوا تو کہا گیا کہ لڑکی کے ساتھ چار سو افراد نے اجتماعی بدتمیزی کی ہے۔ ایک بار تو دل ٹھہر گیا کہ یہ سب کیا ہے؟ ویڈیوز دیکھیں، انٹرویوز سنے، مختلف آرإ پڑھیں اور پھر کچھ نتاٸج نکالے۔
ہماری قوم ہمیشہ کی جذباتی ہے۔ ہر سانحے یا واقعے پر ہم دو دھڑوں میں بٹ جاتے ہیں اور آپس میں دست و گریباں ہوتے رہتے ہیں۔ ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ:
لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوٸی۔
وہ غلط تھی تو بھی اس کے ساتھ غلط کیوں کیا؟
وہ مجمعے میں گھس ہی گٸی تھی تو بدتمیزی کیوں کی؟ (یعنی بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھایا تھا تو اس نے پتیلا کیوں چاٹا)
چار سو افراد کو سرِ عام پھانسی دی جاٸے۔
مغرب کی مثالیں بھی پیش کی جا رہی ہیں کہ وہاں ایک عورت ننگی بھی گھس جاٸے تو وہ آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ عورت کی مرضی کے خلاف اسے کوٸی نہیں چھو سکتا۔ وغیرہ وغیرہ۔
دوسرا دھڑا کہتا ہے;
کیا وہ واحد لڑکی تھی وہاں؟ اور کوٸی فیملی یا عورت نہیں تھی؟
وہ مرد اتنے ہی وحشی اور درندے تھے تو اس منہ زور ریلے نے کہیں اور رخ کیوں نہیں کیا؟ کہ وحشیوں کا تو کام ہی بلا تفریق و تمیز جو سامنے آٸے اسے بھنبھوڑ دینا ہوتا ہے۔
اس نے اطلاع دے کر اپنے فینز کو بلایا کہ جو آنا چاہے اور ویڈیوز، سیلفیز بنوانا چاہے آ سکتا ہے۔
کچھ ویڈیوز دکھاٸی گٸیں جس میں موصوفہ نامحرم مردوں یعنی درندوں کے لنگوٹیوں کے ساتھ فریش موڈ میں ہیں۔ بانہوں کے حلقے میں کھڑی مسکرا مسکرا کر ویڈیوز بنوا رہی ہیں۔ کیا سیلفیز اور ویڈیوز کے لیے اپنے جسم کو چھونا جاٸز قرار دے رکھا تھا؟
مجمعے کی طرف فلاٸنگ کسز اچھالنے کی باتیں اور مناظر بھی گردش میں ہیں۔
جن کے ساتھ گٸیں، وہ بھی نامحرم مرد تھے۔ گھر والے کہاں تھے؟ عورت کو ابھی آزادی نہیں نصیب کہ گھر والے ”دوستوں“ کے ساتھ کہیں بھی منہ اٹھا کے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔
تین دن تک خاموشی کس لیے تھی؟ اگلے دن نارمل ویڈیوز اور تصاویر اپلوڈ ہوٸیں۔
کیا یہ سب پری پلانڈ اور پبلسٹی کے لیے تھا کہ موصوفہ کے فالورز لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔
مجمعے میں کسی ایک نے بھی بڑھ کر مدد نہیں کی، کیوں نہیں کی؟ حالانکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ شرعی لحاظ سے کوٸی کسی پر تہمت و الزام لگاٸے خواہ مرد عورت پر یا عورت مرد پر، تو ثبوت و شواہد دیکھ کے باکردار گواہوں کی گواہی سن کر فیصلہ کیا جاٸے۔ لیکن اگر بازار میں عورت بس اتنا ہی کہہ دے مجھے فلاں نے چھیڑا ہے تو وہاں کھڑے دیگر ”درندے“ بنا تصدیق کیے اس شخص کی درگت بنا دیتے ہیں۔
انٹرویو میں مظلومہ مکمل میک اپ زدہ ہیں۔ کہیں سے سُتا ہوا چہرہ دکھ رہا ہے نہ نوچا ہوا۔
اس کے بعد ایک ویڈیو ”ایک نامحرم مرد“ درندوں کی قبیل سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ ہی بناٸی گٸی ہے جس میں مکمل میک اپ کیے، ڈریس اپ ہوٸے کہا گیا ہے میں نے کیا بگاڑا تھا؟ جبکہ ایسے سانحات تو حواس چھین لیتے ہیں کجا ایسے مطمٸن و فریش ہو کر ویڈیو پہ ویڈیو ڈالنا۔
وحشی درندوں کا مقصد، اس مجمعہ کا مقصد بس چھونا ہی تھا۔ (حیرت تو یہ ہے جب وہ خود ہنستے مسکراتے ہوٸے ہر ایک کے ساتھ سیلفیز بنوا رہی ہیں، ویڈیوز بنوا رہی ہیں، کسی نے بانہوں کے گھیرے میں لے رکھا ہے، چھونا اتنا آسان ہے تو یہ نوبت کیوں آٸی؟)
بار بار پاکستان پر الزام لگایا جا رہا ہے اور ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
یہ تو دونوں دھڑوں کا مٶقف ہے۔ اہلِ عقل و دانش بس یہی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ بھلا ایک عورت کیوں چاہے گی؟ وہ خود اپنی عزت داٶ پر کیوں لگاٸے گی؟ صدیوں پیچھے جاٸیں تو ہمسرِ عزیزِ مصر بھی ایک عورت تھی جس نے یوسف علیہ السلام کو مقفل کر کے بھی کہا تھا میں نے نہیں اس نے مجھے بہکایا تھا۔ اور معاملہ نبٹنے پر عزیزِ مصر کے الفاظ تھے کہ ”بیشک یہ تمہارا ہی مکر ہے اور تم عورتوں کا مکر بڑا مکر ہے۔“
سستی شہرت کمانے کے لیے مرد ہو یا عورت کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔ اس سب میں بیچارے شریف مرد ”نہ اِدھر کے، نہ اُدھر کے“ کی عملی تصویر بنے، ”بہن ہم شرمندہ ہیں“ کہتے ہلکان ہو رہے ہیں۔ احبابِ عقل و دانش کا کہنا ہے کہ وہ غلط تھی، اس نے غلط کیا تو بھی اس کے ساتھ غلط کرنے کی ہمت کیوں کی؟ مطلب اب اللّٰہ کے قوانین کو للکارا جاٸے گا؟ مطلب آپ اس کے احکامات سے بےخبر ہیں؟ مطلب آپ کو نہیں پتہ کے گندے گندوں کے لیے، خباٸث کے لیے خباٸث ہی ہیں۔ مطلب آپ آگاہ نہیں کہ شر کا نتیجہ خیر نہیں ہوتا؟ مطلب آپ نے کتے کو بٹہ مارا، آپ نے مار ہی لیا تو کم ظرف کتے کو پڑے اونگھتے رہنا چاہیٸے۔ وہ ناہنجار کاٹ کھانے کو کیوں دوڑا؟ ان حساس طبیعت احباب کے مطابق بلی نے سو چوہے کھاٸے ہیں تو بھی اسے بی حجن ہی کہا جاٸے۔ منطقی، حقیقی اور دلاٸل پہ مبنی بات کرو تو ”وکٹم اشیمنگ“ کہہ کر شرم دلاٸی جاتی ہے۔ جبکہ بہت سے مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں وکٹم قبل ازیں تھوڑی سی ”شیم“ کر لے تو ”اشیمنگ“ والی نوبت ہی نہ آٸے۔ مظلوم ہمیشہ مظلوم ہی ہوتا ہے کہاں لکھا؟ کون سی کتاب میں لکھا ہے؟ تحقیقات و تصدیق بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔ ایک طرف آپ کو ایک ”مظلوم“ کی غلطی کا علم بھی ہو پھر بھی آپ کہیں غلطی کی تو غلط کیوں ہوا؟ یہ مٶقف کیسا ہے؟ جو بونا ہے وہ تو کاٹنا ہے۔ جب میرا پاک خدا کہتا ہے کہ وہ رتی برابر ناانصافی نہیں کرتا، کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو وہ حق کہتا ہے۔
مغرب کی عریانی کی مثالیں دینے والوں کو مغربی بننا ہے؟ تو گویا آپ کو بھی چار چار بچے پیدا کر کے شادی کرنی ہے؟ آپ کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کلبس میں ایک ہاتھ میں سگار، ایک ہاتھ میں بیٸر کا گلاس پکڑ کے جھومنا ہے؟ وہ نٸی نسل کی لڑکیاں جو ایسی ”آزادی“، مغرب کی ”مثالی آزادی“ چاہتی ہیں اس دھوکے سے باہر آ جاٸیں۔ یار آپ کو اچھا نہیں لگتا جب آپ کہو کہ مجھے کہیں جانا ہے اور بھاٸی کہے، ”نہیں اکیلے نہیں جانا میں فری ہوں گا تو لے جاٶں گا۔“ آپ کو اچھا نہیں لگتا کہ آپ کو کوٸی چیز چاہیٸے اور باپ یا بھاٸی کہے، ”موسم نہیں ٹھیک، میں لا دیتا ہوں۔“ آپ کو واقعی اچھا نہیں لگتا جب آپ اپنی چیزیں اٹھانا چاہو اور باپ، بھاٸی، شوہر یا بیٹا کہے، “میں اٹھاتا ہوں۔“
یقین جانیں اگر آپ کے گھر والے آپ کو ”ٹک ٹاک“ اور دیگر خرافات کی اجازت دے سکتے ہیں تو اپنی انرجیز کو مثبت کاموں میں لگاٸیں کبھی نہیں روکیں گے۔ مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب دس ماہ پہلے میں نے سوچا تھا کہ مجھے اب باقاعدہ لکھنا چاہیٸے۔ میں نے پہلی اور آخری بار اپنے بھاٸی سے کہا تھا کہ ”مجھے لکھنا ہے۔“ اس نے کہا تھا ”لکھو!“ اور میں نے کہا تھا ”مجھے ایک سنک چاہیٸے۔ ایک سپورٹ چاہیٸے۔ فنانشل سپورٹ ہو یا نہ ہو، کوٸی اور سپورٹ ہو یا نہ ہو ایک احساس چاہیٸے کہ میری بیک پہ کوٸی ہے۔ میں جب بھی مڑ کر دیکھوں پشت خالی نہ لگے۔ بس یہی احساس چاہیٸے کہ اس راستے میں کوٸی میس بھی آٸے تو کوٸی سمیٹ لے گا۔“ وہ دن ہے اور آج کا دن۔ بھاٸی سے ایک بار وہ احساس مانگا تھا ہمیشہ وہ احساس میرے ساتھ رہا ہے۔ اس نے کہا تھا کہ ”تمہیں جو کرنا ہے کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جہاں، جس پلیٹ فارم پر جانا ہے میں لے کر جاٶں گا۔ بس میرا یقین قاٸم رکھنا۔“ اور وہ ہماری نیم کنزرویٹو فیملی میں کبھی اپنے لیے، اپنے حق کے لیے بولے نہ بولے میری خاطر والدین سے بحث کر لیتا ہے۔ جھگڑنا پڑے تو میرا سب سے بڑا وکیل بن جاتا ہے۔ یار آپ کیسی لڑکیاں ہو؟ آپ کو ایسا کوٸی وکیل نہیں چاہیٸے جو آپ کے لیے سالوں صدیوں کے رواج بھی توڑنے سے گریز نہ کرے؟ آپ کو ایسا کوٸی احساس نہیں چاہیٸے؟ ایک بار اپنے گھر کے مردوں کو مان دے کر دیکھو، اپنی مثبت صلاحیتوں پر دلیل سے یقین دلاٶ آپ کا ہاتھ پکڑ کے لے کے جاٸیں گے منزل تک۔ اصل آزادی تو یہی ہے نا کہ اپنے حصے کی آدھی پونی ذمے داریاں کسی اور کے شانوں پر ڈال کر خود آزاد ہو جانا نہ کہ وہ ذمہ داریاں بھی اپنے سر لے لینا جو دوسروں کے ذمے ہیں۔
ماٸیں بیٹوں کو زندگی کے سبق سکھانے کے ساتھ ساتھ بیٹوں کو بھی انسانیت کا درس دینا شروع کر دیں۔ بہنیں بھاٸیوں کے ضمیر جگاتی رہیں۔ مرد حضرات بھی عورت کو اس کے اصل مقام پر رکھ کے عزت دیں۔ وہ سب حقوق دیں جو آپ پر فرض ہیں۔ گھر کے دروازے بلند رکھیں، مگر اتنے سخت بھی نہ ہوں کہ آنگنوں میں چور دراوزے ڈھونڈنے کی خواہشیں جنم لینے لگیں۔ جیسے ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہوتا ہے یونہی ایک کامیاب عورت کے پیچھے بھی ایک مرد کا ہوتا ہے۔ اپنی عورتوں کو سمجھیں۔ عورت تو باتوں سے ہی بہل جانے والی مخلوق ہے کہ اس میں نرمی ہی اتنی رکھی گٸی ہے۔ اپنی عورتوں سے اچھے سے بات کر لیا کریں اس سے پہلے کہ وہ کسی اور کی باتوں میں آ جاٸیں۔ کامیاب مرد وہ نہیں ہوتا جس کے پاس دولت ہے، اچھی نوکری ہے۔ کامیاب مرد مضبوط اخلاق کا مالک ہوتا ہے جو اپنی عورتوں کی ڈھال اور ان کا ہیرو ہے۔ ایسے ہی کامیاب عورت ایسی عورت ہوتی ہے کہ اسے دیکھتے ہی سب کے دل تقدس کے بوجھ سے سجدہ ریز ہو جاٸیں۔
آٸیں! ایک کام کریں! آج ہی سب ایک چیلنج لگا لیں۔ ہر کوٸی اپنے گھر میں شرط لگا لے۔ ایک دوسرے کو ثابت کرنے کا چیلنج لگا لیں کہ مرد زیادہ اچھے ہیں۔ نہیں عورتیں زیادہ اچھی ہوتی ہیں۔ اسی چیلنج کو پورا کرنے کے لیے اچھے بنتے جاٸیں، اچھا کرتے جاٸیں۔ یونہی زندگی گزر جاٸے گی۔ معاشرہ جنت نظیر ہو جاٸے گا۔ اگر کوٸی سوچتا ہے کہ سب عورتیں اچھی ہو جاٸیں مرد ویسے کے ویسے ہی رہیں یا سب مرد اچھے ہو جاٸیں عورت چاہے ننگی چلتی پھرے تو یہ بچگانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ دونوں فریقین کو اپنی اپنی حدود سمجھنا ہوں گی۔
حالیہ واقعے کی پیشِ نظر ٹک ٹاک، سنیک ویڈیوز جیسی ایپس (جو جمعے کے جمعے مدنی چینل بن جاتی ہیں) جو بےحیاٸی کے اڈے ہیں، بند کر دی جاٸیں۔
حالیہ واقعہ کی تحقیقات ہوں اور جو مجرم ہیں کڑی سے کڑی سزا دی جاٸے۔ ایسی قانون سازی ہو کہ آٸندہ کچھ ایسا سوچتے، کرتے سب کی روح کانپ جاٸے۔ اگر یہ پلانڈ تھا تو اس ڈرامے کے ”سکرپٹ راٸٹر“ سے لے کر ”سپورٹنگ ایکٹرز“ تک سب کو کڑی سے کڑی سزا دی جاٸے۔ چار سو مردوں کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کو بھی سزا دی جاٸے جس نے نسوانی کارڈ کھیلنے کا سوچا، اگر وہ خود اس سب میں شامل ہے تو!
ایک آخری بات کہ ”پاکستان میں کوٸی محفوظ نہیں“، کہنے والوں سے ایک سوال ہے کہ پاکستان کیا ہے؟ ایک بےجان خطہٕ زمین کا نام پاکستان ہے نا؟ اس میں بسنے والے ہی اسے ”پاکستان“ بناتے ہیں۔ قوم افراد کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ہر ایک انفرادی سطح پر خود کو ٹھیک کر لے تو سب ٹھیک ہو جاٸے گا۔ مگر ہم سب گفتار کے غازی ہیں کردار کے نہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہمیں مشقت نہ کرنی پڑے باقی سے ٹھیک ہو جاٸیں۔
اللّٰہ پاک ہم سب کو حق سچ کہنے سننے کی توفیق عطا کرے۔ مالکِ کُل بنتِ نبی رسول ﷺ کے صدقے ہر عورت کی چادرِ عفت و عصمت کو محفوظ رکھے۔ خدا سب کی عزتوں کی حفاظت کرے۔ آمین!
از قلم: ماہم حیا صفدر
8,888 total views, 3 views today
























Leave a Reply