جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بازیاب ہونے والے مسافر: ’ان کے لیڈر نے کہا سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں‘
ایک مال بردار ریل گاڑی رات کے گیارہ بجے سست رفتاری سے پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ رینگ رہی ہے اور اس پر سوار اکثر مسافر یا تو کھڑے ہیں یا پھر تھکن سے چور فرش پر ہی سہمے بیٹھے ہیں۔
یہ غیرمعمولی منظر بلوچستان کے شہر مچھ کے ریلوے سٹیشن کا ہے اور اس مال بردار گاڑی میں سوار افراد گذشتہ نو گھنٹوں کی کہانی شاید کبھی نہ بھلا سکیں۔
اس مال گاڑی پر وہ لگ بھگ 80 خوش نصیب سوار ہیں جنھیں منگل کو دوپہر جعفر ایکسپریس پر درۂ بولان کے علاقے ڈھاڈر میں مسلح شدت پسندوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
نو بوگیوں پر مشتمل کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو جب منگل کو دوپہر ایک سے دو بجے کے درمیان حملے کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت ریل گاڑی میں 400 سے زیادہ مسافر سوار تھے۔
مشتاق محمد جو حملے کا نشانہ بننے والی جعفر ایکسپریس کی بوگی نمبر تین میں موجود تھے نے اس ٹرین حملے کے بارے میں بی بی سی کو مچھ سٹیشن پہنچ کرتفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’حملے کا آغاز ’ایک بہت بڑے دھماکے‘ سے ہوا۔‘
اسی ٹرین کی بوگی نمبر سات میں موجود اسحاق نور اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ کوئٹہ سے راولپنڈی جا رہے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ٹرین کی کھڑکیاں اور دروازے ہل کر رہ گئے اور میرا ایک بچہ جو کہ میرے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا نیچے گر گیا۔
مشتاق محمد کے مطابق ’اس کے بعد فائرنگ شرو ع ہو گئی۔ فائرنگ ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ اس فائرنگ کے دوران ایسا منظر تھا جو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔‘
ادھر فائرنگ اور گولیاں کوچز پر لگتے دیکھ کر اسحاق نور نے اپنے ایک بچے کو جبکہ ان کی اہلیہ نے ان کے دوسرے بچے کو اپنے نیچے کر لیا تاکہ ’اگر گولی لگے تو ہمیں لگے اور بچے بچ جائیں۔‘
اسحاق کے مطابق ‘فائرنگ کا سلسلہ شاید پچاس منٹ تک رہا ہو گا۔۔۔ اس دوران ہم لوگ سانس بھی نہیں لے رہے تھے کہ پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔‘
مشتاق محمد بتاتے ہیں کہ ’پھر آہستہ آہستہ فائرنگ رکی اور اس کے بعد مسلح افراد بوگیوں میں داخل ہوئےمشتاق محمد نے بھی مزید بتایا کہ ’یہ لوگ (حملہ آور) آپس میں بلوچی میں بات کر رہے تھے اور ان کا لیڈر انھیں بار بار کہہ رہا تھا کہ ’سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں۔‘
اسحاق نور بتاتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے کہ ہماری بوگی سے انھوں نے کم از کم 11 مسافروں کو نیچے اتارا اور کہا کہ یہ سکیورٹی اہلکار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر ایک شخص نے کچھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو اس کو تشدد کر کے نیچے اتارا گیا اور پھر گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ اس کے بعد بوگی میں موجود تمام لوگ ان کی ہدایات پر عمل کرتے رہے۔‘
اسحاق نورنے بتایا کہ شام کے وقت حملہ آوروں نے مسافروں سے کہا کہ ہم بلوچوں، عورتوں، بچوں اور بزرگ مسافروں کو رہا کررہے ہیں۔ وہ مجھے نہیں چھوڑ رہے تھے مگر جب میں نے ان کو بتایا کہ میں تربت کا رہائشی ہوں اور میرے ساتھ بچے اور خاتون ہیں تو انھوں نے مجھے بھی جانے دیا۔
کوئٹہ سے لاہور اپنے عزیزوں کے ہاں جانے کے لیے منگل کی صبح محمد اشرف جعفر ایکسپریس میں سوار ہوئے تھے۔
یہ وہی محمد اشرف ہیں جن کے بیٹے منگل کی سہ پہر کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر اپنے والد کی خیریت کے حوالے سے معلومات ڈھونڈنے پہنچے تھے اور اس دوران ہمارے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کی تھی۔
محمد اشرف نے پہلے مچھ سے فون پر اور پھر کوئٹہ ریلوے سٹیشن میں براہ راست بی بی سی سے بات کی اور حملے کی جگہ سے پنیر سٹیشن تک کے سفر کے بارے میں بتایا۔
محمد اشرف کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے بزرگوں، عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو جانے دیا گیا اور پھر ان کا پنیر سٹیشن کا طویل پیدل سفر شام کے وقت شروع ہوا۔
انھوں نے کہا کہ ’پنیر سٹیشن تک ہم تین سے ساڑھے تین گھنٹے میں بہت مشکل سے پہنچے، کیونکہ تھکاوٹ بھی تھی اور ساتھ بچے، جوان بچیاں، خواتین بھی تھیں۔
366 total views, 3 views today
























Leave a Reply