رمضان المبارک
کرام_الہی سےمہینہ یہ سجا ہے
امت پہ محمد کی یہ احسان_خدا ہے
باران_عطا رب کی ہے آقا نے کہا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
شعبان کی آئی تھی جو تاریخ وہ آخر
مروی ہے یہ سلمان سے اک وعظ_پیمبر
آقا نے کہا اب وہ مہینہ ہے معطر
ہے اجر نوافل کا فرائض کے برابر
بخشش لئے اللہ کا در روز کھلا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
رحمت خدا کی، مغفرت آتش سے خلاصی
اس کے سبھی عشروں میں گناہوں کی تلافی
افطار ہے وقت_ دعا برکت لئے سحری
قرآن کی لذت لئے سنت ہے تراویح
بے انتہا ایثار و سخاوت کا صلہ ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
آقا نے کہا جھوٹ سے غیبت سے بچو تم
ہے ڈھال یہ روزہ اسے ضائع نہ کرو تم
کہ فضل_الہی سے نہ محروم رہو تم
اعمال سے دامن کو ہمہ وقت بھرو تم
امت پہ میری کرم_خدا خاص ہوا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
فرمایا عمل چار یہ زیادہ کرو اس میں
کلمہ_یقیں تسبیح_توبہ کرو اس میں
دوزخ سے پناہ خوب ہی مانگا کرو اس میں
اخلاص سے جنت کا تقاضا کرو اس میں
مقبول شب و روز میں مومن کی دعا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
اک رات ہزاروں جو مہینوں سے ہے افضل
شب قدر کہ جس میں ہوا قرآن بھی نازل
مومن کے لئے اس میں نہاں خیر ہے کامل
محروم ہے اس رات سے جو رہ گیا غافل
اس لیل_مبارک کو بیاں رب نے کیا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
اے مومنو!!! اللہ کو اخلاص دکھاو
یہ عمر نبی پاک کی سنت سے سجاو
ایمان کو، احسان کو، تقوی کو بڑھاو
دل نور سے رمضان کے پاکیزہ بناو
آقا نے کہا رب کا کرم اس میں جدا ہے
امت کو میری تحفہ_رمضان ملا ہے
شاعرہ
اسماء جلیل قریشی
378 total views, 3 views today
























سبحان اللہ