یوکرین کے پاور پلانٹس کو امریکہ چلا سکتا ہے، ٹرمپ کی تجویز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کے ایک دن بعد یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل فون کال کو ’بہت اچھا` قرار دیا ہے۔
دوسری جانب صدرزیلنسکی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی قیادت میں اس سال دیرپا امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یوکرین کے جوہری بجلی گھروں پر ممکنہ امریکی ملکیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا
تاہم زیلنسکی نے بعد میں کہا کہ یہ صرف روس کے زیر انتظام زاپوریزیہ تنصیب کے بارے میں تھا۔
ایک تفصیلی بیان میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے یوکرین کو اضافی فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے میں مدد دینے پر اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’میدان جنگ کی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے دفاعی عملے کے درمیان قریبی معلومات کا تبادلہ کرنے پر اتفاق کیا۔‘
روبیو کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور زیلنسکی نے ٹرمپ کے ساتھ ’یوکرین کو بجلی کی فراہمی اور جوہری بجلی گھروں‘ پر تبادلہ خیال کیا تھا اور کہا تھا کہ ’امریکہ اپنی بجلی اور افادیت کی مہارت کے ساتھ ان پلانٹس کو چلانے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پلانٹس کی امریکی ملکیت اس بنیادی ڈھانچے کے لیے بہترین تحفظ اور یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی مدد ہوگی۔
پوتن نے منگل کو امریکی صدر کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
ادھر ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے دوران زیلنسکی نے کہا کہ وہ جزوی جنگ بندی کے لیے تیار ہیں جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ریل اور بندرگاہوں کی تنصیبات پر حملوں کو روکنا شامل ہے-
لیکن یوکرین کے صدر نے متنبہ کیا کہ اگر ماسکو نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تو ان کا ملک بھی جوابی کارروائی کرے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس کال کا مقصد یوکرین اور روس کو ان کی درخواستوں اور ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے.
306 total views, 6 views today
























Leave a Reply