بے حس لوگ
“بے حس لوگ”
کتنی عجیب بات ہے نہ کہ جو لوگ ہمیں تکلیف دکھ درد ذہنی اذیت دیتے ہیں، وہ خود کو کبھی ظالم نہیں سمجھتے۔
بلکہ وہ اپنے ہر رویے کا ایسا جواز گھڑ لیتے ہیں جس سے ثابت ہو کہ قصور ہمارا ہی تھا۔ وہ اپنے برے سلوک کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسی کہانیاں بنا لیتے ہیں جو انہیں مظلوم اور ہمیں قصوروار ثابت کریں۔
وہ وہ ہماری اذیت کو ہمارے درد کو نہیں دیکھتے وہ تمہاری اذیت سے بھری ہوئی خاموش چیخیں نہیں سنتے
تمہاری اذیت تمہارا کرب تمہاری تکلیف تمہارا رونا نہیں دیکھتے، ان کی نظروں میں یہ سب ایک ڈرامہ ہوتا ہے ان کا درد ہے ان کی تکلیف ہی بس تکلیف اور درد ہوتا ہے ہماری درد کر یا اذیت کو وہ ایک ڈرامہ سمجھتے ہیں ظلم بھی خود کرتے ہیں اور پھر زیادتی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں
ظلم کرنے والے کا یہی سب سے بڑا ہنر ہے—وہ تمہیں توڑ کر بھی خود کو بے قصور ثابت کر لیتا ہے،
تمہیں ہی بے رحم قرار دے دیتا ہے۔ یہی کھیل بار بار دہراتا ہے
ایسے لوگ کاش دوسروں کے جذبات سے کھیلنا بند کردیں اور کسی کو توڑنا بند کردیں کیونکہ ایک وقت میں ایک انسان اندر سے ٹوٹتا ہے واویلا کرتا ہے اور دوسرا اسے محسوس ہی نہیں کرتا یہی سب سے بڑی بے حسی ہے۔
لکھاریہ
زاہدہ پروین سحر
22,766 total views, 6 views today
























Leave a Reply