انٹرویو مہرالنساء
آج ہم جس شخصیت کا انٹرویو اپنے قارئین کے لیے لائیں ہیں آپ بہت اچھی کالم نگار اور افسانہ نگار ہیں میری مراد محترمہ مہرالنساء صاحبہ سے ہے آئیں ان سے بات کا آغاز کرتے ہیں
اسلام علیکم کیسی ہیں آپ ؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! الحمدللہ ،کرم ہے اس پروردگار کا جس نے اس دنیا میں کسی کو بے مقصد نہیں بھیجا
سب سے پہلے یہ بتائیں آپ نے باقاعدہ طور پر لکھنا کب شروع کیا؟
ج: مجھے یاد ہے کہ نے میں نے پانچویں جماعت میں ایک ہفت روزہ رسالے میں خط لکھا تھاوہ خط خوش قسمتی سے چھپ بھی گیا اس سے حوصلہ افزائی ہوئی تو وقتاً فوقتاً ایکسپریس میگزین یا اخبار جہاں کو خط لکھتی رہی ۔ خود باقاعدہ دسویں جماعت سے لکھنا شروع کیا ۔
آپ کا زمانہ طالب علمی کیسا تھا ؟
ج: زمانہ طالبعلمی بہت شاندار اور یاد گار ہے ۔ گھر میں چونکہ ٹیلی ویژن نہیں تھا ۔ فارغ وقت میں عمرو عیار اور دیگر کہانیاں پڑھیں ۔ اگر بطور طالبعلم اپنا بتاؤں تو اساتذہ کا جو احترام مقام اب ہے پہلے بھی ایسے ہی تھا اور مستقبل میں بھی ایسے ہی رہے گا ۔ آ ج میں جو کچھ بھی ہوں اپنے ان اساتذہ کرام کی وجہ سے ہی ہوں ۔
اس ادبی سفر میں گھر والوں کی کتنی سپورٹ حاصل رہی ؟
ج: پہلے پہل والدہ کی طرف سے تھوڑی بہت مخالفت ہوئی ۔ بلخصوص جب لکھنے والوں پر بھی پابندیاں لگیں یا کچھ سخت وقت آ یا مگر میرے بہن بھائیوں والد اور بہت سے احباب نے میری حوصلہ افزائی کی تو اس سفر کو بیچ راستے میں نہیں چھوڑا
اگر آج آپ افسانہ نگار نا ہوتی تو کیا ہوتی ؟
ج: میں اگر افسانہ نگار ، یا لکھاری نہ ہوتی تو یقیناً ایک سائیکالوجسٹ ہوتی
پسندیدہ افسانہ نگار کونسا ہے؟
میرے پسندیدہ افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور غلام عباس ،احمد ندیم قاسمی ،پریم چند اور اشفاق احمد ہیں۔
پسندیدہ افسانہ کونسا ہے؟
سعادت حسن منٹو کا نیا قانون اور انتظار حسین کا زرد کتا دونوں بہتریں افسانے ہیں
کیا پاکستان میں ادب پر کام ہو رہا ہے ؟
ج: پاکستان میں ادب پر دو طرح سے کام ہورہا ہے
سنجیدہ بھی اور غیر سنجیدہ بھی
سنجیدہ کم کرنے والے بہت کم مگر مستقل مزاج ہیں ۔ مگر غیر سنجیدہ لوگ کو چند روزہ جوش ہوتا پھر آ ہستہ آ ہستہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے ۔
ادب میں ہمیشہ سے گروہ بندی کا رجحان رہا ہے کیا آپ کو بھی گروہ بندی کا سامنا ہوا
ج: جی کچھ خواتین لکھاریوں کی جانب سے گروہ بندی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایک لکھاری کو اعلی ظرف ہونا چاہیے اور گروہ بندی کی طرف نہیں جانا چاہیے
کیا افسانہ نگاری سے بھی ہمارے معاشرے کو بہتر کیا جا سکتا ہے ؟
جی بلکل ۔ آ ج کل کے مصروف ترین دور میں افسانہ اپنے ختصار کی وجہ سے معاشرے کو بہت سے اخلاقی ، نفسیاتی اور دیگر معاشرتی سبق دے سکتا ہے۔
افسانہ نگاری میں کس موضوع پر لکھنا پسند کرتی ہیں ؟
افسانہ نگاری میں اخلاقی اور نفسیاتی اور جذباتی پہلو پر لکھنا پسند کرتی ہوں۔
آپ کو آپ کی پسندیدہ کیسی ایک شخصیت پر لکھنا کا موقع ملے تو کس پر لکھے گی ؟
ج: دو شخصیات پہلی سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
ان دونوں شخصیات پر لکھنا میری خوش قسمتی ہوگی
آپ افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتی ہیں کالم نگاری مشکل ہے یا افسانہ نگاری
ج: کالم نگاری کچھ مشقت طلب کام ہے کیونکہ کسی بھی موضوع پہ لکھنا ہے تو پہلے اس پر ضروری تحقیق کرنی پڑتی ہے ۔
ایک اچھا کالم لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے
ج: ایک چھا کالم لکھنے کےلیے غیر جانبدارانہ تجزیہ ور علم و فہم کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔
کیا پاکستان میں لکھاریوں کا مستقبل روشن ہے؟
ج: امید واثق ہے کہ اگر سنجیدگی سے اس پہلو پہ کام کیا گی تو ان شاءاللہ پاکستان میں لکھاریوں کا مستقبل روشن ہوگا ۔ پاکستان کے ڈرامے بہت سے ممالک میں دیکھے جارہے ہیں ۔ وہ بھی تو لکھاریوں کی کاوش اور عمدہ کہانی ہی ہوتی ہے ۔
اپووا تنظیم کے ساتھ آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
ج:اپووا ایک بہترین اور منظم
تنظیم ہے ۔ جو ابتدائی لکھاریوں سے لیکر تمام منجھے ہوئے لکھاریوں تک سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے .تمام نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ۔
آپ اپووا میں کیا خدمات سر انجام دے رہی ہیں ؟
ج: میں اپووا میں سوشل میڈیا کوآرڈینیٹر کے عہدے پر خدمات سر انجام دے رہی ہوں
اپووا کے ساتھ کام کر کے کیسا محسوس کرتی ہیں ؟
ج: مجھے اپووا تنظیم کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا ۔یہ ایک سنجیدہ تنظیم ہےجو برسوں سے ادب کی اشاعت و ترویج کےلیے کوشاں ہے
کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نا ہوئی ہو ؟
ج: ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ایسے تو بہت سی خواہشات ہیں مگر اللّٰہ کے گھر۔ حاضری دینے کی خواہش جو 2025 میں کچھ ناگہانی وجوہات کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی ان شاءاللہ جلد پوری ہوجائے گی
زندگی کا کوئی ایسا واقع جس سے سبق ملا ہو ؟
ج: زندگی نام ہی سبق کا ہے ۔ ہر لمحہ ہر دن کوئی نہ کوئی سبق دے کے ہی جاتے ہیں اور جو سبق زندگی دیتی وہ تو کسی نصاب میں بھی نہیں پڑھائے گئے
قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی ؟
ج: آ نے والی نسلوں کے دلوں میں مطالعہ کتب کا ذوق شوق پیدا کریں ۔کوئی بھی کتاب بے کار نہیں ہر کتاب کوئی نہ کوئی سبق ضرور سکھاتی ہے ۔
1,700 total views, 6 views today
























Leave a Reply