اگر یہ تزئین و آرائش والی خبر غلط ہے تو میں معذرت کرتاہوں ارشاد بھٹی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نوٹس موصول ہو چکا ہے جس میں انہیں کل لاہور میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیف سیکریٹری کے گھر کی تزئین و آرائش کی خبر میری اپنی تحقیقاتی رپورٹ نہیں تھی بلکہ پبلک ٹی وی کی تھی جو میں نے اسی طرح بیان کی ، اگر یہ تزئین و آرائش نہیں ہوئی تو میں معذرت خواہ ہوں۔
صحافی ارشاد بھٹی نے اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خبر پنجاب میں مبینہ شاہ خرچیوں، مہنگائی اور دیگر معاملات سے متعلق تھی، تاہم اس میں ایک نکتے پر تنازع پیدا ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف سیکریٹری پنجاب کی رہائش گاہ کے لان پر 22 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انہیں اس خبر کا دو روز بعد علم ہوا اور پھر انہوں نے متعلقہ صحافی کے نام کے ساتھ اسے من و عن اپنے وی لاگ میں پیش کیا۔
ارشاد بھٹی نے کہا کہ بعد ازاں انہوں نے اپنے وی لاگ اور سوشل میڈیا پیغام میں واضح کیا تھا کہ اگر پنجاب حکومت سمجھتی ہے کہ خبر میں شامل کوئی نکتہ غلط ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، وہ اسے درست کر دیں گے۔سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ ان کی چیف سیکریٹری پنجاب سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی ذاتی اختلاف یا دشمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری ان کے لیے قابل احترام شخصیت ہیں اور اگر خبر میں تزئین و آرائش یا لان کی تعمیر سے متعلق معلومات غلط ہیں تو وہ بلا جھجھک معذرت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ ٹی وی چینل بھی اپنی خبر سے دستبردار ہو جاتا ہے تو وہ ایک بار پھر معذرت کریں گے۔ ان کے بقول، ’’اگر کسی خبر میں کوئی غلطی ہو جائے تو معذرت کرنے سے قد چھوٹا نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی جب مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے معذرت کی اور ہر غلطی سے سیکھنے کی کوشش کی۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ وہ پیکا قانون، جرمانے یا جیل سے خوفزدہ نہیں ہیں، تاہم اگر ان کی وجہ سے کسی فرد کی ساکھ متاثر ہوئی ہے تو وہ اس پر افسوس اور معذرت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیف سیکریٹری کی رہائش گاہ پر لان کی تعمیر سے متعلق خبر غلط ثابت ہوتی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں نوٹس موصول ہو چکا ہے، اس لیے وہ متعلقہ ادارے کے سامنے پیش ہوں گے اور اپنا مؤقف بیان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کے شعبے میں کام کرنے والوں کو تنقید کا سامنا رہتا ہے اور جن افراد یا اداروں پر تنقید کی جاتی ہے وہ بھی غلطی کی تلاش میں ہوتے ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ عوامی مسائل پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور جہاں غلطی ہوگی وہاں معذرت کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

399 total views, 9 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *