سردیوں کی چھٹیوں کے قہقہے

چونکہ آج کل بچوں کی چھٹیاں ہیں، اس لیے صبح خاصی لیٹ ہو جاتی ہے۔ فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ایک اور شفٹ سونے کی لگ جاتی ہے۔ اسی شفٹ میں سوتے ہوئے آج خاصی دیر ہو گئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ کافی وقت نکل چکا تھا۔
جلدی جلدی کچن میں گئی، چولہے پر چائے چڑھائی، ساتھ ہی آٹا نکالا اور ڈبل روٹی بھی باہر رکھ لی۔ چولہا تیز تھا، اس لیے چائے جلد ہی اُبلنے لگی۔ ایک ہاتھ سے ڈبل روٹی سیک رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بے دھیانی میں چینی کا ڈبہ کھولا اور ایک چمچ چینی چائے میں ڈال دی۔
چمچ ڈالنے کے بعد فوراً احساس ہوا کہ میں نے غلط ڈبہ پکڑ لیا ہے۔ جب غور سے دیکھا تو وہ چینی نہیں بلکہ نمک تھا 🤔🧐
اب کیا کروں!
سب سے پہلے خود کو خوب کوسا کہ کس قدر بدحواسی میں ناشتہ بنا رہی ہوں اور پھر سے دیر سے اٹھنے کو برا بھلا کہا
مگر اب جو ہو چکا تھا، اسے کون بدل سکتا تھا۔ نمک والی چائے آخر کون پیے؟
سالن میں تو نمک اور مرچ کم زیادہ کی جا سکتی ہے، مگر یہاں مسئلہ چائے کا تھا۔ نانی دادی کے سارے ٹوٹکے ذہن میں دوڑا لیے،
مگر کوئی کارگر حل ہاتھ نہ آیا۔ یو ٹیوب باجی کو چھیڑتی تو وقت اور ضائع ہو جاتا، اور میں ریل دیکھتے ہوئے کہاں سے کہاں نکل جاتی۔
آخرکار بچوں سے کہا: “جلدی اٹھ جاؤ، میں گرم گرم پپراٹھے بنا رہی ہوں۔
آج ہم سب چائے کے ساتھ پراٹھے کھائیں گے کہ اس طرح نمک والی چائے چل جائے گی

بھئی، رزق ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
آخر ڈیڑھ کلو خالص دودھ کا سوال تھا، بابا!

لیکن کہاں بھئی
چائے منہ میں جاتے ہی بڑا بیٹا چلا اٹھے
ممی ہم سے تنگ آگئی ہیں کیا جو چائے میں زیر ڈال دیا ہے 🙄🧐

ہاں بھائی ماما کہہ رہی تھی تنگ والی بات
مطلب ماما کا پورا پلان ہے ۔۔۔ سکیورٹی پروف۔۔۔
بیٹی نے چائے منہ سے لگائے بنا سی آئی ڈی بننے کی کوشش کی
لے دس ۔۔۔۔ یہ ہمارے دور کے بچے تھوڑی ہیں
جو سورج مکھی کے بیج کو چلغوزہ سمجھ کر باخوشی کھا جائیں ۔
میں اپنا سا منہ لیے نئی چائے بنانے چلی گئی

#سلمی کشم

228 total views, 3 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *