جناب! بدلیں خود کو
دنیا ایک آئینہ ہے ۔۔۔ جناب! جو شکل بنائیں گے، وہی نظر آئے گی نا ۔۔۔ اگر مسکرا کر دیکھیں گے تو آئینہ بھی دانت نکال دے گا اور اگر تیوری چڑھا لیں گے تو وہ بھی بگڑ کر دکھائے گا۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں، دنیا ہمیں پھولوں کے ہار پہنائے جبکہ ہم خود کانٹوں کے باغیچے لیے گھومتے ہیں۔
ہماری توقعات کا عالم یہ ہے کہ ہم خود کسی کا حال بھی نہ پوچھیں مگر دوسرے اگر ہماری خیریت دریافت نہ کریں تو فوراً دل میں فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ “بس جی! یہ زمانہ ہی بدل گیا ہے، اب تو کسی کو کسی کی پروا ہی نہیں” اور اگر کسی نے ہم سے اچھے اخلاق کی امید رکھ لی، تو ہم فوراً کندھے اچکا کر کہتے ہیں “میاں! ہم تو بس اپنی اصل میں رہتے ہیں، بناوٹ ہم سے نہیں ہوتی ۔۔۔”
لو ۔۔۔ کر لو بات ۔۔۔ یعنی دوسروں کو فرشتے ہونا چاہیے اور ہم جوں کے توں رہیں تو بھی سب ہمیں سر آنکھوں پر بٹھائیں ۔۔۔
صدقے ۔۔۔ صدقے ۔۔۔ عجب خواہش ۔۔۔
لوگ دنیا کو بدلنے کا شوق رکھتے ہیں، مگر اپنی ذات میں جھانکنا ان کے لیے ایسے ہی ہے جیسے دالان کے آئینے میں بھوت دیکھ لینا ۔۔۔ خود کو بدلنے کے بجائے دوسروں کے گریبان میں جھانکنا آج کل قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ اگر کسی کے رویے میں ذرا سی سختی محسوس ہو جائے تو فوراً کہہ دیتے ہیں “بڑا بدتمیز بندہ ہے۔” مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ شاید ہمارے اپنے برتاؤ میں بھی کچھ کمی ہو۔
یہ جو “بدلیں خود کو” کا فلسفہ ہے، یہ کوئی کتابی بات نہیں ۔۔۔ بلکہ حقیقت میں زندگی بدلنے کا نسخہ ہے۔ میاں! جس دن ہم نے خود کو بدل لیا نا ۔۔۔ اس دن ہمیں دنیا بھی بدلی ہوئی محسوس ہوگی۔
کسی نے سچ کہا ہے: “دنیا کو برا کہنے والے پہلے خود کو سدھار لیں، کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا آپ کی اپنی عکاسی ہی تو کرتی ہے ۔۔۔”
مگر یاد رکھیے! تبدیلی راتوں رات نہیں آتی، بلکہ وقت لگتا ہے۔۔۔
لکھاری
ثمر عباس لنگاہ
23,991 total views, 3 views today
























Leave a Reply