السلام علیکم معزز قارئین!
میزبان رشنااختر حاضر ہے ایک نئے زبردست انٹرویو کے ساتھ
ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں محترمہ ثوبیہ راجپوت صاحبہ تو چلیئے بغیر وقت ضائع کیے گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام!
میں ٹھیک ہوں ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام ثوبیہ راجپوت ہے میں اردو اور پنجابی کی شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ کالمسٹ تجزیہ نگار تبصرہ نگار افسانہ نگار اور صحافی ہوں ۔ کاروانِ قلم رائٹر فورم پاکستان کے نام سے ایک ادبی تنظیم کی بانی و صدر ,کاروانِ قلم میگزین کے نام سے میگزین کی سرپرست اعلی بھی ہوں ۔

*پسندیدہ ادبی شخصیات کون سی ہیں جنہیں زیادہ پڑھتی ہیں ؟

احمدندیم قاسمی اور حسن سعادت منٹو

*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

شعری اور تنقیدی نشستوں کا زیادہ سے زیادہ انعقاد کروانا، ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو کتابوں کی طرف راغب کروانے کے لیے زیادہ سے زیادہ لائبریریوں کا بننا۔ سکولوں کالجوں میں نثری اور شعری مقابلوں کا انعقاد۔ اپنے گھروں میں چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کا بنانا۔ کیفےٹیریا ریسٹورنٹ، حتٰی کہ سفر کے دوران اخبارات اور میگزین کا موجود ہونا۔۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتی ہیں ؟

فرصت کے لمحات میں کتابیں پڑھنے لکھنے شعروشاعری لکھنے سننے، میوزک سننے کے بعد اگر وقت بچ جاۓ تو باغبانی کرکے اپنا وقت گزارنا پسند ہے

*زندگی کا دیا ہوا کوئی ایک سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

زندگی کے گزرتے ہوئے لمحے اور پل ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور دے کر جاتے ہیں میں تو گزرتے ہوئے ہر لمحے سے کچھ نہ کچھ ضرور کشید کر لیتی ہوں ۔

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے؟

گزرے اور موجودہ معاشرے میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے تھے اور پائے جاتے ہیں یہ تو انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کی محفل میں بیٹھتا ہے ہم جس طرح کے لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیھٹتے ہیں ہمیں اسی طرح کا معاشرہ ملے گا میں نے تو ابھی تک معاشرے کی بہت ہی خوبصورت تصویر دیکھی ہے۔۔۔اور بعض دفعہ ہماری قسمت میں کچھ اس طرح کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں جو کہ ہماری زندگی کی دلکشی کو ماند کر دیتے ہیں میری زندگی میں بھی چند ایک اس طرح کے لوگ شامل ہوئے لیکن میں نے جلد ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی زندگی کو پرسکون کر لیا میں جب دیکھتی ہوں کہ جن لوگوں کے ساتھ میری ذہنی ہم آہنگی نہیں ہو پا رہی اور مجھے ذہنی سکون نہیں مل پا رہا تو میں خاموشی سے ایسے لوگوں سے علیحدہ ہو جاتی ہوں۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟

افسانوی مجموعہ وجودِشب

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکی ہیں ؟

مجھے جن تنظیموں سے انعامات ملے ہیں ۔ ان تنظیموں میں سرِ فہرست
آل پاکستان رائیٹرز ویلفئیر ایسوسی ایشن (اپووا) لاہور سے ادبی خدمات پر ایوارڈ ، میڈلز ، شیلڈز اور سرٹیفکیٹ مِل چکے ہیں ۔ انکے علاؤہ ، پہچان پاکستان ، بزمِ عرفانِ سخن ،کرائیڈن اکیڈمی ، پنجابی ادبی تنظیم سوچاں دی مہکار ، پروفیسر اصغر سودائی میموریل ایوارڈ ، اپووا خواتین ایوارڈ ، یحٰیی ایوارڈ ، محترمہ فاطمہ جناح ایوارڈ ، ایوارڈ براۓ اظہارِ تشکراپووا ، پاکستان لٹریری فورم ایوارڈ ، ویلفیئر سوسائٹیز ایوارڈ(شامِ سخن) ، اپووا خواتین کانفرنس 2023 ایوارڈ ، سانجھ پنجابی بیٹھک ایوارڈ ، دیا ویلفئیر سوسائٹی ایورڈ (دیا ایواڈ) ، پہچان پاکستان ایوارڈ ، آل پاکستان رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن ایورڈ 2024ء ، انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پاکستان (لاہور آرٹ کونسل) سے پرسنلی آف دی منتھ کا ایوارڈ ، ممبر آف لائینز کلب انٹرنیشنل بزنس کمیونٹی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔

*کیا عصر حاضر میں ادبی محافل اپنے تقاضے پورے کر رہی ہیں ؟

جی میرے خیال میں جتنی بھی تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہ اپنی اپنی جگہ پر ادبی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔۔۔جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ انشاءاللہ بہت جلد ادب کا دوبارہ سے پہلے والا مقام ہو جائے گا ۔۔۔

*آج خود کو کہاں دیکھتی ہیں ؟

میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ درست فیصلے کرنے کی کوشش کی ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ میں اس میں کارگر بھی ثابت ہوئی۔۔۔الحمدللہ میں اپنی زندگی میں ایک مطمئن مقام پر ہوں۔

زندگی کا کوئی ایسا لمحہ جب یہ محسوس ہوا ہو کہ ہاں اب کر دکھایا ؟

میں ابھی اس کوشش میں ہوں کہ میں کہہ پاؤں کہ ہاں میں نے کر دکھایا میری جدوجہد جاری ہے ۔۔۔

*سیرو سیاحت کی شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکی ہیں ؟

سچ بتاؤں تو میں ایک تنہائی پسند عورت ہوں اور مجھے سیر و سیاحت میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں۔میں بہت کم سفر کرتی ہوں اور باعثِ مجبوری ہی سفر کرتی ہوں۔

*آپ کے مطابق اگر زندگی کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

(محبت)

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا ؟

زندگی کا نام ہی کھونا اور پانا ہے جہاں میں نے بہت کچھ کھویا وہاں بے شمار پایا بھی میں اللہ کے کیے پر شاکر رہنے والی عورت ہوں اس لیے کھونے پر افسوس نہیں ہوتا۔میرا یقین ہے کہ اگر مجھ سے کچھ لیا جائے گا تو مجھے اس سے کہیں بہتر سے نوازا جائے گا کیونکہ میرا اللہ بہترین عطا کرنے والا ہے۔۔۔۔

*جب کوئی دوست دھوکہ دے رہا ہو اور آپ کو معلوم ہو جائے تو آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟

مجھے معلوم بھی ہو جائے اور اکثر ہو بھی جاتا ہے لیکن میں اس کے ساتھ ویسے ہی رہتی ہوں جیسے کہ پہلے چل رہی ہوتی ہوں میں اپنے دوست کو دوست ہونے کے ناطے بہتری کا موقع ضرور دیتی ہوں لیکن اگر اس کے باوجود بھی وہ دھوکہ دہی سے باز نہ آئیں تو میں خاموشی سے علیحدہ ہو جاتی ہوں۔۔۔لیکن افسوس بہت ہوتا ہے۔

*آپ نے حال ہی میں اپووا کانفرنس سیالکوٹ میں شرکت کی اس کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دئیے حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گی ؟

آل پاکستان رائٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن ادبی دنیا میں ایک جگمگاتا چاند ہے ہماری تنظیم اور ہم اس کے ارد گرد ٹمٹمانے والے روشن ستارے ہم نے اس چاند سے روشنی پا کر ادبی راستوں سے آشنائی حاصل کی ہے اللہ پاک اس تنظیم کو اور ان کے روحِ رواں کو عزتوں اور رفعتوں سے سرفراز فرمائے۔سیالکوٹ والی اپوا تنظیم ایک شاندار یادگار ادبی تقریب ثابت ہوئی۔ہمیں اپوا کی میزبانی کر کے فخر محسوس ہوا۔۔۔اور ہماری آئندہ بھی کوشش رہے گی کہ ہم ادبی کاوشوں میں اپووا کے شانہ بشانہ چلیں۔

*لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟

میں تو نۓ لکھنے والوں کو مستقل مزاجی کا ہی مشورہ دوں گی بہت سے لکھاری جلد رسپانس نہ ملنے کی وجہ سے چھوڑ جاتے ہیں ۔دوسروں کی بےجا تنقید پراپنے ارادوں کو متزلزل مت ہونے دیں۔۔دنیا رنگ برنگے مزاج کے لوگوں سے بھری پڑی ہے جہاں پر داد و تحسین سے منزل تک پہنچانے والے لوگ موجود ہیں تو وہیں پر آپ کو بےجا تنقید کر کے ہراساں کرنے والے بھی موجود ہیں۔جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ ایک مثبت کام کر رہے ہیں تو پھر گھبرانے اور پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟اپنے ارادوں پر ڈٹے رہیں اور منفی رویوں پر دھیان دیے بغیر اپنی منزل پر روا رہیں انشاءاللہ ایک نہ ایک دن اپنی منزل پر پہنچ ہی جائیں گے۔۔

*اپنا کوئی پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

اپنا کلام تو اپنے بچوں کی طرح ہوتاہے اپنا لکھا ہوا ایک ایک جملہ عزیز تر ہوتا ہے اور اپنے بچوں میں سے یہ چننا کہ ہمیں سب سے زیادہ عزیز تر کون ہے مشکل ترین مرحلہ ہے لیکن پھر بھی آپ کی فرمائش پر اپنے تمام خوبصورت کلاموں میں سے ایک کلام پیش کیے دیتی ہوں۔

وفا کے آگے جبیں کو جھکائے رکھوں گی
امید میں اِسی در سے لگائے رکھوں گی

مری نظر میں اندھیرے نہ ہو سکیں گے کبھی
میں تیری یاد کی شمعیں جلائے رکھوں گی

خبر نہیں تھی کہ پاؤں کی خاک بھی نہیں وہ
میں عمر بھر جنہیں سر پر بٹھائے رکھوں گی

تمام عمر ہی بچوں کی راحتوں کے لیے
میں اپنی آرزوؤں کو دبائے رکھوں گی

خموش ہوں تو پریشاں ہیں جن کو لگتا تھا
کہ آسمان میں سر پر اٹھائے رکھوں گی

جنوں کی رہ میں لٹا دوں گی سب کچھ اپنا میں
بس ایک دولتِ غم کو بچائے رکھوں گی

ہمیشہ یونہی میں رکھتی ہوں دل کھلا ثوبی
اگر عدو بھی مرے در پہ آئے ، رکھوں گی

معزز قارئین امید ہے آپ کو آج کا انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی رائے کا اظہار ضرور کیا کیجئے ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنااختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔ اللّٰہ حافظ

642 total views, 6 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *